۲-کُرِنتھِیوں 2

1 مَیں نے اپنے دِل میں یہ قَصد کِیا تھا کہ پِھر تُمہارے پاس غمگِین ہو کر نہ آؤں۔

2 کیونکہ اگر میں تُم کو غمگِین کرُوں تو مُجھے کَون خُوش کرے گا ۔ سِوا اُس کے جو میرے سبب سے غمگِین ہُؤا؟۔

3 اور مَیں نے تُم کو وُہی بات لِکھی تھی تاکہ اَیسا نہ ہو کہ مُجھے آ کر جِن سے خُوش ہونا چاہیے تھا مَیں اُن کے سبب سے غمگِین ہُوں کیونکہ مُجھے تُم سب پر اِس بات کا بھروسا ہے کہ جو میری خُوشی ہے وُہی تُم سب کی ہے۔

4 کیونکہ مَیں نے بڑی مُصِیبت اور دِلگِیری کی حالت میں بُہت سے آنسُو بہا بہا کر تُم کو لِکھا تھا لیکن اِس واسطے نہیں کہ تُم کو غم ہو بلکہ اِس واسطے کہ تُم اُس بڑی مُحبّت کو معلُوم کرو جو مُجھے تُم سے ہے۔ قصُوروار کے لِئے مُعافی

5 اور اگر کوئی شخص غم کا باعِث ہُؤا ہے تو میرے ہی غم کا نہیں بلکہ (تاکہ اُس پر زیادہ سختی نہ کرُوں) کِسی قدر تُم سب کے غم کا باعِث ہُؤا۔

6 یِہی سزا جو اُس نے اکثروں کی طرف سے پائی اَیسے شخص کے واسطے کافی ہے۔

7 پس برعکس اِس کے یِہی بِہتر ہے کہ اُس کا قصُور مُعاف کرو اور تسلّی دو تاکہ وہ غم کی کثرت سے تباہ نہ ہو۔

8 اِس لِئے مَیں تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ اُس کے بارے میں مُحبّت کا فتویٰ دو۔

9 کیونکہ مَیں نے اِس واسطے بھی لِکھا تھا کہ تُمہیں آزما لُوں کہ سب باتوں میں فرمانبردار ہو یا نہیں۔

10 جِسے تُم کُچھ مُعاف کرتے ہو اُسے مَیں بھی مُعاف کرتا ہُوں کیونکہ جو کُچھ مَیں نے مُعاف کِیا اگر کِیا تو مسِیح کا قائِم مقام ہو کر تُمہاری خاطِر مُعاف کِیا۔

11 تاکہ شَیطان کا ہم پر داؤ نہ چلے کیونکہ ہم اُس کے حِیلوں سے ناواقِف نہیں۔

ترو آس میں پَولُس کی بے چینی

12 اور جب مَیں مسِیح کی خُوشخبری دینے کو تروآ س میں آیا اور خُداوند میں میرے لِئے دروازہ کُھل گیا۔

13 تو میری رُوح کو آرام نہ مِلا اِس لِئے کہ مَیں نے اپنے بھائی طِطُس کو نہ پایا ۔ پس اُن سے رُخصت ہو کر مَکِدُنیہ کو چلا گیا۔

مسِیح کے وسِیلہ سے فتح

14 مگر خُدا کا شُکر ہے جو مسِیح میں ہم کو ہمیشہ اسِیروں کی طرح گشت کراتا ہے اور اپنے عِلم کی خُوشبُو ہمارے وسِیلہ سے ہر جگہ پَھیلاتا ہے۔

15 کیو نکہ ہم خُدا کے نزدِیک نجات پانے والوں اور ہلاک ہونے والوں دونوں کے لِئے مسِیح کی خُوشبُو ہیں۔

16 بعض کے واسطے تو مَرنے کے لِئے مَوت کی بُو اور بعض کے واسطے جِینے کے لِئے زِندگی کی بُو ہیں اور کَون اِن باتوں کے لائِق ہے؟۔

17 کیونکہ ہم اُن بُہت لوگوں کی مانِند نہیں جو خُدا کے کلام میں آمیزِش کرتے ہیں بلکہ دِل کی صفائی سے اور خُدا کی طرف سے خُدا کو حاضِر جان کر مسِیح میں بولتے ہیں۔

۲-کُرِنتھِیوں 3

نئے عہد کے خادِم

1 کیا ہم پِھر اپنی نیک نامی جتانا شرُوع کرتے ہیں یا ہم کو بعض کی طرح نیک نامی کے خَط تُمہارے پاس لانے یا تُم سے لینے کی حاجت ہے؟

2 ہمارا جو خَط ہمارے دِلوں پر لِکھا ہُؤا ہے وہ تُم ہو اور اُسے سب آدمی جانتے اور پڑھتے ہیں۔

3 ظاہِر ہے کہ تُم مسِیح کا وہ خَط ہو جو ہم نے خادِموں کے طَور پر لِکھا ۔ سِیاہی سے نہیں بلکہ زِندہ خُدا کے رُوح سے ۔ پتّھر کی تختِیوں پر نہیں بلکہ گوشت کی یعنی دِل کی تختِیوں پر۔

4 ہم مسِیح کی معرفت خُدا پر اَیسا ہی بھروسا رکھتے ہیں۔

5 یہ نہیں کہ بذاتِ خُود ہم اِس لائِق ہیں کہ اپنی طرف سے کُچھ خیال بھی کر سکیں بلکہ ہماری لِیاقت خُدا کی طرف سے ہے۔

6 جِس نے ہم کو نئے عہد کے خادِم ہونے کے لائِق بھی کِیا ۔ لفظوں کے خادِم نہیں بلکہ رُوح کے کیونکہ لفظ مار ڈالتے ہیں مگر رُوح زِندہ کرتی ہے۔

7 اور جب مَوت کا وہ عہد جِس کے حرُوف پتّھروں پر کھودے گئے تھے اَیسا جلال والا ہُؤا کہ بنی اِسرائیل مُوسیٰ کے چِہرے پر اُس جلال کے سبب سے جو اُس کے چہرے پر تھا غَور سے نظر نہ کر سکے حالانکہ وہ گھٹتا جاتا تھا۔

8 تو رُوح کا عہد تو ضرُور ہی جلال والا ہو گا۔

9 کیونکہ جب مُجرِم ٹھہرانے والا عہد جلال والا تھا تو راست بازی کاعہد تو ضرُور ہی جلال والا ہو گا۔

10 بلکہ اِس صُورت میں وہ جلال والا اِس بے اِنتِہا جلال کے سبب سے بے جلال ٹھہرا۔

11 کیونکہ جب مِٹنے والی چِیز جلال والی تھی تو باقی رہنے والی چِیز تو ضرُور ہی جلال والی ہو گی۔

12 پس ہم اَیسی اُمّید کر کے بڑی دِلیری سے بولتے ہیں۔

13 اور مُوسیٰ کی طرح نہیں ہیں جِس نے اپنے چِہرے پر نِقاب ڈالا تاکہ بنی اِسرائیل اُس مِٹنے والی چِیز کے انجام کو نہ دیکھ سکیں۔

14 لیکن اُن کے خیالات کثِیف ہو گئے کیونکہ آج تک پُرانے عہد نامہ کو پڑھتے وقت اُن کے دِلوں پر وُہی پردہ پڑا رہتا ہے اور وہ مسِیح میں اُٹھ جاتا ہے۔

15 مگر آج تک جب کبھی مُوسیٰ کی کِتاب پڑھی جاتی ہے تو اُن کے دِل پر پردہ پڑا رہتا ہے۔

16 لیکن جب کبھی اُن کا دِل خُداوند کی طرف پِھرے گا تو وہ پردہ اُٹھ جائے گا۔

17 اور خُداوند رُوح ہے اور جہاں کہِیں خُداوند کا رُوح ہے وہاں آزادی ہے۔

18 مگر جب ہم سب کے بے نِقاب چِہروں سے خُداوند کا جلال اِس طرح مُنعکِس ہوتا ہے جِس طرح آئینہ میں تو اُس خُداوند کے وسِیلہ سے جو رُوح ہے ہم اُسی جلالی صُورت میں دَرجہ بَدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔

۲-کُرِنتھِیوں 4

مِٹّی کے برتنوں میں رُوحانی خزانہ

1 پس جب ہم پر اَیسا رَحم ہُؤا کہ ہمیں یہ خِدمت مِلی تو ہم ہِمّت نہیں ہارتے۔

2 بلکہ ہم نے شرم کی پَوشِیدہ باتوں کو ترک کر دِیا اور مَکّاری کی چال نہیں چَلتے ۔ نہ خُدا کے کلام میں آمیزِش کرتے ہیں بلکہ حق ظاہِر کر کے خُدا کے رُوبرُو ہر ایک آدمی کے دِل میں اپنی نیکی بِٹھاتے ہیں۔

3 اور اگر ہماری خُوشخبری پر پردہ پڑا ہے تو ہلاک ہونے والوں ہی کے واسطے پڑا ہے۔

4 یعنی اُن بے اِیمانوں کے واسطے جِن کی عقلوں کو اِس جہان کے خُدا نے اَندھا کر دِیا ہے تاکہ مسِیح جو خُدا کی صُورت ہے اُس کے جلال کی خُوشخبری کی رَوشنی اُن پر نہ پڑے۔

5 کیونکہ ہم اپنی نہیں بلکہ مسِیح یِسُوع کی مُنادی کرتے ہیں کہ وہ خُداوند ہے اور اپنے حق میں یہ کہتے ہیں کہ یِسُوع کی خاطِر تُمہارے غُلام ہیں۔

6 اِس لِئے کہ خُدا ہی ہے جِس نے فرمایا کہ تارِیکی میں سے نُور چمکے اور وُہی ہمارے دِلوں میں چمکا تاکہ خُدا کے جلال کی پہچان کا نُور یِسُوع مسِیح کے چِہرے سے جلوہ گر ہو۔

7 لیکن ہمارے پاس یہ خزانہ مِٹّی کے برتنوں میں رکھّا ہے تاکہ یہ حَد سے زِیادہ قُدرت ہماری طرف سے نہیں بلکہ خُدا کی طرف سے معلُوم ہو۔

8 ہم ہر طرف سے مُصِیبت تو اُٹھاتے ہیں لیکن لاچار نہیں ہوتے ۔ حَیران تو ہوتے ہیں مگر نااُمّید نہیں ہوتے۔

9 ستائے تو جاتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے ۔ گِرائے تو جاتے ہیں لیکن ہلاک نہیں ہوتے۔

10 ہم ہر وقت اپنے بدن میں یِسُو ع کی مَوت لِئے پِھرتے ہیں تاکہ یِسُوع کی زِندگی بھی ہمارے بدن میں ظاہِر ہو۔

11 کیونکہ ہم جِیتے جی یِسُوع کی خاطِر ہمیشہ مَوت کے حوالہ کِئے جاتے ہیں تاکہ یِسُوع کی زِندگی بھی ہمارے فانی جِسم میں ظاہِر ہو۔

12 پس مَوت تو ہم میں اثر کرتی ہے اور زِندگی تُم میں۔

13 اور چُونکہ ہم میں وُہی اِیمان کی رُوح ہے جِس کی بابت لِکھا ہے کہ مَیں اِیمان لایا اور اِسی لِئے بولا ۔ پس ہم بھی اِیمان لائے اور اِسی لِئے بولتے ہیں۔

14 کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جِس نے خُداوند یِسُو ع کو جِلایا وہ ہم کو بھی یِسُو ع کے ساتھ شامِل جان کر جِلائے گا اور تُمہارے ساتھ اپنے سامنے حاضِر کرے گا۔

15 اِس لِئے کہ سب چِیزیں تُمہارے واسطے ہیں تاکہ بُہت سے لوگوں کے سبب سے فضل زِیادہ ہو کر خُدا کے جلال کے لِئے شُکرگُزاری بھی بڑھائے۔

اِیمان کے سہارے زِندگی گُزارنا

16 اِس لِئے ہم ہِمّت نہیں ہارتے بلکہ گو ہماری ظاہِری اِنسانِیّت زائِل ہوتی جاتی ہے پِھر بھی ہماری باطِنی اِنسانِیّت روز بروز نئی ہوتی جاتی ہے۔

17 کیونکہ ہماری دَم بَھر کی ہلکی سی مُصِیبت ہمارے لِئے ازحد بھاری اور ابدی جلال پَیدا کرتی جاتی ہے۔

18 جِس حال میں کہ ہم دیکھی ہُوئی چِیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چِیزوں پر نظر کرتے ہیں کیونکہ دیکھی ہُوئی چِیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی چِیزیں ابدی ہیں۔

۲-کُرِنتھِیوں 5

1 کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خَیمہ کا گھر جو زمِین پر ہے گِرایا جائے گا تو ہم کو خُدا کی طرف سے آسمان پر ایک اَیسی عِمارت مِلے گی جو ہاتھ کا بنا ہُؤا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔

2 چُنا نچہ ہم اِس میں کراہتے ہیں اور بڑی آرزُو رکھتے ہیں کہ اپنے آسمانی گھر سے مُلبّس ہو جائیں۔

3 تاکہ مُلبّس ہونے کے باعِث ننگے نہ پائے جائیں۔

4 کیونکہ ہم اِس خَیمہ میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں ۔ اِس لِئے نہیں کہ یہ لِباس اُتارنا چاہتے ہیں بلکہ اِس پر اَور پہننا چاہتے ہیں تاکہ وہ جو فانی ہے زِندگی میں غرق ہو جائے۔

5 اور جِس نے ہم کو اِسی بات کے لِئے تیّار کِیا وہ خُدا ہے اور اُسی نے ہمیں رُوح بَیعانہ میں دِیا۔

6 پس ہمیشہ ہماری خاطِر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میںہیں خُداوند کے ہاں سے جلا وطن ہیں۔

7 کیونکہ ہم اِیمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔

8 غرض ہماری خاطِر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جُدا ہو کر خُداوند کے وطن میں رہنا زِیادہ منظُور ہے۔

9 اِسی واسطے ہم یہ حَوصلہ رکھتے ہیں کہ وطن میں ہوں خواہ جلا وطن اُس کو خُوش کریں۔

10 کیونکہ ضرُور ہے کہ مسِیح کے تختِ عدالت کے سامنے جا کر ہم سب کا حال ظاہِر کِیا جائے تاکہ ہر شخص اپنے اُن کاموں کا بدلہ پائے جو اُس نے بدن کے وسِیلہ سے کِئے ہوں ۔ خواہ بھلے ہوں خواہ بُرے۔

مسِیح کے وسیلہ سے خُدا کے ساتھ میل ملاپ

11 پس ہم خُداوند کے خَوف کو جان کر آدمِیوں کو سمجھاتے ہیں اور خُدا پر ہمارا حال ظاہِر ہے اور مُجھے اُمّید ہے کہ تُمہارے دِلوں پر بھی ظاہِر ہُؤا ہو گا۔

12 ہم پِھر اپنی نیک نامی تُم پر نہیں جتاتے بلکہ ہم اپنے سبب سے تُم کو فخر کرنے کا مَوقع دیتے ہیں تاکہ تُم اُن کو جواب دے سکو جو ظاہِر پر فخر کرتے ہیں اور باطِن پر نہیں۔

13 اگر ہم بے خُود ہیں تو خُدا کے واسطے ہیں اور اگر ہوش میں ہیں تو تُمہارے واسطے۔

14 کیونکہ مسِیح کی مُحبّت ہم کو مجبُور کر دیتی ہے اِس لِئے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب ایک سب کے واسطے مُؤا تو سب مَر گئے۔

15 اور وہ اِس لِئے سب کے واسطے مُؤا کہ جو جِیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لِئے نہ جِئیں بلکہ اُس کے لِئے جو اُن کے واسطے مُؤا اور پِھر جی اُٹھا۔

16 پس اب سے ہم کِسی کو جِسم کی حیثِیت سے نہ پہچانیں گے ۔ ہاں اگرچہ مسِیح کو بھی جِسم کی حیثِیت سے جانا تھا مگر اب سے نہیں جانیں گے۔

17 اِس لِئے اگر کوئی مسِیح میں ہے تو وہ نیا مخلُوق ہے ۔ پُرانی چِیزیں جاتی رہِیں ۔ دیکھو وہ نئی ہو گئِیں۔

18 اور سب چِیزیں خُدا کی طرف سے ہیں جِس نے مسِیح کے وسِیلہ سے اپنے ساتھ ہمارا میل مِلاپ کر لِیا اور میل مِلاپ کی خِدمت ہمارے سپُرد کی۔

19 مطلَب یہ ہے کہ خُدا نے مسِیح میں ہو کر اپنے ساتھ دُنیا کا میل مِلاپ کر لِیا اور اُن کی تقصِیروں کو اُن کے ذِمّہ نہ لگایا اور اُس نے میل مِلاپ کا پَیغام ہمیں سَونپ دِیا ہے۔

20 پس ہم مسِیح کے ایلچی ہیں ۔ گویا ہمارے وسِیلہ سے خُدا اِلتماس کرتا ہے ۔ ہم مسِیح کی طرف سے مِنّت کرتے ہیں کہ خُدا سے میل مِلاپ کر لو۔

21 جو گُناہ سے واقِف نہ تھا اُسی کو اُس نے ہمارے واسطے گُناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اُس میں ہو کر خُدا کی راست بازی ہو جائیں۔

۲-کُرِنتھِیوں 6

1 اور ہم جو اُس کے ساتھ کام میں شرِیک ہیں یہ بھی اِلتماس کرتے ہیں کہ خُدا کا فضل جو تُم پر ہُؤا بے فائِدہ نہ رہنے دو۔

2 کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ مَیں نے قبُولِیّت کے وقت تیری سُن لی

اور نجات کے دِن تیری مدد کی ۔ دیکھو اب قبُولِیّت کا وقت ہے ۔ دیکھو یہ نجات کا دِن ہے۔

3 ہم کِسی بات میں ٹھوکر کھانے کا کوئی مَوقع نہیں دیتے تاکہ ہماری خِدمت پر حرف نہ آئے۔

4 بلکہ خُدا کے خادِموں کی طرح ہر بات سے اپنی خُوبی ظاہِر کرتے ہیں ۔ بڑے صبر سے۔ مُصِیبت سے ۔ اِحتیاج سے ۔ تنگی سے۔

5 کوڑے کھانے سے ۔ قَید ہونے سے ۔ ہنگاموں سے ۔ مِحنتوں سے ۔ بیداری سے ۔ فاقوں سے۔

6 پاکِیزگی سے ۔ عِلم سے ۔ تحمُّل سے ۔ مِہربانی سے رُوحُ القُدس سے ۔ بے رِیا مُحبّت سے۔

7 کلامِ حق سے ۔ خُدا کی قُدرت سے ۔ راست بازی کے ہتھیاروں کے وسِیلہ سے جو دہنے بائیں ہیں۔

8 عِزّت اور بے عِزّتی کے وسِیلہ سے ۔ بدنامی اور نیک نامی کے وسِیلہ سے گو گُمراہ کرنے والے معلُوم ہوتے ہیں پِھر بھی سچّے ہیں۔

9 گُم ناموں کی مانِند ہیں تَو بھی مشہُور ہیں ۔ مَرتے ہُوؤں کی مانِند ہیں مگر دیکھو جِیتے ہیں ۔ مار کھانے والوں کی مانِند ہیں مگر جان سے مارے نہیں جاتے۔

10 غمگینوں کی مانِند ہیں لیکن ہمیشہ خُوش رہتے ہیں ۔ کَنگالوں کی مانِند ہیں مگر بُہتیروں کو دَولت مند کر دیتے ہیں ۔ ناداروں کی مانِند ہیں تَو بھی سب کُچھ رکھتے ہیں۔

11 اَے کُرِنتھیو! ہم نے تُم سے کُھل کر باتیں کِیں اور ہمارا دِل تُمہاری طرف سے کُشادہ ہو گیا۔

12 ہمارے دِلوں میں تُمہارے لِئے تنگی نہیں مگر تُمہارے دِلوں میں تنگی ہے۔

13 پس مَیں فرزند جان کر تُم سے کہتا ہُوں کہ تُم بھی اُس کے بدلہ میں کُشادہ دِل ہو جاؤ۔

بے دینی کے اثرات کے خِلاف آگاہی

14 بے اِیمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے ہیں نہ جُتو کیونکہ راست بازی اور بے دِینی میں کیا میل جول؟ یا رَوشنی اور تارِیکی میں کیا شِراکت؟۔

15 مسِیح کو بلِیعال کے ساتھ کیا مُوافقت؟ یا اِیمان دار کا بے اِیمان سے کیا واسطہ؟۔

16 اور خُدا کے مَقدِس کو بُتوں سے کیا مُناسبت ہے؟ کیونکہ ہم زِندہ خُدا کا مَقدِس ہیں ۔ چُنانچہ خُدا نے فرمایا ہے کہ

مَیں اُن میں بسُوں گا اور اُن میں چلُوں پِھرُوں گا

اور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا

اور وہ میری اُمّت ہوں گے۔

17 اِس واسطے خُداوند فرماتا ہے کہ

اُن میں سے نِکل کر

الگ رہو

اور ناپاک چِیز کو نہ چُھوؤ

تو مَیں تُم کو قبُول کر لُوں گا۔

18 اور تُمہارا باپ ہُوں گا

اور تُم میرے بیٹے بیٹِیاں ہوگے۔ یہ خُداوند قادِرِ مُطلق کا قَول ہے۔

۲-کُرِنتھِیوں 7

1 پس اَے عزِیزو! چُونکہ ہم سے اَیسے وعدے کِئے گئے آؤ ہم اپنے آپ کو ہر طرح کی جِسمانی اور رُوحانی آلُودگی سے پاک کریں اور خُدا کے خَوف کے ساتھ پاکِیزگی کو کمال تک پُہنچائیں۔

پَولُس کی خُوشی

2 ہم کو اپنے دِل میں جگہ دو ۔ ہم نے کِسی سے بے اِنصافی نہیں کی ۔ کِسی کو نہیں بِگاڑا ۔ کِسی سے دغا نہیں کی۔

3 مَیں تُمہیں مُجرِم ٹھہرانے کے لِئے یہ نہیں کہتا کیونکہ پہلے ہی کہہ چُکا ہُوں کہ تُم ہمارے دِلوں میں اَیسے بس گئے ہو کہ ہم تُم ایک ساتھ مَریں اور جِئیں۔

4 مَیں تُم سے بڑی دِلیری کے ساتھ باتیں کرتا ہُوں ۔ مُجھے تُم پر بڑا فخر ہے ۔ مُجھ کو پُوری تسلّی ہو گئی ہے ۔ جِتنی مُصِیبتیں ہم پر آتی ہیں اُن سب میں میرا دِل خُوشی سے لبریز رہتا ہے۔

5 کیونکہ جب ہم مَکِدُنیہ میں آئے اُس وقت بھی ہمارے جِسم کو چَین نہ مِلا بلکہ ہر طرف سے مُصِیبت میں گِرفتار رہے ۔ باہر لڑائِیاں تِھیں ۔ اندر دہشتیں۔

6 تَو بھی عاجِزوں کو تسلّی بخشنے والے یعنی خُدا نے طِطُس کے آنے سے ہم کو تسلّی بخشی۔

7 اور نہ صِرف اُس کے آنے سے بلکہ اُس کی اُس تسلّی سے بھی جو اُس کو تُمہاری طرف سے ہُوئی اور اُس نے تُمہارا اِشتیاق ۔ تُمہارا غم اور تُمہارا جوش جو میری بابت تھا ہم سے بیان کِیا جِس سے مَیں اَور بھی خُوش ہُؤا۔

8 گو مَیں نے تُم کو اپنے خَط سے غمگِین کِیا مگر اُس سے پچھتاتا نہیں ۔ اگرچہ پہلے پچھتاتا تھا چُنانچہ دیکھتا ہُوں کہ اُس خَط سے تُم کو غم ہُؤا ۔ گو تھوڑے ہی عرصہ تک رہا۔

9 اب مَیں اِس لِئے خُوش نہیں ہُوں کہ تُم کو غم ہُؤا بلکہ اِس لِئے کہ تُمہارے غم کا انجام تَوبہ ہُؤا کیونکہ تُمہارا غم خُدا پرستی کا تھا تاکہ تُم کو ہماری طرف سے کِسی طرح کا نُقصان نہ ہو۔

10 کیونکہ خُدا پرستی کا غم اَیسی تَوبہ پَیدا کرتا ہے جِس کا انجام نجات ہے اور اُس سے پچھتانا نہیں پڑتا مگر دُنیا کا غم مَوت پَیدا کرتا ہے۔

11 پس دیکھو اِسی بات نے کہ تُم خُدا پرستی کے طَور پر غمگِین ہُوئے تُم میں کِس قدر سرگرمی اور عُذر اور خفگی اور خَوف اور اِشتیاق اور جوش اور اِنتقام پَیدا کِیا! تُم نے ہر طرح سے ثابِت کر دِکھایا کہ تُم اِس امر میں بری ہو۔

12 پس اگرچہ مَیں نے تُم کو لِکھا تھا مگر نہ اُس کے باعِث لِکھا جِس نے بے اِنصافی کی اور نہ اُس کے باعِث جِس پر بے اِنصافی ہُوئی بلکہ اِس لِئے کہ تُمہاری سرگرمی جو ہمارے واسطے ہے خُدا کے حضُور تُم پر ظاہِر ہو جائے۔

13 اِسی لِئے ہم کو تسلّی ہُوئی ہے

اور ہماری اِس تسلّی میں ہم کو طِطُس کی خُوشی کے سبب سے اَور بھی زِیادہ خُوشی ہُوئی کیونکہ تُم سب کے باعِث اُس کی رُوح پِھر تازہ ہو گئی۔

14 اور اگر مَیں نے اُس کے سامنے تُمہاری بابت کُچھ فخر کِیا تو شرمِندہ نہ ہُؤا بلکہ جِس طرح ہم نے سب باتیں تُم سے سچّائی سے کہِیں اُسی طرح جو فخر ہم نے طِطُس کے سامنے کِیا وہ بھی سچ نِکلا۔

15 اور جب اُس کو تُم سب کی فرمانبرداری یاد آتی ہے کہ تُم کِس طرح ڈرتے اور کانپتے ہُوئے اُس سے مِلے تو اُس کی دِلی مُحبّت تُم سے اَور بھی زِیادہ ہوتی جاتی ہے۔

16 مَیں خُوش ہُوں کہ ہر بات میں تُمہاری طرف سے میری خاطِر جمع ہے۔

۲-کُرِنتھِیوں 8

مسِیحی خَیرات

1 اب اَے بھائِیو! ہم تُم کو خُدا کے اُس فضل کی خبر دیتے ہیں جو مَکِدُنیہ کی کلِیسیاؤں پر ہُؤا ہے۔

2 کہ مُصِیبت کی بڑی آزمایش میں اُن کی بڑی خُوشی اور سخت غرِیبی نے اُن کی سخاوت کو حد سے زیادہ کر دِیا۔

3 اور مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ اُنہوں نے مقدُور کے مُوافِق بلکہ مقدُور سے بھی زِیادہ اپنی خُوشی سے دِیا۔

4 اور اِس خَیرات اور مُقدّسوں کی خِدمت کی شِراکت کی بابت ہم سے بڑی مِنّت کے ساتھ درخواست کی۔

5 اور ہماری اُمّید کے مُوافِق ہی نہیں دِیا بلکہ اپنے آپ کو پہلے خُداوند کے اور پِھر خُدا کی مرضی سے ہمارے سپُرد کِیا۔

6 اِس واسطے ہم نے طِطُس کو نصِیحت کی کہ جَیسے اُس نے پہلے شرُوع کِیا تھا وَیسے ہی تُم میں اِس خَیرات کے کام کو پُورا بھی کرے۔

7 پس جَیسے تُم ہر بات میں اِیمان اور کلام اور عِلم اور پُوری سرگرمی اور اُس مُحبّت میں جو ہم سے رکھتے ہو سَبقت لے گئے ہو وَیسے ہی اِس خَیرات کے کام میں بھی سَبقت لے جاؤ۔

8 مَیں حُکم کے طَور پر نہیں کہتا بلکہ اِس لِئے کہ اَوروں کی سرگرمی سے تُمہاری مُحبّت کی سچّائی کو آزماؤں۔

9 کیونکہ تُم ہمارے خُداوند یِسُو ع مسِیح کے فضل کو جانتے ہو کہ وہ اگرچہ دَولت مند تھا مگر تُمہاری خاطِر غرِیب بن گیا تاکہ تُم اُس کی غرِیبی کے سبب سے دَولت مند ہو جاؤ۔

10 اور مَیں اِس اَمر میں اپنی رائے دیتا ہُوں کیونکہ یہ تُمہارے لِئے مُفِید ہے اِس لِئے کہ تُم پِچھلے سال سے نہ صِرف اِس کام میں بلکہ اِس کے اِرادہ میں بھی اوّل تھے۔

11 پس اب اِس کام کو پُورا بھی کرو تاکہ جَیسے تُم اِرادہ کرنے میں مُستعِد تھے وَیسے ہی مقدُور کے مُوافِق تکمِیل بھی کرو۔

12 کیونکہ اگر نِیّت ہو تو خَیرات اُس کے مُوافِق مقبُول ہو گی جو آدمی کے پاس ہے نہ اُس کے مُوافِق جو اُس کے پاس نہیں۔

13 یہ نہیں کہ اَوروں کو آرام مِلے اور تُم کو تکلِیف ہو۔

14 بلکہ برابری کے طَور پر اِس وقت تُمہاری دَولت سے اُن کی کمی پُوری ہو تاکہ اُن کی دَولت سے بھی تُمہاری کمی پُوری ہو اور اِس طرح برابری ہو جائے۔

15 چُنانچہ لِکھا ہے کہ جِس نے بُہت جمع کِیا اُس کا کُچھ زِیادہ نہ نِکلا اور جِس نے تھوڑا جمع کِیا اُس کا کُچھ کم نہ نِکلا۔

طِطُس اور اُس کے ہم خِدمت

16 خُدا کا شُکر ہے جو طِطُس کے دِل میں تُمہارے واسطے وَیسی ہی سرگرمی پَیدا کرتا ہے۔

17 کیونکہ اُس نے ہماری نصِیحت کو مان لِیا بلکہ بڑا سرگرم ہو کر اپنی خُوشی سے تُمہاری طرف روانہ ہُؤا۔

18 اور ہم نے اُس کے ساتھ اُس بھائی کو بھیجا جِس کی تعرِیف خُوشخبری کے سبب سے تمام کلِیسیاؤں میں ہوتی ہے۔

19 اور صِرف یِہی نہیں بلکہ وہ کلِیسیاؤں کی طرف سے اِس خَیرات کے بارے میں ہمارا ہمسفر مُقرّر ہُؤا اور ہم یہ خِدمت اِس لِئے کرتے ہیں کہ خُداوند کا جلال اور ہمارا شَوق ظاہِر ہو۔

20 اور ہم بچتے رہتے ہیں کہ جِس بڑی خَیرات کے بارے میں خِدمت کرتے ہیں اُس کی بابت کوئی ہم پر حرف نہ لائے۔

21 کیونکہ ہم اَیسی چِیزوں کی تدبِیر کرتے ہیں جو نہ صِرف خُداوند کے نزدِیک بھلی ہیں بلکہ آدمِیوں کے نزدِیک بھی۔

22 اور ہم نے اُن کے ساتھ اپنے اُس بھائی کو بھیجا ہے جِس کو ہم نے بُہت سی باتوں میں بار ہا آزما کر سر گرم پایا ہے مگر چُونکہ اُس کو تُم پر بڑا بھروسا ہے اِس لِئے اب بُہت زیادہ سر گرم ہے۔

23 اگر کوئی طِطُس کی بابت پُوچھے تو وہ میرا شرِیک اور تُمہارے واسطے میرا ہم خِدمت ہے ۔ اگر ہمارے بھائِیوں کی بابت پُوچھا جائے تو وہ کلِیسیاؤں کے قاصِد اور مسِیح کا جلال ہیں۔

24 پس اپنی مُحبّت اور ہمارا وہ فخر جو تُم پر ہے کلِیسیاؤں کے رُوبرُو اُن پر ثابِت کرو۔

۲-کُرِنتھِیوں 9

حاجتمند اِیمانداروں کے لِئے امداد

1 جو خِدمت مُقدّسوں کے واسطے کی جاتی ہے اُس کی بابت مُجھے تُم کو لِکھنا فضُول ہے۔

2 کیونکہ مَیں تُمہارا شَوق جانتا ہُوں جِس کے سبب سے مَکِدُنیہ کے لوگوں کے آگے تُم پر فخر کرتا ہُوں کہ اَخیہ کے لوگ پِچھلے سال سے تیّار ہیں اور تُمہاری سر گرمی نے اکثر لوگوں کو اُبھارا۔

3 لیکن مَیں نے بھائِیوں کو اِس لِئے بھیجا کہ ہم جو فخر اِس بارے میں تُم پر کرتے ہیں وہ بے اصل نہ ٹھہرے بلکہ تُم میرے کہنے کے مُوافِق تیّاررہو۔

4 اَیسا نہ ہو کہ اگر مَکِدُنیہ کے لوگ میرے ساتھ آئیں اور تُم کو تیّار نہ پائیں تو ہم (یہ نہیں کہتے کہ تُم) اُس بھروسے کے سبب سے شرمِندہ ہوں۔

5 اِس لِئے مَیں نے بھائِیوں سے یہ درخواست کرنا ضرُور سمجھا کہ وہ پہلے سے تُمہارے پاس جا کر تُمہاری مَوعُودہ بخشِش کو پیشتر سے تیّار کر رکھّیں تاکہ وہ بخشِش کی طرح تیّار رہے نہ کہ زبردستی کے طَور پر۔

6 لیکن بات یہ ہے کہ جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور جو بُہت بوتا ہے وہ بُہت کاٹے گا۔

7 جِس قدر ہر ایک نے اپنے دِل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزِیز رکھتا ہے۔

8 اور خُدا تُم پر ہر طرح کا فضل کثرت سے کر سکتا ہے تاکہ تُم کو ہمیشہ ہر چِیز کافی طَور پر مِلا کرے اور ہر نیک کام کے لِئے تُمہارے پاس بُہت کُچھ مَوجُود رہا کرے۔

9 چُنانچہ لِکھا ہے کہ

اُس نے بکھیرا ہے ۔ اُس نے کنگالوں کو دِیا ہے۔

اُس کی راست بازی ابد تک باقی رہے گی۔

10 پس جو بونے والے کے لِئے بِیج اور کھانے کے لِئے روٹی بہم پُہنچاتا ہے وُہی تُمہارے لِئے بیج بہم پُہنچائے گا اور اُس میں ترقّی دے گا اور تُمہاری راست بازی کے پَھلوں کو بڑھائے گا۔

11 اور تُم ہر چِیز کو اِفراط سے پا کر سب طرح کی سخاوت کرو گے جو ہمارے وسِیلہ سے خُدا کی شُکر گُذاری کا باعِث ہوتی ہے۔

12 کیونکہ اِس خِدمت کے انجام دینے سے نہ صِرف مُقدّسوں کی اِحتیاجیں رفع ہوتی ہیں بلکہ بُہت لوگوں کی طرف سے خُدا کی بڑی شُکر گُذاری ہوتی ہے۔

13 اِس لِئے کہ جو نِیّت اِس خِدمت سے ثابِت ہُوئی اُس کے سبب سے وہ خُدا کی تمجِید کرتے ہیں کہ تُم مسِیح کی خُوشخبری کا اِقرار کر کے اُس پر تابِع داری سے عمل کرتے ہو اور اُن کی اور سب لوگوں کی مدد کرنے میں سخاوت کرتے ہو۔

14 اور وہ تُمہارے لِئے دُعا کرتے ہیں اور تُمہارے مُشتاق ہیں اِس لِئے کہ تُم پر خُدا کا بڑا ہی فضل ہے۔

15 شُکر خُدا کا اُس کی اُس بخشِش پر جو بیان سے باہر ہے۔

۲-کُرِنتھِیوں 10

پَولُس اپنی خِدمت کا دفاع کرتاہے

1 مَیں پَولس جو تُمہارے رُوبرُو عاجِز اور پِیٹھ پِیچھے تُم پر دِلیر ہُوں مسِیح کا حِلم اور نرمی یاد دِلا کر خُود تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں۔

2 بلکہ مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے حاضِر ہو کر اُس بے باکی کے ساتھ دِلیر نہ ہونا پڑے جِس سے مَیں بعض لوگوں پر دِلیر ہونے کا قَصد رکھتا ہُوں جو ہمیں یُوں سمجھتے ہیں کہ ہم جِسم کے مُطابِق زِندگی گُذارتے ہیں۔

3 کیونکہ ہم اگرچہ جِسم میں زِندگی گُذارتے ہیں مگر جِسم کے طَور پر لڑتے نہیں۔

4 اِس لِئے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جِسمانی نہیں بلکہ خُدا کے نزدِیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابِل ہیں۔

5 چُنانچہ ہم تصوُّرات اور ہر ایک اُونچی چِیز کو جو خُدا کی پہچان کے برخِلاف سر اُٹھائے ہُوئے ہے ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قَید کر کے مسِیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں۔

6 اور ہم تیّار ہیں کہ جب تُمہاری فرمانبرداری پُوری ہو تو ہر طرح کی نافرمانی کا بدلہ لیں۔

7 تُم تو اُن چِیزوں پر نظر کرتے ہو جو آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ اگر کِسی کو اپنے آپ پر یہ بھروسا ہے کہ وہ مسِیح کا ہے تو اپنے دِل میں یہ بھی سوچ لے کہ جَیسے وہ مسِیح کا ہے وَیسے ہی ہم بھی ہیں۔

8 کیونکہ اگر مَیں اِس اِختیار پر کُچھ زیادہ فخر بھی کرُوں جو خُداوند نے تُمہارے بنانے کے لِئے دِیا ہے نہ کہ بِگاڑنے کے لِئے تو مَیں شرمِندہ نہ ہُوں گا۔

9 یہ مَیں اِس لِئے کہتا ہُوں کہ خَطوں کے ذرِیعہ سے تُم کو ڈرانے والا نہ ٹھہرُو ں۔

10 کیونکہ کہتے ہیں کہ اُس کے خَط تو اَلبتّہ مُؤثّر اور زبردست ہیں لیکن جب خُود مَوجُود ہوتا ہے تو کمزور سا معلُوم ہوتا ہے اور اُس کی تقرِیر لچر ہے۔

11 پس اَیسا کہنے والا سَمجھ رکھّے کہ جَیسا پِیٹھ پِیچھے خَطوں میں ہمارا کلام ہے وَیسا ہی مَوجُودگی کے وقت ہمارا کام بھی ہو گا۔

12 کیونکہ ہماری یہ جُرأت نہیں کہ اپنے آپ کو اُن چند شخصوں میں شُمار کریں یا اُن سے کُچھ نِسبت دیں جو اپنی نیک نامی جتاتے ہیں لیکن وہ خُود اپنے آپ کو آپس میں وزن کر کے اور اپنے آپ کو ایک دُوسرے سے نِسبت دے کر نادان ٹھہرتے ہیں۔

13 لیکن ہم اندازہ سے زیادہ فخر نہ کریں گے بلکہ اُسی عِلاقہ کے اندازہ کے مُوافِق جو خُدا نے ہمارے لِئے مُقرّر کِیا ہے ۔ جِس میں تُم بھی آ گئے ہو۔

14 کیونکہ ہم اپنے آپ کو حد سے زیادہ نہیں بڑھاتے جَیسے کہ تُم تک نہ پُہنچنے کی صُورت میں ہوتا بلکہ ہم مسِیح کی خُوشخبری دیتے ہُوئے تُم تک پُہنچ گئے تھے۔

15 اور ہم اندازہ سے زِیادہ یعنی اَوروں کی مِحنتوں پر فخر نہیں کرتے لیکن اُمِّیدوار ہیں کہ جب تُمہارے اِیمان میں ترقّی ہو تو ہم تُمہارے سبب سے اپنے عِلاقہ کے مُوافِق اَور بھی بڑھیں۔

16 تاکہ تُمہاری سرحدّ سے پرے خُوشخبری پُہنچا دیں نہ کہ غَیر کے عِلاقہ میں بنی بنائی چِیزوں پر فخر کریں۔

17 غرض جو فخر کرے وہ خُداوند پر فخر کرے۔

18 کیونکہ جو اپنی نیک نامی جتاتا ہے وہ مقبُول نہیں بلکہ جِس کو خُداوند نیک نام ٹھہراتا ہے وُہی مقبُول ہے۔

۲-کُرِنتھِیوں 11

پَولُس اور جُھوٹے رسُول

1 کاش کہ تم میری تھوڑی سی بیوُقُوفی کی برداشت کر سکتے! ہاں تُم میری برداشت کرتے تو ہو۔

2 مُجھے تُمہاری بابت خُدا کی سی غَیرت ہے کیونکہ مَیں نے ایک ہی شَوہر کے ساتھ تُمہاری نِسبت کی ہے تاکہ تُم کو پاک دامن کُنواری کی مانِند مسِیح کے پاس حاضِر کرُوں۔

3 لیکن مَیں ڈرتا ہُوں ۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ جِس طرح سانپ نے اپنی مَکّاری سے حوّا کو بہکایا اُسی طرح تُمہارے خیالات بھی اُس خلُوص اور پاک دامنی سے ہٹ جائیں جو مسِیح کے ساتھ ہونی چاہئے۔

4 کیونکہ جو آتا ہے اگر وہ کِسی دُوسرے یِسُو ع کی مُنادی کرتا ہے جِس کی ہم نے مُنادی نہیں کی یا کوئی اَور رُوح تُم کو مِلتی ہے جو نہ مِلی تھی یا دُوسری خُوشخبری مِلی جِس کو تُم نے قبُول نہ کِیا تھا تو تُمہارا برداشت کرنا بجا ہے۔

5 مَیں تو اپنے آپ کو اُن افضل رسُولوں سے کُچھ کم نہیں سمجھتا۔

6 اور اگر تقرِیر میں بے شعُور ہُوں تو عِلم کے اِعتبار سے تو نہیں بلکہ ہم نے اِس کو ہر بات میں تمام آدمِیوں پر تُمہاری خاطِر ظاہِر کر دِیا۔

7 کیا یہ مُجھ سے خطا ہُوئی کہ مَیں نے تُمہیں خُدا کی خُوشخبری مُفت پُہنچا کر اپنے آپ کو پَست کِیا تاکہ تُم بُلند ہو جاؤ؟۔

8 مَیں نے اَور کلِیسیاؤں کولُوٹا یعنی اُن سے اُجرت لی تاکہ تُمہاری خِدمت کرُوں۔

9 اور جب مَیں تُمہارے پاس تھا اور حاجت مَند ہو گیا تھا تَو بھی مَیں نے کِسی پر بوجھ نہیں ڈالا کیونکہ بھائِیوں نے مَکِدُنیہ سے آ کر میری حاجِت کو رفع کر دِیا تھا اور مَیں ہر ایک بات میں تُم پر بوجھ ڈالنے سے باز رہا اور رہُوں گا۔

10 مسِیح کی صداقت کی قَسم جو مُجھ میں ہے ۔ اَخیہ کے عِلاقہ میں کوئی شخص مُجھے یہ فخر کرنے سے نہ روکے گا۔

11 کِس واسطے؟ کیا اِس واسطے کہ مَیں تُم سے مُحبّت نہیں رکھتا؟ اِس کو خُدا جانتا ہے۔

12 لیکن جو کرتا ہُوں وُہی کرتا رہُوں گا تاکہ مَوقع ڈُھونڈنے والوں کو مَوقع نہ دُوں بلکہ جِس بات پر وہ فخر کرتے ہیں اُس میں ہم ہی جَیسے نِکلیں۔

13 کیونکہ اَیسے لوگ جُھوٹے رسُول اور دغابازی سے کام کرنے والے ہیں اور اپنے آپ کو مسِیح کے رسُولوں کے ہم شکل بنا لیتے ہیں۔

14 اور کُچھ عجب نہیں کیونکہ شَیطان بھی اپنے آپ کو نُورانی فرِشتہ کا ہم شکل بنا لیتا ہے۔

15 پس اگر اُس کے خادِم بھی راست بازی کے خادِموں کے ہم شکل بن جائیں تو کُچھ بڑی بات نہیں لیکن اُن کا انجام اُن کے کاموں کے مَوافِق ہو گا۔

رسُول ہونے کے باعِث پَولُس کے دُکھ

16 مَیں پِھر کہتا ہُوں کہ مُجھے کوئی بیوُقُوف نہ سمجھے ورنہ بیوُقُوف ہی سمجھ کر مُجھے قبُول کرو کہ مَیں بھی تھوڑا سا فخر کرُوں۔

17 جو کُچھ مَیں کہتا ہُوں وہ خُداوند کے طَور پر نہیں بلکہ گویا بیوُقُوفی سے اور اُس جُرأت سے کہتا ہُوں جو فخر کرنے میں ہوتی ہے۔

18 جہاں اَور بُہتیرے جِسمانی طَور پر فخر کرتے ہیں مَیں بھی کرُوں گا۔

19 کیونکہ تُم تو عقل مَند ہو کر خُوشی سے بیوُقُوفوں کی برداشت کرتے ہو۔

20 جب کوئی تُمہیں غُلام بناتا ہے یا کھا جاتا ہے یا پھنسا لیتا ہے یا اپنے آپ کو بڑا بناتا ہے یا تُمہارے مُنہ پر طمانچہ مارتا ہے تو تُم برداشت کر لیتے ہو۔

21 میرا یہ کہنا ذِلّت ہی کے طَور پر سہی کہ ہم کمزور سے تھے

مگر جِس کِسی بات میں کوئی دِلیر ہے (اگرچہ یہ کہنا بیوُقُوفی ہے) مَیں بھی دِلیر ہُوں۔

22 کیا وُہی عِبرانی ہیں؟ مَیں بھی ہُوں ۔ کیا وُہی اِسرائیلی ہیں؟ مَیں بھی ہُوں ۔ کیا وُہی ابرہا م کی نسل سے ہیں؟ مَیں بھی ہُوں۔

23 کیا وُہی مسِیح کے خادِم ہیں؟ (میرا یہ کہنا دِیوانگی ہے) مَیں زِیادہ تر ہُوں ۔ مِحنتوں میں زِیادہ ۔ قَید میں زِیادہ ۔ کوڑے کھانے میں حَد سے زِیادہ ۔ بارہا مَوت کے خطروں میں رہا ہُوں۔

24 مَیں نے یہُودِیوں سے پانچ بار ایک کم چالِیس چالِیس کوڑے کھائے۔

25 تِین بار بیَنت لگے ۔ ایک بار سنگسار کِیا گیا ۔ تِین مرتبہ جہاز ٹُوٹنے کی بَلا میں پڑا ۔ ایک رات دِن سمُندر میں کاٹا۔

26 مَیں بار ہا سفر میں ۔ دریاؤں کے خطروں میں ۔ ڈاکُوؤں کے خطروں میں ۔ اپنی قَوم سے خطروں میں ۔ غَیر قَوموں سے خطروں میں ۔ شہر کے خطروں میں ۔ بیابان کے خطروں میں ۔ سمُندر کے خطروں میں ۔ جُھوٹے بھائِیوں کے خطروں میں۔

27 مِحنت اور مشقّت میں ۔ بار ہا بیداری کی حالت میں ۔ بُھوک اور پِیاس کی مُصِیبت میں ۔ بار ہا فاقہ کشی میں ۔ سردی اور ننگے پَن کی حالت میں رہا ہُوں۔

28 اَور باتوں کے عِلاوہ جِن کا مَیں ذِکر نہیں کرتا سب کلِیسیاؤں کی فِکر مُجھے ہر روز آ دَباتی ہے۔

29 کِس کی کمزوری سے مَیں کمزور نہیں ہوتا؟ کِس کے ٹھوکر کھانے سے میرا دِل نہیں دُکھتا؟۔

30 اگر فخر ہی کرنا ضرُور ہے تواُن باتوںپر فخرکرُو ں گا جومیری کمزوری سے مُتعلّق ہیں۔

31 خُداوند یِسُو ع کا خُدا اور باپ جِس کی ابد تک حمد ہو جانتا ہے کہ مَیں جُھوٹ نہیں کہتا۔

32 دمِشق میں اُس حاکِم نے جو بادشاہ اَرِتاس کی طرف سے تھا میرے پکڑنے کے لئے دمِشقِیوں کے شہر پر پہرا بِٹھا رکھّا تھا۔

33 پِھر مَیں ٹوکرے میں کِھڑکی کی راہ دِیوار پر سے لٹکا دِیا گیا اور مَیں اُس کے ہاتھوں سے بچ گیا۔