ایُّوب 30

1 پر اب تو وہ جو مُجھ سے کم عُمر ہیں میرا تمسخر کرتے ہیں

جِن کے باپ دادا کو اپنے گلّہ کے کُتّوں کے ساتھ رکھنا

بھی مُجھے ناگوار تھا۔

2 بلکہ اُن کے ہاتھوں کی قُوّت مُجھے کِس بات کا فائِدہ

پُہنچائے گی؟

وہ اَیسے آدمی ہیں جِن کی جوانی کا زور زائِل ہو گیا۔

3 وہ اِفلاس اور قحط کے مارے دُبلے ہو گئے ہیں۔

وہ وِیرانی اور سُنسانی کی تارِیکی میں خاک چاٹتے ہیں۔

4 وہ جھاڑِیوں کے پاس لونِئے کا ساگ توڑتے ہیں

اور جھاؤ کی جڑیں اُن کی خُوراک ہے۔

5 وہ لوگوں کے درمِیان رگیدے گئے ہیں۔

لوگ اُن کے پِیچھے اَیسے چِلاّتے ہیں جَیسے چور کے پِیچھے۔

6 اُن کو وادِیوں کے شِگافوں میں

اور غاروں اور زمِین کے بھٹّوں میں رہنا پڑتا ہے۔

7 وہ جھاڑِیوں کے درمِیان رینگتے

اور جھنکاڑوں کے نِیچے اِکٹّھے پڑے رہتے ہیں۔

8 وہ احمقوں بلکہ کمِینوں کی اَولاد ہیں۔

وہ مُلک سے مار مار کر نِکالے گئے تھے۔

9 اور اب مَیں اُن کا گِیت بنا ہُوں۔

بلکہ اُن کے لِئے ضربُ المثل ہُوں۔

10 وہ مُجھ سے گِھن کھاتے ۔ وہ مُجھ سے دُور

کھڑے ہوتے

اور میرے مُنہ پر تُھوکنے سے باز نہیں رہتے ہیں۔

11 کیونکہ خُدا نے میرا چِلّہ ڈِھیلا کر دِیا اور مُجھ پر آفت بھیجی۔

اِس لِئے وہ میرے سامنے بے لگام ہو گئے ہیں۔

12 میرے دہنے ہاتھ پر لوگوں کا ہجُوم اُٹھتا ہے۔

وہ میرے پاؤں کو ایک طرف سرکا دیتے ہیں

اور میرے خِلاف اپنی مُہلِک راہیں نِکالتے ہیں۔

13 اَیسے لوگ بھی جِن کا کوئی مددگار نہیں

میرے راستہ کوبِگاڑتے

اور میری مُصِیبت کو بڑھاتے ہیں۔

14 وہ گویا بڑے رخنہ میں سے ہو کر آتے ہیں

اور تباہی میں مُجھ پر ٹُوٹ پڑتے ہیں۔

15 دہشت مُجھ پر طاری ہو گئی۔

وہ ہوا کی طرح میری آبرُو کو اُڑاتی ہے۔

میری عافِیت بادل کی طرح جاتی رہی۔

16 اب تو میری جان میرے اندر گُداز ہو گئی ۔

دُکھ کے دِنوں نے مُجھے جکڑ لِیا ہے۔

17 رات کے وقت میری ہڈِّیاں میرے اندر چِھد جاتی ہیں

اور وہ درد جو مُجھے کھائے جاتے ہیں دَم نہیں لیتے۔

18 میرے مرض کی شِدّت سے میری پوشاک

بدنُما ہو گئی۔

وہ میرے پَیراہن کے گریبان کی طرح مُجھ سے لِپٹی

ہُوئی ہے۔

19 اُس نے مُجھے کِیچڑ میں دھکیل دِیا ہے۔

مَیں خاک اور راکھ کی مانِند ہو گیا ہُوں۔

20 مَیں تُجھ سے فریاد کرتا ہُوں اور تُو مُجھے جواب

نہیں دیتا۔

مَیں کھڑا ہوتا ہُوں اور تُو مُجھے گُھورنے لگتا ہے۔

21 تُو بدل کر مُجھ پر بے رحم ہو گیا ہے۔

اپنے بازُو کے زور سے تُو مُجھے ستاتا ہے۔

22 تُو مُجھے اُوپر اُٹھا کر ہوا پر سوار کرتا ہے

اور مُجھے آندھی میں گُھلا دیتا ہے۔

23 کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ تُو مُجھے مَوت تک پُہنچا ئے گا

اور اُس گھر تک جو سب زِندوں کے لِئے مُقرّر ہے۔

24 تَو بھی کیا تباہی کے وقت کوئی اپنا ہاتھ نہ بڑھائے گا

اور مُصِیبت میں فریاد نہ کرے گا؟

25 کیا مَیں درد مند کے لِئے روتا نہ تھا؟

کیا میری جان مُحتاج کے لِئے آزُردہ نہ ہوتی تھی؟

26 جب مَیں بھلائی کا مُنتظِر تھا تو بُرائی پیش آئی۔

جب مَیں روشنی کے لِئے ٹھہرا تھا تو تارِیکی آئی۔

27 میری انتڑِیاں اُبل رہی ہیں اور آرام نہیں پاتِیں۔

مُجھ پر مُصِیبت کے دِن آ پڑے ہیں۔

28 مَیں بغَیر دُھوپ کے کالا ہو گیا ہُوں۔

مَیں مجمع میں کھڑا ہو کر مدد کے لِئے دُہائی دیتاہُوں۔

29 میں گِیدڑوں کا بھائی

اور شُتر مُرغوں کا ساتھی ہُوں۔

30 میری کھال کالی ہو کر مُجھ پر سے گِرتی جاتی ہے

اور میری ہڈِّیاں حرارت سے جل گئِیں۔

31 اِسی لِئے میری سِتار سے ماتم

اور میری بانسلی سے رونے کی آواز نِکلتی ہے۔

ایُّوب 31

1 مَیں نے اپنی آنکھوں سے عہد کِیا ہے۔

پِھر مَیں کِسی کُنواری پر کیونکر نظرکرُوں؟

2 کیونکہ اُوپر سے خُدا کی طرف سے کیا بخرہ ہے

اور عالمِ بالا سے قادرِ مُطلق کی طرف سے کیا مِیراث ہے ؟

3 کیا وہ ناراستوں کے لِئے آفت

اور بدکرداروں کے لِئے تباہی نہیں ہے؟

4 کیا وہ میری راہوں کو نہیں دیکھتا

اور میرے سب قدموں کو نہیں گِنتا؟

5 اگر مَیں بطالت سے چلا ہُوں

اور میرے پاؤں نے دغا کے لِئے جلدی کی ہے

6 (تو مَیں ٹِھیک ترازُو میں تولا جاؤُں

تاکہ خُدا میری راستی کو جان لے)۔

7 اگر میرا قدم راستہ سے برگشتہ ہُؤا ہے

اور میرے دِل نے میری آنکھوں کی پَیروی کی ہے

اور اگر میرے ہاتھوں پر داغ لگاہے

8 تو مَیں بوؤں اور دُوسرا کھائے

اور میرے کھیت کی پَیداوار اُکھاڑ دی جائے۔

9 اگر میرا دِل کِسی عَورت پر فریفتہ ہُؤا

اور مَیں اپنے پڑوسی کے دروازہ پر گھات میں بَیٹھا

10 تو میری بِیوی دُوسرے کے لِئے پِیسے

اور غَیر مَرد اُس پر جُھکیں۔

11 کیونکہ یہ نِہایت بُرا جُرم ہوتا

بلکہ اَیسی بدی ہوتی جِس کی سزا قاضی دیتے ہیں۔

12 کیونکہ وہ اَیسی آگ ہے جو جلا کر بھسم کر دیتی ہے

اور میرے سارے حاصِل کو جڑ سے نیست کر ڈالتی ہے ۔

13 اگر مَیں نے اپنے خادِم یا اپنی خادِمہ کا حق ماراہو

جب اُنہوں نے مُجھ سے جھگڑاکِیا

14 تو جب خُدا اُٹھے گا تب مَیں کیا کرُوں گا؟

اور جب وہ آئے گا تو مَیں اُسے کیا جواب دُوں گا؟

15 کیا وُہی اُس کا بنانے والا نہیں جِس نے مُجھے بطن

میں بنایا؟

اور کیا ایک ہی نے ہماری صُورت رَحِم میں نہیں بنائی؟

16 اگر مَیں نے مُحتاج سے اُس کی مُراد روک رکھّی

یا اَیسا کِیا کہ بیوہ کی آنکھیں رہ گئِیں۔

17 یا اپنا نوالہ اکیلے ہی کھایا ہو

اور یتِیم اُس میں سے کھانے نہ پایا۔

18 (نہیں ۔ بلکہ میرے لڑکپن سے وہ میرے ساتھ

اَیسے پلاجَیسے باپ کے ساتھ

اور مَیں اپنی ماں کے بطن ہی سے بیوہ کا رہنُما رہاہُوں )۔

19 اگر مَیں نے دیکھا کہ کوئی بے کپڑے مَرتا ہے

یا کِسی مُحتاج کے پاس اوڑھنے کو نہیں۔

20 اگر اُس کی کمر نے مُجھ کو دُعا نہ دی ہو

اور اگر وہ میری بھیڑوں کی اُون سے گرم نہ ہُؤا ہو۔

21 اگر مَیں نے کِسی یتِیم پر ہاتھ اُٹھایا ہو

کیونکہ پھاٹک پر مُجھے اپنی کُمک دِکھائی دی

22 تو میرا کندھا میرے شانہ سے اُتر جائے

اور میرے بازُو کی ہڈّی ٹُوٹ جائے

23 کیونکہ مُجھے خُدا کی طرف سے آفت کا خَوف تھا

اور اُس کی بزُرگی کی وجہ سے مَیں کُچھ نہ کر سکا۔

24 اگر مَیں نے سونے پر بھروسا کِیاہو

اور چوکھے سونے سے کہا میرا اِعتماد تُجھ پر ہے۔

25 اگر مَیں اِس لِئے کہ میری دولت فراوان تھی

اور میرے ہاتھ نے بُہت کُچھ حاصِل کر لِیا تھا نازان ہُؤا۔

26 اگر مَیں نے سُورج پر جب وہ چمکتا ہے نظر کی ہو

یا چاند پر جب وہ آب و تاب میں چلتا ہے

27 اور میرا دِل خُفیتہً فریفتہ ہو گیا ہو

اور میرے مُنہ نے میرے ہاتھ کو چُوم لِیا ہو

28 تو یہ بھی اَیسی بدی ہے جِس کی سزا قاضی دیتے ہیں

کیونکہ یُوں مَیں نے خُدا کا جو عالمِ بالا پر ہے اِنکار کِیا ہوتا ۔

29 اگر مَیں اپنے نفرت کرنے والے کی ہلاکت سے

خُوش ہُؤا

یا جب اُس پر آفت آئی تو شادمان ہُؤا۔

30 (ہاں مَیں نے تو اپنے مُنہ کو اِتنا گُناہ بھی نہ کرنے دِیا

کہ لَعنت بھیج کر اُس کی مَوت کے لِئے دُعا کرتا) ۔

31 اگر میرے خَیمہ کے لوگوں نے یہ نہ کہاہو

اَیسا کَون ہے جو اُس کے ہاں گوشت سے سیر نہ ہُؤا؟

32 پردیسی کو گلی کُوچوں میں ٹِکنا نہ پڑا

بلکہ مَیں مُسافِر کے لِئے اپنے دروازے کھول دیتا تھا۔

33 اگر آد م کی طرح اپنی بدی اپنے سِینہ میں چُھپا کر

مَیں نے اپنی تقصِیروں پر پردہ ڈالاہو

34 اِس سبب سے کہ مُجھے عوامُ النّاس کا خَوف تھا

اور مَیں خاندانوں کی حقارت سے ڈر گیا۔

یہاں تک کہ مَیں خاموش ہو گیا اور دروازہ سے باہر نہ نِکلا۔

35 کاش کہ کوئی میری سُننے والاہوتا!

(یہ لو میرا دستخط ۔ قادرِ مُطلق مُجھے جواب دے)۔

کاش کہ میرے مُخالِف کے دعویٰ کی تحرِیرہوتی!

36 یقِیناً مَیں اُسے اپنے کندھے پر لِئے پِھرتا

اور اُسے اپنے لِئے عمامہ کی طرح باندھ لیتا۔

37 مَیں اُسے اپنے قدموں کی تعداد بتاتا۔

امِیر کی طرح مَیں اُس کے پاس جاتا۔

38 اگر میری زمِین میرے خِلاف دُہائی دیتی ہو

اور اُس کی ریگھاریاں مِل کر روتی ہوں۔

39 اگر مَیں نے بے دام اُس کے پَھل کھائے ہوں

یا اَیسا کِیا کہ اُس کے مالِکوں کی جان گئی

40 تو گیہُوں کے بدلے اُونٹ کٹارے

اور جَو کے بدلے کڑوے دانے اُگیں۔

ایُّوب کی باتیں تمام ہُوئِیں۔

ایُّوب 32

الِیہُو کی تقریریں (۳۲‏:۱‏-۳۷‏:۲۴)

1 سو اُن تِینوں آدمِیوں نے ایُّو ب کو جواب دینا چھوڑ دِیااِس لِئے کہ وہ اپنی نظر میں صادِق تھا۔

2 تب الِیہُو بِن براکیل بُوزی کا جو رام کے خاندان سے تھا قہر بھڑکا ۔ اُس کا قہر ایُّوب پر بھڑکااِس لِئے کہ اُس نے خُدا کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو راست ٹھہرایا۔

3 اور اُس کے تِینوں دوستوں پر بھی اُس کا قہر بھڑکا اِس لِئے کہ اُنہیں جواب تو سُوجھا نہیں تَو بھی اُنہوں نے ایُّو ب کو مُجرِم ٹھہرایا۔

4 اور الِیہُو ایُّوب سے بات کرنے سے اِس لِئے رُکارہا کہ وہ اُس سے بڑے تھے۔

5 جب الِیہُو نے دیکھا کہ اُن تِینوں کے مُنہ میں جواب نہ رہا تو اُس کا قہر بھڑک اُٹھا۔

6 اور براکیل بُوزی کا بیٹا الِیہُو کہنے لگا:-

مَیں جوان ہُوں اور تُم بُہت عُمر رسِیدہ ہو

اِس لِئے مَیں رُکا رہا اور اپنی رائے دینے کی جُرأت نہ کی ۔

7 مَیں نے کہا سالخُوردہ لوگ بولیں

اور عُمر رسِیدہ حِکمت سِکھائیں۔

8 لیکن اِنسان میں رُوح ہے

اور قادرِ مُطلق کا دَم خِرد بخشتا ہے۔

9 بڑے آدمی ہی عقل مند نہیں ہوتے

اور عُمر رسِیدہ ہی اِنصاف کو نہیں سمجھتے۔

10 اِس لِئے مَیں کہتا ہُوں میری سُنو۔

مَیں بھی اپنی رائے دُوں گا۔

11 دیکھو! مَیں تُمہاری باتوں کے لِئے رُکا رہا

جب تُم الفاظ کی تلاش میں تھے۔

مَیں تُمہاری دلِیلوں کا مُنتظِررہا

12 بلکہ مَیں تُمہاری طرف توجُّہ کرتا رہا

اور دیکھو تُم میں کوئی نہ تھا جو ایُّو ب کو قائِل کرتا

یا اُس کی باتوں کا جواب دیتا۔

13 خبردار یہ نہ کہنا کہ ہم نے حِکمت کو پا لِیا ہے۔

خُدا ہی اُسے لاجواب کر سکتا ہے نہ کہ اِنسان۔

14 کیونکہ نہ اُس نے مُجھے اپنی باتوں کا نِشانہ بنایا

نہ مَیں تُمہاری سی تقرِیروں سے اُسے جواب دُوں گا۔

15 وہ حَیران ہیں ۔ وہ اب جواب نہیں دیتے۔

اُن کے پاس کہنے کو کوئی بات نہ رہی۔

16 اور کیا مَیں رُکا رہُوں اِس لِئے کہ وہ بولتے نہیں۔

اِس لِئے کہ وہ چُپ چاپ کھڑے ہیں اور اب جواب

نہیں دیتے؟

17 مَیں بھی اپنی بات کہُوں گا۔

مَیں بھی اپنی رائے دُوں گا۔

18 کیونکہ مَیں باتوں سے بھرا ہُوں

اور جو رُوح میرے اندر ہے وہ مُجھے مجبُور کرتی ہے۔

19 دیکھو!میرا پیٹ بے نِکاس شراب کی مانِند ہے۔

وہ نئی مشکوں کی طرح پھٹنے ہی کو ہے۔

20 مَیں بولُوں گا تاکہ مُجھے تسکِین ہو۔

مَیں اپنے لبوں کو کھولُوں گا اور جواب دُوں گا۔

21 نہ مَیں کِسی آدمی کی طرف داری کرُوں گا

نہ مَیں کِسی شخص کو خُوشامد کے خِطاب دُوں گا

22 کیونکہ مُجھے خُوشامد کے خِطاب دینا نہیں آتا۔

ورنہ میرا بنانے والا مُجھے جلد اُٹھا لیتا۔

ایُّوب 33

1 تَو بھی اَے ایُّوب ذرا میری تقرِیر سُن لے

اور میری سب باتوں پر کان لگا۔

2 دیکھ مَیں نے اپنا مُنہ کھولا ہے۔

میری زُبان نے میرے مُنہ میں سُخن آرائی کی ہے۔

3 میری باتیں میرے دِل کی راستبازی کو ظاہِر کریں گی

اور میرے لب جو کُچھ جانتے ہیں اُسی کو سچّائی سے

کہیں گے۔

4 خُدا کی رُوح نے مُجھے بنایا ہے

اور قادرِ مُطلق کا دَم مُجھے زِندگی بخشتا ہے۔

5 اگر تُو مُجھے جواب دے سکتا ہے تو دے

اور اپنی باتوں کو میرے سامنے ترتِیب دے کر کھڑا ہوجا۔

6 دیکھ! خُدا کے حضُور مَیں تیرے برابر ہُوں۔

مَیں بھی مِٹّی سے بنا ہُوں۔

7 دیکھ! میرا رُعب تُجھے ہِراسان نہ کرے گا۔

میرا دباؤ تُجھ پر بھاری نہ ہو گا۔

8 یقِیناً تُو نے میرے سُنتے کہا ہے

اور مَیں نے تیری باتیں سُنی ہیں

9 کہ مَیں صاف اور بے تقصِیر ہُوں۔

مَیں بے گُناہ ہُوں اور مُجھ میں بدی نہیں۔

10 وہ میرے خِلاف مَوقع ڈُھونڈتا ہے۔

وہ مُجھے اپنا دُشمن سمجھتا ہے۔

11 وہ میرے دونوں پاؤں کو کاٹھ میں ٹھونک دیتا ہے۔

وہ میری سب راہوں کی نِگرانی کرتا ہے۔

12 دیکھ مَیں تُجھے جواب دیتا ہُوں ۔ اِس بات میں

تُوحق پر نہیں

کیونکہ خُدا اِنسان سے بڑا ہے۔

13 تُو کیوں اُس سے جھگڑتاہے؟

کیونکہ وہ اپنی باتوں میں سے کِسی کا حِساب نہیں دیتا۔

14 کیونکہ خُدا ایک بار بولتا ہے

بلکہ دو بار ۔ خواہ اِنسان اِس کا خیال نہ کرے۔

15 خواب میں ۔ رات کی رویا میں

جب لوگوں کو گہری نِیند آتی ہے

اور بِستر پر سوتے وقت۔

16 تب وہ لوگوں کے کان کھولتا ہے

اور اُن کی تعلِیم پر مُہر لگاتا ہے

17 تاکہ اِنسان کو اُس کے مقصُود سے روکے

اور غرُور کو اِنسان سے دُور کرے۔

18 وہ اُس کی جان کو گڑھے سے بچاتا ہے

اور اُس کی زِندگی تلوار کی مار سے۔

19 وہ اپنے بِستر پر درد سے تنبِیہ پاتا ہے

اور اُس کی ہڈِّیوں میں دائِمی جنگ ہے۔

20 یہاں تک کہ اُس کا جی روٹی سے

اور اُس کی جان لذِیذ کھانے سے نفرت کرنے لگتی ہے ۔

21 اُس کا گوشت اَیسا سُوکھ جاتا ہے کہ دِکھائی نہیں دیتا

اور اُس کی ہڈِّیاں جو دِکھائی نہیں دیتی تِھیں نِکل آتی ہیں ۔

22 بلکہ اُس کی جان گڑھے کے قرِیب پُہنچتی ہے

اور اُس کی زِندگی ہلاک کرنے والوں کے نزدِیک۔

23 وہاں اگر اُس کے ساتھ کوئی فرِشتہ ہو

یا ہزار میں ایک تعبِیر کرنے والا

جو اِنسان کو بتائے کہ اُس کے لِئے کیا ٹِھیک ہے

24 تو وہ اُس پررحم کرتا اور کہتا ہے

کہ اُسے گڑھے میں جانے سے بچا لے۔

مُجھے فِدیہ مِل گیا ہے۔

25 تب اُس کا جِسم بچّے کے جِسم سے بھی تازہ ہو گا

اور اُس کی جوانی کے دِن لَوٹ آتے ہیں۔

26 وہ خُدا سے دُعا کرتا ہے اور وہ اُس پر مِہربان ہوتاہے۔

اَیسا کہ وہ خُوشی سے اُس کا مُنہ دیکھتا ہے

اور وہ اِنسان کی صداقت کو بحال کر دیتا ہے۔

27 وہ لوگوں کے سامنے گانے اور کہنے لگتا ہے

کہ مَیں نے گُناہ کِیا اور حق کو اُلٹ دِیا

اور اِس سے مُجھے فائِدہ نہ ہُؤا۔

28 اُس نے میری جان کو گڑھے میں جانے سے بچایا

اور میری زِندگی روشنی کو دیکھے گی۔

29 دیکھو! خُدا آدمی کے ساتھ یہ سب کام

دو بار بلکہ تِین بار کرتا ہے

30 تاکہ اُس کی جان کو گڑھے سے لَوٹا لائے

اور وہ زِندوں کے نُور سے مُنوّر ہو۔

31 اَے ایُّوب! توجُّہ سے میری سُن۔

خاموش رہ اور مَیں بولُوں گا۔

32 اگر تُجھے کُچھ کہنا ہے تو مُجھے جواب دے۔

بول کیونکہ مَیں تُجھے راست ٹھہرانا چاہتا ہُوں۔

33 اگر نہیں تو تُو میری سُن۔

خاموش رہ اور مَیں تُجھے دانائی سِکھاؤُں گا۔

ایُّوب 34

1 اِس کے عِلاوہ الِیہُو نے یہ بھی کہا:-

2 اَے تُم عقل مند لوگو! میری باتیں سُنو

اور اَے تُم جو اہلِ معرفت ہو! میری طرف کان لگاؤ

3 کیونکہ کان باتوں کو پرکھتا ہے

جَیسے زُبان کھانے کو چکھتی ہے۔

4 جو کُچھ ٹِھیک ہے ہم اپنے لِئے چُن لیں۔

جو بھلا ہے ہم آپس میں جان لیں۔

5 کیونکہ ایُّوب نے کہا مَیں صادِق ہُوں

اور خُدا نے میری حق تلفی کی ہے۔

6 اگرچہ مَیں حق پر ہُوں تَو بھی جُھوٹا ٹھہرتا ہُوں۔

گو مَیں بے تقصِیر ہُوں ۔ میرا زخم لاعِلاج ہے۔

7 ایُّوب سا بہادُر کَون ہے

جو تمسخُر کو پانی کی طرح پی جاتا ہے؟

8 جو بد کرداروں کی رفاقت میں چلتا

اور شرِیر لوگوں کے ساتھ پِھرتا ہے۔

9 کیونکہ اُس نے کہا ہے کہ آدمی کو کُچھ فائِدہ نہیں

کہ وہ خُدا مَیں مسرُور رہے۔

10 اِس لِئے اَے اہلِ خِرد میری سُنو۔

یہ ہرگِز ہو نہیں سکتا کہ خُدا شرارت کا کام کرے

اور قادرِ مُطلق بدی کرے۔

11 وہ اِنسان کو اُس کے اعمال کے مُطابِق جزا دے گا

اور اَیسا کرے گا کہ ہر کِسی کو اپنی ہی راہوں کے مُطابِق

بدلہ مِلے گا۔

12 یقِیناً خُدا بُرائی نہیں کرے گا۔

قادرِ مُطلق سے بے اِنصافی نہ ہو گی۔

13 کِس نے اُس کو زمِین پر اِختیاردِیا؟

یا کِس نے ساری دُنیا کا اِنتِظام کِیاہے؟

14 اگر وہ اِنسان سے اپنا دِل لگائے۔

اگر وہ اپنی رُوح اور اپنے دَم کو واپس لے لے

15 تو تمام بشر اِکٹّھے فنا ہو جائیں گے

اور اِنسان پِھر مِٹّی میں مِل جائے گا۔

16 سو اگر تُجھ میں سمجھ ہے تو اِسے سُن لے

اور میری باتوں پر توجُّہ کر۔

17 کیا وہ جو حق سے عداوت رکھتا ہے حُکومت کرے گا ؟

اور کیا تُو اُسے جو عادِل اور قادِر ہے مُلزم ٹھہرائے گا؟

18 وہ تو بادشاہ سے کہتا ہے تُو رذِیل ہے

اور شرِیفوں سے کہ تُم شرِیر ہو۔

19 وہ اُمرا کی طرف داری نہیں کرتا

اور امِیر کو غرِیب سے زِیادہ نہیں مانتا

کیونکہ وہ سب اُسی کے ہاتھ کی کارِیگری ہیں۔

20 وہ دَم بھر میں آدھی رات کو مَر جاتے ہیں۔

لوگ ہِلائے جاتے اور گُذر جاتے ہیں

اور زبردست لوگ بغیر ہاتھ لگائے اُٹھا لِئے جاتے ہیں ۔

21 کیونکہ اُس کی آنکھیں آدمی کی راہوں پر لگی ہیں

اور وہ اُس کی سب روِشوں کو دیکھتا ہے۔

22 نہ کوئی اَیسی تارِیکی نہ مَوت کا سایہ ہے

جہاں بدکردار چُھپ سکیں۔

23 کیونکہ اُسے ضرُور نہیں کہ آدمی کا زِیادہ خیال کرے

تاکہ وہ خُدا کے حضُور عدالت میں جائے۔

24 وہ بِلا تفتِیش زبردستوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے کرتا

اور اُن کی جگہ اَوروں کو برپا کرتا ہے۔

25 اِس لِئے وہ اُن کے کاموں کا خیال رکھتا ہے

اور وہ اُنہیں رات کو اُلٹ دیتا ہے اَیسا کہ وہ ہلاک ہو

جاتے ہیں۔

26 وہ اَوروں کے دیکھتے ہُوئے

اُن کو اَیسا مارتا ہے جَیسا شرِیروں کو

27 اِس لِئے کہ وہ اُس کی پیرَوی سے پِھر گئے

اور اُس کی کِسی راہ کا خیال نہ کِیا۔

28 یہاں تک کہ اُن کے سبب سے غرِیبوں کی فریاد

اُس کے حضُورپُہنچی

اور اُس نے مُصِیبت زدوں کی فریاد سُنی۔

29 جب وہ راحت بخشے تو کَون مُلزم ٹھہرا سکتاہے؟

جب وہ مُنہ چُھپا لے تو کَون اُسے دیکھ سکتاہے؟

خواہ کوئی قَوم ہو یا آدمی ۔ دونوں کے ساتھ یکساں

سلُوک ہے۔

30 تاکہ بے دِین آدمی سلطنت نہ کرے

اور لوگوں کو پھندے میں پھنسانے کے لِئے کوئی نہ ہو۔

31 کیونکہ کیا کِسی نے خُدا سے کہاہے

مَیں نے سزا اُٹھا لی ہے ۔ مَیں اب بُرائی نہ کرُوں گا۔

32 جو مُجھے دِکھائی نہیں دیتا وہ تُو مُجھے سِکھا۔

اگر مَیں نے بدی کی ہے تو اب اَیسا نہیں کرُوں گا؟

33 کیا اُس کا اجر تیری مرضی پر ہو کہ تُو اُسے نا منظُور

کرتاہے؟

کیونکہ تُجھے فَیصلہ کرنا ہے نہ کہ مُجھے۔

اِس لِئے جو کُچھ تُو جانتا ہے کہہ دے۔

34 اہلِ خِرد مُجھ سے کہیں گے

بلکہ ہر عقل مند جو میری سُنتا ہے کہے گا

35 ایُّوب نادانی سے بولتا ہے

اور اُس کی باتیں حِکمت سے خالی ہیں۔

36 کاش کہ ایُّوب آخِر تک آزمایا جاتا

کیونکہ وہ شرِیروں کی طرح جواب دیتا ہے۔

37 اِس لِئے کہ وہ اپنے گُناہ پر بغاوت کو بڑھاتا ہے۔

وہ ہمارے درمِیان تالِیاں بجاتا ہے

اور خُدا کے خِلاف بُہت باتیں بناتا ہے۔

ایُّوب 35

1 اِس کے عِلاوہ الِیہُو نے یہ بھی کہا:-

2 کیا تُو اِسے اپنا حق سمجھتا ہے

یا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تیری صداقت خُدا کی صداقت سے

زِیادہ ہے۔

3 جو تُو کہتا ہے کہ مُجھے اِس سے کیا نفع مِلے گا؟

اور مُجھے اِس میں گُنہگار ہونے کی نِسبت کَونسا زِیادہ

فائِدہ ہوگا؟

4 مَیں تُجھے اور تیرے ساتھ

تیرے رفِیقوں کو جواب دُوں گا۔

5 آسمان کی طرف نظر کر اوردیکھ

اور افلاک پر جو تُجھ سے بُلند ہیں نِگاہ کر۔

6 اگر تُو گُناہ کرتا ہے تو اُس کا کیا بِگاڑتاہے؟

اور اگر تیری تقصِیریں بڑھ جائیں تو تُو اُس کا کیا کرتا ہے ؟

7 اگر تُو صادِق ہے تو اُس کو کیا دے دیتا ہے؟

یا اُسے تیرے ہاتھ سے کیا مِل جاتا ہے؟

8 تیری شرارت تُجھ جَیسے آدمی کے لِئے ہے

اور تیری صداقت آدم زاد کے لِئے۔

9 ظُلم کی کثرت کی وجہ سے وہ چِلاّتے ہیں۔

زبردست کے بازُو کے سبب سے وہ مدد کے لِئے دُہائی

دیتے ہیں۔

10 پر کوئی نہیں کہتا کہ خُدا میرا خالِق کہاں ہے

جو رات کے وقت نغمے عِنایت کرتا ہے۔

11 جو ہم کو زمِین کے جانوروں سے زِیادہ تعلِیم دیتا ہے

اور ہمیں ہوا کے پرِندوں سے زِیادہ عقل مند بناتا ہے؟

12 وہ دُہائی دیتے ہیں پر کوئی جواب نہیں دیتا۔

یہ بُرے آدمِیوں کے غرُور کے سبب سے ہے۔

13 یقِیناً خُدا بطالت کو نہیں سُنے گا

اور قادرِ مُطلق اُس کا لِحاظ نہ کرے گا۔

14 خاص کر جب تُو کہتا ہے کہ تُو اُسے دیکھتا نہیں۔

مُقدّمہ اُس کے سامنے ہے اور تُو اُس کے لِئے ٹھہرا ہُؤا ہے۔

15 پر اب چُونکہ اُس نے اپنے غضب میں سزا نہ دی

اور وہ غرُور کا زیادہ خیال نہیں کرتا

16 اِس لِئے ایُّوب خُود بِینی کے سبب سے اپنا مُنہ

کھولتاہے

اور نادانی سے باتیں بناتا ہے۔

ایُّوب 36

1 پِھر الِیہُو نے یہ بھی کہا:-

2 مُجھے ذرا اِجازت دے اور مَیں تُجھے بتاؤُں گا۔

کیونکہ خُدا کی طرف سے مُجھے کُچھ اَور بھی کہنا ہے۔

3 مَیں اپنے عِلم کو دُور سے لاؤُں گا

اور راستی اپنے خالِق سے منسُوب کرُوں گا

4 کیونکہ فی الحقِیقت میری باتیں جُھوٹی نہیں ہیں۔

وہ جو تیرے ساتھ ہے عِلم میں کامِل ہے۔

5 دیکھ! خُدا قادِر ہے اور کِسی کو حقِیر نہیں جانتا۔

وہ فہم کی قُوّت میں غالِب ہے۔

6 وہ شرِیروں کی زِندگی کو برقرار نہیں رکھتا

بلکہ مُصِیبت زدوں کو اُن کا حق عطا کرتا ہے۔

7 وہ صادِقوں کی طرف سے اپنی آنکھیں نہیں پھیرتا

بلکہ اُنہیں بادشاہوں کے ساتھ ہمیشہ کے لِئے تخت پر

بِٹھاتا ہے

اور وہ سرفراز ہوتے ہیں۔

8 اور اگر وہ بیڑیوں سے جکڑے جائیں

اور مُصِیبت کی رسّیِوں سے بندھیں

9 تو وہ اُنہیں اُن کا عمل اور اُن کی تقصِیریں دِکھاتا ہے

کہ اُنہوں نے گھمنڈ کِیا۔

10 وہ اُن کے کان کو تعلِیم کے لِئے کھولتا ہے

اور حُکم دیتا ہے کہ وہ بدی سے باز آئیں۔

11 اگر وہ سُن لیں اور اُس کی عِبادت کریں

تو اپنے دِن اِقبال مندی میں

اور اپنے برس خُوشحالی میں بسر کریں گے۔

12 پر اگر نہ سُنیں تو وہ تلوار سے ہلاک ہوں گے

اور جہالت میں مَریں گے۔

13 لیکن وہ جو دِل میں بے دِین ہیں غضب کو رکھ

چھوڑتےہیں۔

جب وہ اُنہیں باندھتا ہے تو وہ مدد کے لِئے دُہائی

نہیں دیتے۔

14 وہ جوانی میں مَرتے ہیں

اور اُن کی زِندگی لُوطِیوں کے درمِیان برباد ہوتی ہے۔

15 وہ مُصِیبت زدہ کو اُ س کی مُصِیبت سے چُھڑاتا ہے

اور ظُلم میں اُن کے کان کھولتا ہے۔

16 بلکہ وہ تُجھے بھی دُکھ سے چُھٹکارا دے کر

اَیسی وسِیع جگہ میں جہاں تنگی نہیں ہے پُہنچا دیتا

اور جو کُچھ تیرے دسترخوان پر چُنا جاتا ہے وہ چِکنائی

سے پُر ہوتا

17 پر تُو تو شرِیروں کے مُقدّمہ کی تائِید کرتا ہے۔

اِس لِئے عدل اور اِنصاف تُجھ پر قابِض ہیں۔

18 خبردار! تیرا قہر تُجھ سے تکفِیر نہ کرائے

اور فِدیہ کی فراوانی تُجھے گُمراہ نہ کرے۔

19 کیا تیرا رونا یا تیری قُوّت و توانائی

اِس بات کے لِئے کافی ہیں کہ تُو دُکھ میں نہ پڑے؟

20 اُس رات کی خواہِش نہ کر

جِس میں قَومیں اپنے مسکنوں سے اُٹھا لی جاتی ہیں۔

21 ہوشیار رہ! بدی کی طرف راغِب نہ ہو

کیونکہ تُو نے مُصِیبت کو نہیں بلکہ اِسی کو چُنا ہے۔

22 دیکھ!خُدا اپنی قُدرت سے بڑے بڑے کام کرتا ہے ۔

کَونسا اُستاد اُ س کی مانِندہے؟

23 کِس نے اُسے اُ س کا راستہ بتایا؟

یا کَون کہہ سکتا ہے کہ تُو نے ناراستی کی ہے؟

24 اُ س کے کام کی بڑائی کرنا یادرکھ

جِس کی تعرِیف لوگ گاتے رہے ہیں۔

25 سب لوگوں نے اِس کو دیکھا ہے۔

اِنسان اُسے دُور سے دیکھتا ہے۔

26 دیکھ! خُدا بزُرگ ہے اور ہم اُسے نہیں جانتے۔

اُ س کے برسوں کا شُمار دریافت سے باہر ہے۔

27 کیونکہ وہ پانی کے قطروں کو اُوپر کھینچتاہے

جو اُسی کے ابخرات سے مِینہ کی صُورت میں ٹپکتے ہیں

28 جِن کو افلاک اُنڈیلتے

اور اِنسان پر کثرت سے برساتے ہیں۔

29 بلکہ کیا کوئی بادلوں کے پَھیلاؤ

اور اُ س کے شامِیانہ کی گرجوں کو سمجھ سکتاہے؟

30 دیکھ! وہ اپنے نُور کو اپنے چَوگِرد پَھیلاتا ہے

اور سمُندر کی تہ کو ڈھانکتا ہے۔

31 کیونکہ اِن ہی سے وہ قَوموں کا اِنصاف کرتا ہے

اور خُوراک اِفراط سے عطا فرماتا ہے۔

32 وہ بِجلی کو اپنے ہاتھوں میں لے کر

اُسے حُکم دیتا ہے کہ دُشمن پر گِرے۔

33 اِس کی کڑک اُسی کو خبر دیتی ہے۔

چَوپائے بھی طُوفان کی آمد بتاتے ہیں۔

ایُّوب 37

1 اِس بات سے بھی میرا دِل کانپتا ہے

اور اپنی جگہ سے اُچھل پڑتا ہے۔

2 ذرا اُ س کے بولنے کی آواز کو سُنو

اور اُس زمزمہ کو جو اُ س کے مُنہ سے نِکلتا ہے۔

3 وہ اُسے سارے آسمان کے نِیچے

اور اپنی بِجلی کو زمِین کی اِنتہا تک بھیجتا ہے۔

4 اِس کے بعد رعد کی آواز آتی ہے ۔

وہ اپنے جلال کی آواز سے گرجتا ہے

اور جب اُ س کی آواز سُنائی دیتی ہے تو وہ اُسے روکتا ہے۔

5 خُدا عجِیب طَور پر اپنی آواز سے گرجتا ہے۔

وہ بڑے بڑے کام کرتا ہے جِن کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔

6 کیونکہ وہ برف کو فرماتا ہے کہ تُو زمِین پر گِر۔

اِسی طرح وہ بارِش سے

اور مُوسلا دھار مِینہ سے کہتا ہے۔

7 وہ ہر آدمی کے ہاتھ پر مُہر کر دیتا ہے

تاکہ سب لوگ جِن کو اُس نے بنایا ہے اِس بات کو

جان لیں۔

8 تب درِندے غاروں میں گُھس جاتے

اور اپنی اپنی ماند میں پڑے رہتے ہیں۔

9 آندھی جنُوب کی کوٹھری سے

اور سردی شِمال سے آتی ہے۔

10 خُدا کے دَم سے برف جم جاتی ہے

اور پانی کا پَھیلاؤ تنگ ہو جاتا ہے۔

11 بلکہ وہ گھٹا پر نمی کو لادتا ہے

اور اپنے بِجلی والے بادلوں کو دُور تک پَھیلاتا ہے۔

12 اُسی کی ہدایت سے وہ اِدھر اُدھر پِھرائے جاتے ہیں

تاکہ جو کُچھ وہ اُنہیں فرمائے

اُسی کو وہ دُنیا کے آباد حِصّہ پر انجام دیں

13 خواہ تنبِیہ کے لِئے یا اپنے مُلک کے لِئے۔

یا رحمت کے لِئے وہ اُسے بھیجے۔

14 اَے ایُّوب اِس کو سُن لے۔

چُپ چاپ کھڑا رہ اور خُدا کے حَیرت انگیز کاموں پر غَور کر۔

15 کیا تُجھے معلُوم ہے کہ خُدا کیوں کر اُنہیں تاکِید کرتا ہے

اور اپنے بادل کی بِجلی کو چمکاتاہے؟

16 کیا تُو بادلوں کے مُوازنہ سے واقِف ہے؟

یہ اُسی کے حَیرت انگیز کام ہیں جو عِلم میں کامِل ہے۔

17 جب زمِین پر جنُوبی ہَوا کی وجہ سے سنّاٹا ہوتاہے

تو تیرے کپڑے کیوں گرم ہو جاتے ہیں؟

18 کیا تُو اُ س کے ساتھ فلک کو پَھیلا سکتا ہے

جو ڈھلے ہُوئے آئِینہ کی طرح مضبُوط ہے؟

19 ہم کو سِکھا کہ ہم اُس سے کیا کہیں

کیونکہ اندھیرے کے سبب سے ہم اپنی تقرِیر کو درُست

نہیں کر سکتے

20 کیا اُ س کو بتایا جائے کہ مَیں بولنا چاہتاہُوں؟

یا کیا کوئی آدمی یہ خواہش کرے کہ وہ نِگل لِیاجائے؟

21 ابھی تو آدمی اُس نُور کو نہیں دیکھتے جو افلاک پر روشن ہے

لیکن ہوا چلتی ہے اور اُنہیں صاف کر دیتی ہے۔

22 شِمال سے سُنہری روشنی آتی ہے۔

خُدا مُہِیب شَوکت سے مُلبّس ہے۔

23 ہم قادرِ مُطلق کو پا نہیں سکتے۔ وہ قُدرت اور

عدل میں شاندار ہے

اور اِنصاف کی فراوانی میں ظُلم نہ کرے گا۔

24 اِسی لِئے لوگ اُس سے ڈرتے ہیں۔

وہ دانا دِلوں کی پروا نہیں کرتا۔

ایُّوب 38

خُداوند ایُّوب کو جواب دیتا ہے

1 تب خُداوند نے ایُّوب کو بگولے میں سے یُوں جواب دیا:-

2 یہ کَون ہے جو نادانی کی باتوں سے

مصلحت پر پردہ ڈالتاہے؟

3 مَرد کی مانِند اب اپنی کمر کس لے

کیونکہ مَیں تُجھ سے سوال کرتا ہُوں اور تُو مُجھے بتا۔

4 تُو کہاں تھا جب مَیں نے زمِین کی بُنیاد ڈالی؟

تُو دانِش مند ہے تو بتا۔

5 کیا تُجھے معلُوم ہے کِس نے اُ س کی ناپ ٹھہرائی ؟

یا کِس نے اُس پر سُوت کھینچا؟

6 کِس چِیز پر اُ س کی بُنیاد ڈالی گئی؟

یا کِس نے اُ س کے کونے کا پتّھربِٹھایا

7 جب صُبح کے سِتارے مِل کر گاتے تھے

اور خُدا کے سب بیٹے خُوشی سے للکارتے تھے؟

8 یا کِس نے سمُندر کو دروازوں سے بندکِیا

جب وہ اَیسا پُھوٹ نِکلا گویا رَحِم سے۔

9 جب مَیں نے بادل کو اُ س کا لِباس بنایا

اور گہری تارِیکی کو اُ س کا لپیٹنے کا کپڑا

10 اور اُ س کے لِئے حد ٹھہرائی

اور بینڈے اور کِواڑلگائے

11 اور کہا یہاں تک تُو آنا پر آگے نہیں

اور یہاں تیری بِپھرتی ہُوئی مَوجیں رُک جائیں گی؟

12 کیا تُو نے اپنی عُمر میں کبھی صُبح پر حُکمرانی کی

اور کیا تُو نے فجر کو اُ س کی جگہ بتائی

13 تاکہ وہ زمِین کے کناروں پر قبضہ کرے

اور شرِیر لوگ اُس میں سے جھاڑ دِئے جائیں؟

14 وہ اَیسے بدلتی ہے جَیسے مُہر کے نیچے چِکنی مِٹّی

اور تمام چِیزیں کپڑے کی طرح نُمایاں ہو جاتی ہیں۔

15 اور شرِیروں سے اُن کی رَوشنی روک لی جاتی ہے

اور بُلند بازُو توڑا جاتا ہے۔

16 کیا تُو سمُندر کے سوتوں میں داخِل ہُؤا ہے؟

یا گہراؤ کی تھاہ میں چلاہے؟

17 کیا مَوت کے پھاٹک تُجھ پر ظاہِر کر دِئے

گئے ہیں ؟

یا تُو نے مَوت کے سایہ کے پھاٹکوں کو دیکھ لِیا ہے؟

18 کیا تُو نے زمِین کی چَوڑائی کو سمجھ لِیاہے؟

اگر تُو یہ سب جانتا ہے تو بتا۔

19 نُور کے مسکن کا راستہ کہاں ہے۔

رہی تارِیکی ۔ سو اُ س کا مکان کہاں ہے

20 تاکہ تُو اُسے اُ س کی حد تک پُہنچا دے

اور اُ س کے مکان کی راہوں کوپہچانے؟

21 بے شک تُو جانتا ہو گا کیونکہ تُو اُس وقت پَیدا ہُؤا تھا

اور تیرے دِنوں کا شُمار بڑاہے!

22 کیا تُو برف کے مخزنوں میں داخِل ہُؤا ہے

یا اولوں کے مخزنوں کو تُو نے دیکھا ہے

23 جِن کو مَیں نے تکلِیف کے وقت کے لِئے

اور لڑائی اور جنگ کے دِن کی خاطِر رکھ چھوڑاہے؟

24 رَوشنی کِس طرِیق سے تقسِیم ہوتی ہے

یا مشرِقی ہوا زمِین پر پَھیلائی جاتی ہے؟

25 سَیلاب کے لِئے کِس نے نالی کاٹی

یا رَعد کی بِجلی کے لِئے راستہ

26 تاکہ اُسے غَیر آباد زمِین پر برسائے

اور بیابان پر جِس میں اِنسان نہیں بستا

27 تاکہ اُجڑی اور سُونی زمِین کو سیراب کرے

اور نرم نرم گھاس اُگائے؟

28 کیا بارِش کا کوئی باپ ہے؟

یا شبنم کے قطرے کِس سے تولُّدہُوئے؟

29 یخ کِس کے بطن سے نِکلا

اور آسمان کے سفید پالے کو کِس نے پَیداکِیا؟

30 پانی پتّھر سا ہو جاتا ہے

اور گہراؤ کی سطح جم جاتی ہے۔

31 کیا تُو عقدِ ثُر یّا کو باندھ سکتا

یا جبّار کے بندھن کو کھول سکتا ہے؟

32 کیا تُو مِنطقتُہ البُرُوج کو اُن کے وقتوں پر نِکال سکتا ہے؟

یا بناتُ النّعش کی اُن کی سہیلِیوں کے ساتھ رہبری کر

سکتاہے؟

33 کیا تُو آسمان کے قوانِین کو جانتا ہے

اور زمِین پر اُن کا اِختیار قائِم کر سکتاہے؟

34 کیا تُو بادلوں تک اپنی آواز بُلند کر سکتا ہے

تاکہ پانی کی فراوانی تُجھے چُھپالے؟

35 کیا تُو بِجلی کو روانہ کر سکتا ہے کہ وہ جائے

اور تُجھ سے کہے مَیں حاضِرہُوں؟

36 باطِن میں حِکمت کِس نے رکھّی؟

اور دِل کو دانِش کِس نے بخشی؟

37 بادلوں کو حِکمت سے کَون گِن سکتاہے؟

یا کَون آسمان کی مشکوں کو اُنڈیل سکتا ہے

38 جب گرد مِل کر تُودہ بن جاتی ہے

اور ڈھیلے باہم سٹ جاتے ہیں؟

39 کیا تُو شیرنی کے لِئے شِکار ماردے گا

یا بَبر کے بچّوں کو آسُودہ کر دے گا

40 جب وہ اپنی ماندوں میں بَیٹھے ہوں

اور گھات لگائے آڑ میں دبکے ہوں؟

41 پہاڑی کوّے کے لِئے کَون خُوراک مُہیّا کرتا ہے

جب اُ س کے بچّے خُدا سے فریادکرتے

اور خُوراک نہ مِلنے سے اُڑتے پِھرتے ہیں؟

ایُّوب 39

1 کیا تُو جانتا ہے پہاڑ کی جنگلی بکریاں کب بچّے دیتی ہیں؟

یا جب ہرنِیاں بیاتی ہیں تو کیا تُو دیکھ سکتاہے؟

2 کیا تُو اُن مہِینوں کو جِنہیں وہ پُورا کرتی ہیں گِن سکتا ہے؟

یا تُجھے وہ وقت معلُوم ہے جب وہ بچّے دیتی ہیں؟

3 وہ جُھک جاتی ہیں ۔ وہ اپنے بچّے دیتی ہیں

اور اپنے درد سے رہائی پاتی ہیں۔

4 اُن کے بچّے موٹے تازہ ہوتے ہیں ۔ وہ کُھلے

مَیدان میں بڑھتے ہیں۔

وہ نِکل جاتے ہیں اور پِھر نہیں لَوٹتے۔

5 گورخر کو کِس نے آزادکِیا؟

جنگلی گدھے کے بند کِس نے کھولے؟

6 بیابان کو مَیں نے اُ س کا مکان بنایا

اور زمِینِ شور کو اُ س کا مسکن۔

7 وہ شہر کے شور و غُل کو ہیچ سمجھتا ہے

اور ہانکنے والے کی ڈانٹ کو نہیں سُنتا۔

8 پہاڑوں کا سِلسِلہ اُ س کی چراگاہ ہے

اور وہ ہریالی کی تلاش میں رہتا ہے۔

9 کیا جنگلی سانڈ تیری خِدمت پر راضی ہوگا؟

کیا وہ تیری چرنی کے پاس رہے گا؟

10 کیا تُو جنگلی سانڈ کو رسّے سے باندھ کر ریگھاری میں

چلا سکتاہے؟

یا وہ تیرے پِیچھے پِیچھے وادِیوں میں ہینگا پھیر ے گا؟

11 کیا تُو اُ س کی بڑی طاقت کے سبب سے اُس پر

بھروسا کرے گا؟

یا کیا تُو اپنا کام اُس پر چھوڑدے گا؟

12 کیا تُو اُس پر اِعتماد کرے گا کہ وہ تیرا غلّہ گھر لے آئے

اور تیرے کھلِیہان کا اناج اِکٹّھاکرے؟

13 شُتر مُرغ کے بازُو آسُودہ ہیں

لیکن کیا اُ س کے پر و بال سے شفقت ظاہِر ہوتی ہے؟

14 کیونکہ وہ تو اپنے انڈے زمِین پر چھوڑ دیتی ہے

اور ریت سے اُن کو گرمی پُہنچاتی ہے

15 اور بُھول جاتی ہے کہ وہ پاؤں سے کُچلے جائیں گے

یا کوئی جنگلی جانور اُن کو روند ڈالے گا۔

16 وہ اپنے بچّوں سے اَیسی سخت دِلی کرتی ہے کہ گویا

وہ اُ س کے نہیں۔

خواہ اُ س کی مِحنت رایگاں جائے اُسے کُچھ خَوف نہیں۔

17 کیونکہ خُدا نے اُسے عقل سے محرُوم رکھّا

اور اُسے سمجھ نہیں دی۔

18 جب وہ تن کر سِیدھی کھڑی ہو جاتی ہے

تو گھوڑے اور اُ س کے سوار دونوں کو ناچِیز سمجھتی ہے۔

19 کیا گھوڑے کو اُ س کا زور تُو نے دِیا ہے؟

کیا اُ س کی گردن کو لہراتی ایال سے تُو نے مُلبّس کِیا؟

20 کیا اُسے ٹِڈّی کی طرح تُو نے کُدایاہے؟

اُ س کے فرّانے کی شان مُہِیب ہے۔

21 وہ وادی میں ٹاپ مارتا ہے اور اپنے زور میں

خُوش ہے۔

وہ مُسلّح آدمِیوں کا سامنا کرنے کو نِکلتا ہے۔

22 وہ خَوف کو ناچِیز جانتا ہے اور گھبراتا نہیں

اور وہ تلوار سے مُنہ نہیں موڑتا۔

23 ترکش اُس پر کھڑکھڑاتا ہے۔

چمکتا ہُؤا بھالا اور سانگ بھی۔

24 وہ تُندی اور قہر میں زمِین پَیما ئی کرتا ہے

اور اُسے یقِین نہیں ہوتا کہ یہ تُرہی کی آواز ہے۔

25 جب جب تُرہی بجتی ہے وہ ہِن ہِن کرتا ہے

اور لڑائی کو دُور سے سُونگھ لیتا ہے۔

سرداروں کی گرج اور للکار کو بھی۔

26 کیا باز تیری حِکمت سے اُڑتا ہے

اور جنُوب کی طرف اپنے بازُو پَھیلاتاہے؟

27 کیا عُقاب تیرے حُکم سے اُوپر چڑھتا ہے

اور بُلندی پر اپنا گھونسلا بناتاہے؟

28 وہ چٹان پر رہتا اور وہِیں بسیرا کرتا ہے۔

یعنی چٹان کی چوٹی پر اور پناہ کی جگہ میں۔

29 وہِیں سے وہ شِکار تاڑ لیتا ہے

اُ س کی آنکھیں اُسے دُور سے دیکھ لیتی ہیں۔

30 اُ س کے بچّے بھی خُون چُوستے ہیں

اور جہاں مقتُول ہیں وہاں وہ بھی ہے۔