گِنتی 15

قُربانی کے لِئے احکام

1 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا۔

2 بنی اِسرائیل سے کہہ جب تُم اپنے رہنے کے مُلک میں جو مَیں تُم کو دیتا ہُوں پُہنچو۔

3 اور خُداوند کے حضُور آتِشِین قُربانی یعنی سوختنی قُربانی یا خاص مَنّت کا ذبِیحہ یا رضا کی قُربانی گُذرانو یا اپنی مُعیّن عِیدوں میں راحت انگیز خُوشبُو کے طَور پر خُداوند کے حضُور گائے بَیل یا بھیڑ بکری چڑھاؤ۔

4 تو جو شخص اپنا چڑھاوا لائے وہ خُداوند کے حضُور نذر کی قُربانی کے طَور پر اَیفہ کے دسویں حِصّہ کے برابر مَیدہ جِس میں چَوتھائی ہِین کے برابر تیل مِلا ہُؤا ہو۔

5 اور تپاون کے طَور پر چَوتھائی ہِین کے برابر مَے بھی لائے ۔ تُو اپنی سوختنی قُربانی یا اپنے ذبِیحہ کے ہر برّہ کے ساتھ اِتنا ہی تیّار کِیا کرنا۔

6 اور ہر مینڈھے کے ساتھ اَیفہ کے پانچویں حِصّہ کے برابر مَیدہ جِس میں تِہائی ہِین کے برابر تیل مِلا ہُؤا ہو نذر کی قُربانی کے طَور پر لانا۔

7 اور تپاون کے طَور پر تِہائی ہِین کے برابر مَے دینا تاکہ وہ خُداوند کے حضُور راحت انگیز خُوشبُو ٹھہرے۔

8 اور جب تُو خُداوند کے حضُور سوختنی قُربانی یا خاص مَنّت کے ذبِیحہ یا سلامتی کے ذبِیحہ کے طَور پر بچھڑا گُذرانے۔

9 تو وہ اُس بچھڑے کے ساتھ نذر کی قُربانی کے طَور پر اَیفہ کے تِین دہائی حِصّہ کے برابر مَیدہ جِس میں نِصف ہِین کے برابر تیل مِلا ہُؤا ہو چڑھائے۔

10 اور تُو تپاون کے طَور پر نِصف ہِین کے برابر مَے گُذراننا تاکہ وہ خُداوند کے حضُور راحت انگیز خُوشبو کی آتِشِین قُربانی ٹھہرے۔

11 ہر بچھڑے اور ہر مینڈھے اور ہر نر برّہ یا بکری کے بچّہ کے لِئے اَیسا ہی کِیا جائے۔

12 تُم جِتنے جانور لاؤ اُن کے شُمار کے مُطابِق ایک ایک کے ساتھ اَیسا ہی کرنا۔

13 جِتنے دیسی خُداوند کے حضُور راحت انگیز خُوشبُو کی آتِشِین قُربانی گُذرانیں وہ اُس وقت یہ سب کام اِسی طرِیقہ سے کریں۔

14 اور اگر کوئی پردیسی تُمہارے ساتھ بُود و باش کرتا ہو یا جو کوئی پُشتوں سے تُمہارے ساتھ رہتا آیا ہو اور وہ خُداوند کے حضُور راحت انگیز خُوشبُو کی آتشِین قُربانی گُذراننا چاہے تو جَیسا تُم کرتے ہو وہ بھی وَیسا ہی کرے۔

15 مجمع کے لِئے یعنی تُمہارے لِئے اور اُس پردیسی کے لِئے جو تُم میں رہتا ہو نسل در نسل سدا ایک ہی آئِین رہے گا ۔ خُداوند کے آگے پردیسی بھی وَیسے ہی ہوں جَیسے تُم ہو۔

16 تُمہارے لِئے اور پردیسِیوں کے لِئے جو تُمہارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانُون ہو۔

17 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ۔

18 بنی اِسرائیل سے کہہ جب تُم اُس مُلک میں پُہنچو جہاں مَیں تُم کو لِئے جاتا ہُوں۔

19 اور اُس مُلک کی روٹی کھاؤ تو خُداوند کے حضُور اُٹھانے کی قُربانی گُذراننا۔

20 تُم اپنے پہلے گُوندھے ہُوئے آٹے کا ایک گِردہ اُٹھانے کی قُربانی کے طَور پر چڑھانا جَیسے کھلیہان کی اُٹھانے کی قُربانی کو لے کر اُٹھاتے ہو وَیسے ہی اِسے بھی اُٹھانا۔

21 تُم اپنی پُشت در پُشت اپنے پہلے ہی گُوندھے ہُوئے آٹے میں سے کُچھ لے کر اُسے خُداوند کے حضُور اُٹھانے کی قُربانی کے طَور پر گُذراننا۔

22 اور اگر تُم سے بُھول ہو جائے اور تُم نے اُن سب حُکموں پر جو خُداوند نے مُوسیٰ کو دِئے عمل نہ کِیا ہو۔

23 یعنی جِس دِن سے خُداوند نے حُکم دینا شرُوع کِیا اُس دِن سے لے کر آگے آگے جو کُچھ حُکم خُداوند نے تُمہاری نسل در نسل مُوسیٰ کی معرفت تُم کو دِیا ہے۔

24 اُس میں اگر سہواً کوئی خطا ہو گئی ہو اور جماعت اُس سے واقِف نہ ہو تو ساری جماعت ایک بچھڑا سوختنی قُربانی کے لِئے گُذرانے تاکہ وہ خُداوند کے حضُور راحت انگیز خُوشبُو ہو اور اُس کے ساتھ شرع کے مُطابِق اُس کی نذر کی قُربانی اور اُس کا تپاون بھی چڑھائے اور خطا کی قُربانی کے لِئے ایک بکرا گُذرانے۔

25 یُوں کاہِن بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے لِئے کفّارہ دے تو اُن کو مُعافی مِلے گی کیونکہ یہ محض بُھول تھی اور اُنہوں نے اُس بُھول کے بدلے وہ قُربانی بھی چڑھائی جو خُداوند کے حضُور آتِشِین قُربانی ٹھہرتی ہے اور خطا کی قُربانی بھی خُداوند کے حضُور گُذرانی۔

26 تب بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کو اور اُن پردیسِیوں کو بھی جو اُن میں رہتے ہیں مُعافی مِلے گی کیونکہ جماعت کے اِعتبار سے یہ سہواً ہُؤا۔

27 اور اگر ایک ہی شخص سہواً خطا کرے تو وہ یکسالہ بکری خطا کی قُربانی کے لِئے چڑھائے۔

28 یُوں کاہِن اُس شخص کی طرف سے جِس نے سہواً خطا کی اُس کی خطا کے لِئے خُداوند کے حضُور کفّارہ دے تو اُسے مُعافی مِلے گی۔

29 جِس شخص نے سہواً خطا کی ہو اُس کے لِئے تُم ایک ہی شرع رکھنا خواہ وہ بنی اِسرائیل میں سے دیسی ہو یا پردیسی جو اُن میں رہتا ہو۔

30 لیکن جو شخص بے باک ہو کر گُناہ کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خُداوند کی اہانت کرتا ہے ۔ وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا۔

31 کیونکہ اُس نے خُداوند کے کلام کی حِقارت کی اور اُس کے حُکم کو توڑ ڈالا ۔ وہ شخص بِالکُل کاٹ ڈالا جائے گا ۔ اُس کا گُناہ اُسی کے سر لگے گا۔

وہ آدمی جِس نے سبت کی خِلاف ورزی کی

32 اور جب بنی اِسرائیل بیابان میں رہتے تھے اُن دِنوں ایک آدمی اُن کو سبت کے دِن لکڑیاں جمع کرتا ہُؤا مِلا۔

33 اور جِن کو وہ لکڑیاں جمع کرتا ہُؤا مِلا وہ اُسے مُوسیٰ اور ہارُون اور ساری جماعت کے پاس لے گئے۔

34 اُنہوں نے اُسے حوالات میں رکھّا کیونکہ اُن کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اُس کے ساتھ کیا کرنا چاہئے۔

35 تب خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ یہ شخص ضرُور جان سے مارا جائے ۔ ساری جماعت لشکرگاہ کے باہر اُسے سنگسار کرے۔

36 چُنانچہ جَیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم دِیا تھا اُس کے مُطابِق ساری جماعت نے اُسے لشکرگاہ کے باہر لے جا کر سنگسار کِیا اور وہ مَر گیا۔

جھالر کے لِئے احکام

37 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا۔

38 بنی اِسرائیل سے کہہ کہ وہ نسل در نسل اپنے پَیراہنوں کے کناروں پر جھالر لگائیں اور ہر کنارے کی جھالر کے اُوپر آسمانی رنگ کا ڈورا ٹانکیں۔

39 یہ جھالر تُمہارے لِئے اَیسی ہو کہ جب تُم اُسے دیکھو تو خُداوند کے سب حُکموں کو یاد کر کے اُن پر عمل کرو اور اپنے دِل اور آنکھوں کی خواہِشوں کی پَیروی میں زِناکاری نہ کرتے پِھرو جَیسا کرتے آئے ہو۔

40 بلکہ میرے سب حُکموں کو یاد کر کے اُن کو عمل میں لاؤ اور اپنے خُدا کے لِئے مُقدّس ہو۔

41 مَیں خُداوند تُمہارا خُدا ہُوں جو تُم کو مُلکِ مِصر سے نِکال کر لایا تاکہ تُمہارا خُدا ٹھہروں ۔ مَیں خُداوند تُمہارا خُدا ہُوں۔

گِنتی 16

قورح ، داتن اور ابیرام کی بغاوت

1 اور قورح بِن اِضہار بِن قہات بِن لاو ی نے بنی رُوبن میں سے الِیاب کے بیٹوں داتن اور اَبِیرام اور پلت کے بیٹے اون کے ساتھ مِل کر اَور آدمِیوں کو ساتھ لیا۔

2 اور وہ اور بنی اِسرائیل میں سے ڈھائی سَو اَور اشخاص جو جماعت کے سردار اور چِیدہ اور مشہُور آدمی تھے مُوسیٰ کے مُقابلہ میں اُٹھے۔

3 اور وہ مُوسیٰ اور ہارُون کے خِلاف اِکٹّھے ہو کر اُن سے کہنے لگے تُمہارے تو بڑے دعوے ہو چلے ۔ کیونکہ جماعت کا ایک ایک آدمی مُقدّس ہے اور خُداوند اُن کے بِیچ رہتا ہے سو تُم اپنے آپ کو خُداوند کی جماعت سے بڑا کیونکر ٹھہراتے ہو؟۔

4 مُوسیٰ یہ سُن کر مُنہ کے بل گِرا۔

5 پِھر اُس نے قورح اور اُس کے کُل فریق سے کہا کہ کل صُبح خُداوند دِکھا دے گا کہ کَون اُس کا ہے اور کَون مُقدّس ہے اور وہ اُسی کو اپنے نزدِیک آنے دے گا کیونکہ جِسے وہ خُود چُنے گا اُسے وہ اپنی قُربت بھی دے گا۔

6 سو اَے قورح اور اُس کے فریق کے لوگو! تُم یُوں کرو کہ اپنا اپنا بخُوردان لو۔

7 اور اُن میں آگ بھرو اور خُداوند کے حضُور کل اُن میں بخُور جلاؤ ۔ تب جِس شخص کو خُداوند چُن لے وُہی مُقدّس ٹھہرے گا ۔ اَے لاو ی کے بیٹو! بڑے بڑے دعوے تو تُمہارے ہیں۔

8 پِھر مُوسیٰ نے قورح کی طرف مُخاطِب ہو کر کہا اَے بنی لاوی سُنو۔

9 کیا یہ تُم کو چھوٹی بات دِکھائی دیتی ہے کہ اِسرا ئیل کے خُدا نے تُم کو بنی اِسرائیل کی جماعت میں سے چُن کر الگ کِیا تاکہ تُم کو وہ اپنی قُربت بخشے اور تُم خُداوند کے مسکن کی خِدمت کرو اور جماعت کے آگے کھڑے ہو کر اُس کی بھی خِدمت بجا لاؤ۔

10 اور تُجھے اور تیرے سب بھائیوں کو جو بنی لاوی ہیں اپنے نزدِیک آنے دِیا؟ سو کیا اب تُم کہانت کو بھی چاہتے ہو؟۔

11 اِسی لِئے تُو اور تیرے فریق کے لوگ یہ سب کے سب خُداوند کے خِلاف اِکٹّھے ہُوئے ہیں اور ہارُون کَون ہے جو تُم اُس کی شِکایت کرتے ہو؟۔

12 پِھر مُوسیٰ نے داتن اور ابیرام کو جو الِیاب کے بیٹے تھے بُلوا بھیجا ۔ اُنہوں نے کہا ہم نہیں آتے۔

13 کیا یہ چھوٹی بات ہے کہ تُو ہم کو ایک اَیسے مُلک سے جِس میں دُودھ اور شہد بہتا ہے نِکال لایا ہے کہ ہم کو بیابان میں ہلاک کرے اور اُس پر بھی یہ طُرّہ ہے کہ اب تُو سردار بن کر ہم پر حُکومت جتاتا ہے؟۔

14 ماسِوا اِس کے تُو نے ہم کو اُس مُلک میں بھی نہیں پُہنچایا جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے اور نہ ہم کو کھیتوں اور تاکِستانوں کا وارِث بنایا ۔ کیا تُو اِن لوگوں کی آنکھیں نِکال ڈالے گا؟ ہم تو نہیں آنے کے۔

15 تب مُوسیٰ نِہایت طَیش میں آکر خُداوند سے کہنے لگا تُو اُن کے ہدیہ کی طرف توجُّہ مت کر ۔ مَیں نے اُن سے ایک گدھا بھی نہیں لِیا نہ اُن میں سے کِسی کو کوئی نُقصان پُہنچایا ہے۔

16 پِھر مُوسیٰ نے قورح سے کہا کل تُو اپنے سارے فریق کے لوگوں کو لے کر خُداوند کے آگے حاضِر ہو ۔ تُو بھی ہو اور وہ بھی ہوں اور ہارُون بھی ہو۔

17 اور تُم میں سے ہر شخص اپنا بخُور دان لے کر اُس میں بخُور ڈالے اور تُم اپنے اپنے بخُور دان کو جو شُمار میں ڈھائی سَو ہوں گے خُداوند کے حضُور لاؤ اور تُو بھی اپنا بخُور دان لانا اور ہارُون بھی لائے۔

18 سو اُنہوں نے اپنا اپنا بخُور دان لے کر اور اُن میں آگ رکھ کر اُس پر بخُور ڈالا اور خَیمۂِ اِجتماع کے دروازہ پر مُوسیٰ اور ہارُون کے ساتھ آکر کھڑے ہُوئے۔

19 اور قورَح نے ساری جماعت کو اُن کے خِلاف خَیمۂِ اِجتماع کے دروازہ پر جمع کر لِیا تھا ۔ تب خُداوند کا جلال ساری جماعت کے سامنے نُمایاں ہُؤا۔

20 اور خُداوند نے مُوسیٰ اور ہارُون سے کہا۔

21 کہ تُم اپنے آپ کو اِس جماعت سے بِالُکل الگ کر لو تاکہ مَیں اُن کو ایک پل میں بھسم کر دُوں۔

22 تب وہ مُنہ کے بل گِر کر کہنے لگے اَے خُدا! سب بشر کی رُوحوں کے خُدا! کیا ایک آدمی کے گُناہ کے سبب سے تیرا قہر ساری جماعت پر ہو گا؟۔

23 تب خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا۔

24 تُو جماعت سے کہہ کہ تُم قورح اور داتن اور ابیرا م کے خَیموں کے آس پاس سے دُور ہٹ جاؤ۔

25 اور مُوسیٰ اُٹھ کر داتن اور ابیرا م کی طرف گیا اور بنی اِسرائیل کے بزُرگ اُس کے پِیچھے پِیچھے گئے۔

26 اور اُس نے جماعت سے کہا اِن شرِیر آدمِیوں کے خَیموں سے نِکل جاؤ اور اُن کی کِسی چِیز کو ہاتھ نہ لگاؤ تا نہ ہو کہ تُم بھی اُن کے سب گُناہوں کے سبب سے نیست ہو جاؤ۔

27 سو وہ لوگ قورح اور داتن اور ابیرا م کے خَیموں کے آس پاس سے دُور ہٹ گئے

اور داتن اور ابیرا م اپنی بِیویوں اور بیٹوں اور بال بچّوں سمیت نِکل کر اپنے خَیموں کے دروازوں پر کھڑے ہُوئے۔

28 تب مُوسیٰ نے کہا اِس سے تُم جان لو گے کہ خُداوند نے مُجھے بھیجا ہے کہ یہ سب کام کرُوں کیونکہ مَیں نے اپنی مرضی سے کُچھ نہیں کِیا۔

29 اگر یہ آدمی وَیسی ہی مَوت سے مَریں جو سب لوگوں کو آتی ہے یا اِن پر وَیسے ہی حادِثے گُذریں جو سب پر گُذرتے ہیں تو مَیں خُداوند کا بھیجا ہُؤا نہیں ہُوں۔

30 پر اگر خُداوند کوئی نیا کرِشمہ دِکھائے اور زمِین اپنا مُنہ کھول دے اور اِن کو اِن کے گھر بار سمیت نِگل جائے اور یہ جِیتے جی پاتال میں سما جائیں تُو تُم جاننا کہ اِن لوگوں نے خُداوند کی تحقِیر کی ہے۔

31 اُس نے یہ باتیں ختم ہی کی تِھیں کہ زمِین اُن کے پاؤں تلے پَھٹ گئی۔

32 اور زمِین نے اپنا مُنہ کھول دِیا اور اُن کو اور اُن کے گھر بار کو اور قورح کے ہاں کے سب آدمِیوں کو اور اُن کے سارے مال و اسباب کو نِگل گئی۔

33 سو وہ اور اُن کا سارا گھر بار جِیتے جی پاتال میں سما گئے اور زمِین اُن کے اُوپر برابر ہو گئی اور وہ جماعت میں سے نابُود ہو گئے۔

34 اور سب اِسرائیلی جو اُن کے آس پاس تھے اُن کا چِلاّنا سُن کر یہ کہتے ہُوئے بھاگے کہ کہِیں زمِین ہم کو بھی نِگل نہ لے۔

35 اور خُداوند کے حضُور سے آگ نِکلی اور اُن ڈھائی سَو آدمِیوں کوجِنہوں نے بخُور گُذرانا تھا بھسم کر ڈالا۔

بخُور دان

36 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ۔

37 ہارُون کاہِن کے بیٹے اِلیِعز رسے کہہ کہ وہ بخُور دانوں کو شُعلوں میں سے اُٹھا لے اور آگ کے انگاروں کو اُدھر ہی بکھیر دے کیونکہ وہ پاک ہیں۔

38 جو خطاکار اپنی ہی جان کے دُشمن ہُوئے اُن کے بخُور دانوں کے پِیٹ پِیٹ کر پتّربنائے جائیں تاکہ وہ مذبح پر منڈھے جائیں کیونکہ اُنہوں نے اُن کو خُداوند کے حضُور رکھّا تھا اِس لِئے وہ پاک ہیں اور وہ بنی اِسرائیل کے لِئے ایک نِشان بھی ٹھہریں گے۔

39 تب اِلیعِزر کاہِن نے پِیتل کے اُن بخُور دانوں کو اُٹھا لِیا جِن میں اُنہوں نے جو بھسم کر دِئے گئے تھے بخُور گُذرانا تھا اور مذبح پر منڈھنے کے لِئے اُن کے پتّر بنوائے۔

40 تاکہ بنی اِسرائیل کے لِئے ایک یادگار ہو کہ کوئی غَیر شخص جو ہارُون کی نسل سے نہیں خُداوند کے حضُور بخُور جلانے کو نزدِیک نہ جائے تا نہ ہو کہ وہ قورح اور اُس کے فریق کی طرح ہلاک ہو جَیسا خُداوند نے اُس کو مُوسیٰ کی معرفت بتا دِیا تھا۔

ہارُون لوگوں کو بچاتا ہے

41 لیکن دُوسرے ہی دِن بنی اِسرائیل کی ساری جماعت نے مُوسیٰ اور ہارُون کی شِکایت کی اور کہنے لگے کہ تُم نے خُداوند کے لوگوں کو مار ڈالا ہے۔

42 اور جب وہ جماعت مُوسیٰ اور ہارُون کے خِلاف اِکٹّھی ہو رہی تھی تو اُنہوں نے خَیمۂِ اِجتماع کی طرف نِگاہ کی اور دیکھا کہ ابر اُس پر چھایا ہُؤا ہے اور خُداوند کا جلال نُمایاں ہے۔

43 تب مُوسیٰ اور ہارُون خَیمۂِ اِجتماع کے سامنے آئے۔

44 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ۔

45 تُم اِس جماعت کے بِیچ سے ہٹ جاؤ تاکہ مَیں اِن کو ایک پل میں بھسم کر ڈالُوں ۔

تب وہ مُنہ کے بل گِرے۔

46 اور مُوسیٰ نے ہارُون سے کہا اپنا بخُور دان لے اور مذبح پر سے آگ لے کر اُس میں ڈال اور اُس پر بخُور جلا اور جلد جماعت کے پاس جا کر اُن کے لِئے کفّارہ دے کیونکہ خُداوند کا قہر نازِل ہُؤا ہے اور وبا شرُوع ہو گئی۔

47 مُوسیٰ کے کہنے کے مُطابِق ہارُون بخُور دان لے کر جماعت کے بِیچ میں دَوڑتا ہُؤا گیا اور دیکھا کہ وبا لوگوں میں پَھیلنے لگی ہے ۔ سو اُس نے بخُور جلایا اور اُن لوگوں کے لِئے کفّارہ دِیا۔

48 اور وہ مُردوں اور زِندوں کے بِیچ میں کھڑا ہُؤا ۔ تب وبا مَوقُوف ہُوئی۔

49 سو علاوہ اُن کے جو قورح کے مُعاملہ کے سبب سے ہلاک ہُوئے تھے چَودہ ہزار سات سَو آدمی وبا سے چھیج گئے۔

50 پِھرہارُون لَوٹ کر خَیمۂِ اِجتماع کے دروازہ پر مُوسیٰ کے پاس آیا اور وبا مَوقُوف ہو گئی۔

گِنتی 17

ہارُون کی لاٹھی

1 پِھر خُداوند نے مُوسیٰ سے سے کہا کہ۔

2 بنی اِسرائیل سے گُفتگُو کر کے اُن کے سب سرداروں سے اُن کے آبائی خاندانوں کے مُطابِق فی خاندان ایک لاٹھی کے حِساب سے بارہ لاٹِھیاں لے اور ہر سردار کا نام اُسی کی لاٹھی پر لِکھ۔

3 اور لاوی کی لاٹھی پر ہارُون کا نام لِکھنا کیونکہ اُن کے آبائی خاندانوں کے ہر سردار کے لِئے ایک لاٹھی ہو گی۔

4 اور اُن کو لے کر خَیمۂِ اِجتماع میں شہادت کے صندُوق کے سامنے جہاں مَیں تُم سے مُلاقات کرتا ہُوں رکھ دینا۔

5 اور جِس شخص کو مَیں چُنوں گا اُس کی لاٹھی سے کلِیاں پُھوٹ نِکلیں گی اور بنی اِسرائیل جو تُم پر کُڑکُڑاتے رہتے ہیں وہ کُڑکُڑانا مَیں اپنے پاس سے دفع کرُوں گا۔

6 سو مُوسیٰ نے بنی اِسرائیل سے گُفتگُو کی اور اُن کے سب سرداروں نے اپنے آبائی خاندانوں کے مُطابِق فی سردار ایک لاٹھی کے حِساب سے بارہ لاٹِھیاں اُس کو دِیں اور ہارُون کی لاٹھی بھی اُن کی لاٹِھیوں میں تھی۔

7 اور مُوسیٰ نے اُن لاٹِھیوں کو شہادت کے خَیمہ میں خُداوند کے حضُور رکھ دِیا۔

8 اور دُوسرے دِن جب مُوسیٰ شہادت کے خَیمہ میں گیا تو دیکھا کہ ہارُون کی لاٹھی میں جو لاو ی کے خاندان کے نام کی تھی کلِیاں پُھوٹی ہُوئی اور شگُوفے کِھلے ہُوئے اور پکّے بادام لگے ہیں۔

9 اور مُوسیٰ اُن سب لاٹِھیوں کو خُداوند کے حضُور سے نِکال کر سب بنی اِسرائیل کے پاس لے گیا اور اُنہوں نے دیکھا اور ہر شخص نے اپنی لاٹھی لے لی۔

10 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ ہارُون کی لاٹھی شہادت کے صندُوق کے آگے دھر دے تاکہ وہ فِتنہ انگیزوں کے لِئے ایک نِشان کے طَور پر رکھّی رہے اور اِس طرح تُو اُن کی شِکایتیں جو میرے خِلاف ہوتی رہتی ہیں بند کر دے تاکہ وہ ہلاک نہ ہوں۔

11 اور مُوسیٰ نے جَیسا خُداوند نے اُسے حُکم دِیا تھا وَیسا ہی کِیا۔

12 اور بنی اِسرائیل نے مُوسیٰ سے کہا ۔ دیکھ ہم نیست ہُوئے جاتے ۔ ہم ہلاک ہُوئے جاتے ۔ ہم سب کے سب ہلاک ہُوئے جاتے ہیں۔

13 جو کوئی خُداوند کے مسکن کے نزدِیک جاتا ہے مَر جاتا ہے ۔ تو کیا ہم سب کے سب نیست ہی ہو جائیں گے؟۔

گِنتی 18

کاہِنوں اور لاویوں کی فرائِض

1 اور خُداوند نے ہارُون سے کہا کہ مَقدِس کا بارِ گُناہ تُجھ پر اور تیرے بیٹوں اور تیرے آبائی خاندان پر ہو گا اور تُمہاری کہانت کا بارِ گُناہ بھی تُجھ پر اور تیرے بیٹوں پر ہو گا۔

2 اور تُو لاو ی کے قبِیلہ یعنی اپنے باپ کے قبِیلہ کے لوگوں کو بھی جو تیرے بھائی ہیں اپنے ساتھ لے آیا کر تاکہ وہ تیرے ساتھ ہو کر تیری خِدمت کریں پر شہادت کے خَیمہ کے آگے تُو اور تیرے بیٹے ہی آیا کریں۔

3 وہ تیری خِدمت اور سارے خَیمہ کی مُحافظت کریں ۔ فقط وہ مَقدِس کے ظُروف اور مذبح کے نزدِیک نہ جائیں تا نہ ہو کہ وہ بھی اور تُم بھی ہلاک ہو جاؤ۔

4 سو وہ تیرے ساتھ ہو کر خَیمۂِ اِجتماع اور خَیمہ کے اِستعمال کی سب چِیزوں کی مُحافظت کریں اور کوئی غَیر شخص تُمہارے نزدِیک نہ آنے پائے۔

5 اور تُم مَقدِس اور مذبح کی مُحافظت کرو تاکہ آگے کوپِھربنی اِسرائیل پر قہر نازِل نہ ہو۔

6 اور دیکھو مَیں نے بنی لاوی کو جو تُمہارے بھائی ہیں بنی اِسرائیل سے الگ کر کے خُداوند کی خاطِر بخشِش کے طَور پر تُم کو سپُرد کِیا تاکہ وہ خَیمۂِ اِجتماع کی خِدمت کریں۔

7 پر مذبح کی اور پردہ کے اندر کی خِدمت تیرے اور تیرے بیٹوں کے ذِمّہ ہے ۔ سو اُس کے لِئے تُم اپنی کہانت کی حِفاظت کرنا ۔ وہاں تُم ہی خِدمت کِیا کرنا ۔ کہانت کی خِدمت کا شرف مَیں تُم کو بخشتا ہُوں اور جو غَیر شخص نزدِیک آئے وہ جان سے مارا جائے۔

کاہِنوں کا حِصّہ

8 پِھر خُداوند نے ہارُون سے کہا دیکھ مَیں نے بنی اِسرائیل کی سب پاک چِیزوں میں سے اُٹھانے کی قُربانیاں تُجھے دے دِیں ۔ مَیں نے اُن کو تیرے ممسُوح ہونے کا حق ٹھہرا کر تُجھے اور تیرے بیٹوں کو ہمیشہ کے لِئے دِیا۔

9 سب سے پاک چِیزوں میں سے جو کُچھ آگ سے بچایا جائے وہ تیرا ہو گا ۔ اُن کے سب چڑھاوے یعنی نذر کی قُربانی اور خطا کی قُربانی اور جُرم کی قُربانی جِن کو وہ میرے حضُور گُذرانیں وہ تیرے اور تیرے بیٹوں کے لِئے نِہایت مُقدّس ٹھہریں۔

10 اور تُو اُن کو نِہایت مُقدّس جان کر کھانا ۔ مَرد ہی مَرد اُن کو کھائیں ۔ وہ تیرے لِئے پاک ہیں۔

11 اور اپنے ہدیہ میں سے جو کُچھ بنی اِسرائیل اُٹھانے کی قُربانی اور ہِلانے کی قُربانی کے طَور پر گُذرانیں وہ بھی تیرا ہی ہو ۔ اِن کو مَیں تُجھ کو اور تیرے بیٹے بیٹِیوں کو ہمیشہ کے حق کے طَور پر دیتا ہُوں ۔ تیرے گھرانے میں جِتنے پاک ہیں وہ اُن کو کھائیں۔

12 اچھّے سے اچھّا تیل اور اچھّی سے اچھّی مَے اور اچھّے سے اچھّا گیہُوں یعنی اِن چِیزوں میں سے جو کُچھ وہ پہلے پَھل کے طَور پر خُداوند کے حضُور گُذرانیں وہ سب مَیں نے تُجھے دِیا۔

13 اُن کے مُلک کی ساری پَیداوار کے پہلے پکّے پَھل جِن کو وہ خُداوند کے حضُور لائیں تیرے ہوں گے ۔ تیرے گھرانے میں جِتنے پاک ہیں وہ اُن کو کھائیں۔

14 بنی اِسرائیل کی ہر ایک مخصُوص کی ہُوئی چِیز تیری ہو گی۔

15 اُن جانداروں میں سے جِن کو وہ خُداوند کے حضُور گُذرانتے ہیں جِتنے پہلوٹھی کے بچّے ہیں خواہ وہ اِنسان کے ہوں خواہ حَیوان کے وہ سب تیرے ہوں گے پر اِنسان کے پہلوٹھوں کا فِدیہ لے کر اُن کو ضرُور چھوڑ دینا اور ناپاک جانوروں کے پہلوٹھے بھی فِدیہ سے چھوڑ دِئے جائیں۔

16 اور جِن کا فِدیہ دِیا جائے وہ جب ایک مہِینہ کے ہوں تُو اُن کو اپنی ٹھہرائی ہُوئی قِیمت کے مُطابِق مَقدِس کی مِثقال کے حِساب سے جو بِیس جیرے کی ہوتی ہے چاندی کی پانچ مِثقال لے کر چھوڑ دینا۔

17 لیکن گائے اور بھیڑ بکری کے پہلوٹھوں کا فِدیہ نہ لِیا جائے ۔ وہ مُقدّس ہیں ۔ تُو اُن کا خُون مذبح پر چِھڑکنا اور اُن کی چربی آتِشِین قُربانی کے طَور پر جلا دینا تاکہ وہ خُداوند کے حضُور راحت انگیز خُوشبُو ٹھہرے۔

18 اور اُن کا گوشت تیرا ہو گا جِس طرح ہِلائی ہُوئی قُربانی کا سِینہ اور دہنی ران تیرے ہیں۔

19 جِتنی مُقدّس چِیزیں بنی اِسرائیل اُٹھانے کی قُربانی کے طَور پر خُداوند کے حضُور گُذرانیں اُن سبھوں کو مَیں نے تُجھے اور تیرے بیٹے بیٹِیوں کو ہمیشہ کے حق کے طَور پر دِیا ۔ یہ خُداوند کے حضُور تیرے اور تیری نسل کے لِئے نمک کا دائِمی عہد ہے۔

20 اور خُداوند نے ہارُون سے کہا کہ اُن کے مُلک میں تُجھے کوئی مِیراث نہیں مِلے گی اور نہ اُن کے درمِیان تیرا کوئی حِصّہ ہو گا کیونکہ بنی اِسرائیل میں تیرا حِصّہ اور تیری مِیراث مَیں ہُوں۔

لاویوں کا حِصّہ

21 اور بنی لاوی کو اُس خِدمت کے مُعاوضہ میں جو وہ خَیمۂِ اِجتماع میں کرتے ہیں مَیں نے بنی اِسرائیل کی ساری دَہ یکی مورُوثی حِصّہ کے طَور پر دی۔

22 اور آگے کو بنی اِسرائیل خَیمۂِ اِجتماع کے نزدِیک ہرگِز نہ آئیں تا نہ ہو کہ گُناہ اُن کے سر لگے اور وہ مَر جائیں۔

23 بلکہ بنی لاوی خَیمۂِ اِجتماع کی خِدمت کریں اور وُہی اُن کا بارِ گُناہ اُٹھائیں ۔ تُمہاری پُشت در پُشت یہ ایک دائِمی آئِین ہو اور بنی اِسرائیل کے درمِیان اُن کو کوئی مِیراث نہ مِلے۔

24 کیونکہ مَیں نے بنی اِسرائیل کی دَہ یکی کو جِسے وہ اُٹھانے کی قُربانی کے طَور پر خُداوند کے حضُور گُذرانیں گے اُن کا مورُوثی حِصّہ کر دِیا ہے ۔ اِسی سبب سے مَیں نے اُن کے حق میں کہا ہے کہ بنی اِسرائیل کے درمِیان اُن کو کوئی مِیراث نہ مِلے۔

لاویوں کی دَہ یکی

25 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ۔

26 تُو لاوِیوں سے اِتنا کہہ دینا کہ جب تُم بنی اِسرائیل سے اُس دَہ یکی کو لو جِسے مَیں نے اُن کی طرف سے تُمہارا مورُوثی حِصّہ کر دِیا ہےتو تُم اُس دَہ یکی کی دَہ یکی خُداوند کے حضُور اُٹھانے کی قُربانی کے لِئے گُذراننا۔

27 اور یہ تُمہاری اُٹھائی ہُوئی قُربانی تُمہاری طرف سے اَیسی ہی سمجھی جائے گی جَیسے کھلِیہان کا غلّہ اور کولُھو کی مَے سمجھی جاتی ہے۔

28 اِس طریقہ سے تُم بھی اپنی سب دَہ یکیوں میں سے جو تُم کو بنی اِسرائیل کی طرف سے مِلیں گی خُداوند کے حضُور اُٹھانے کی قُربانی گُذراننا اور خُداوند کی یہ اُٹھائی ہُوئی قُربانی ہارُون کاہِن کو دینا۔

29 جِتنے نذرانے تُم کو مِلیں اُن میں سے اُن کا اچھّے سے اچھّا حِصّہ جو مُقدّس کِیا گیا ہے اور خُداوند کا ہے تُم اُٹھانے کی قُربانی کے طَور پر گُذراننا۔

30 سو تُو اُن سے کہہ دینا کہ جب تُم اِن میں سے اُن کا اچھّے سے اچھّا حِصّہ اُٹھانے کی قُربانی کے طَور پرگُذرانو گے تو وہ لاوِیوں کے حق میں کھلِیہان کے بھرے غلّہ اور کولُھو کی بھری مَے کے برابر محسُوب ہو گا۔

31 اور اِن کو تُم اپنے گھرانوں سمیت ہر جگہ کھا سکتے ہو کیونکہ یہ اُس خِدمت کے بدلے تُمہارا اجر ہے جو تُم خَیمۂِ اِجتماع میں کرو گے۔

32 اور جب تُم اُس میں سے اچھّے سے اچھّا حِصّہ اُٹھانے کی قُربانی کے طَور پر گُذرانو گے تو تُم اُس کے سبب سے گُنہگار نہ ٹھہرو گے اور خبردار بنی اِسرائیل کی مُقدّس چِیزوں کو ناپاک نہ کرنا تاکہ تُم ہلاک نہ ہو۔

گِنتی 19

سُرخ بچھیا کی راکھ

1 اور خُداوند نے مُوسیٰ اور ہارُون سے کہا۔

2 کہ شرع کے جِس آئِین کا حُکم خُداوند نے دِیا ہے وہ یہ ہے کہ تُو بنی اِسرائیل سے کہہ کہ وہ تیرے پاس ایک بے داغ اور بے عَیب سُرخ رنگ کی بچھیا لائیں جِس پر کبھی جُوآ نہ رکھّا گیا ہو۔

3 اور تُم اُسے لے کر الِیعزر کاہِن کو دینا کہ وہ اُسے لشکر گاہ کے باہر لے جائے اور کوئی اُسے اُسی کے سامنے ذبح کر دے۔

4 اور الیِعزر کاہِن اپنی اُنگلی سے اُس کا کُچھ خُون لے کر اُسے خَیمۂِ اِجتماع کے آگے کی طرف سات بار چِھڑکے۔

5 پِھر کوئی اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس گائے کو جلا دے یعنی اُس کا چمڑا اور گوشت اور خُون اور گوبر اِن سب کو وہ جلائے۔

6 پِھر کاہِن دیودار کی لکڑی اور زُوفا اور سُرخ کپڑا لے کر اُس آگ میں جِس میں گائے جلتی ہو ڈال دے۔

7 تب کاہِن اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غُسل کرے ۔ اِس کے بعد وہ لشکرگاہ کے اندر آئے ۔ پِھر بھی کاہِن شام تک ناپاک رہے گا۔

8 اور جو اُس گائے کو جلائے وہ بھی اپنے کپڑے پانی سے دھوئے اور پانی سے غُسل کرے اور وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا۔

9 اور کوئی پاک شخص اُس گائے کی راکھ کو بٹورے اور اُسے لشکرگاہ کے باہر کِسی پاک جگہ میں دھر دے ۔ یہ بنی اِسرائیل کی جماعت کے لِئے ناپاکی دُور کرنے کے پانی کے لِئے رکھّی رہے کیونکہ یہ خطا کی قُربانی ہے۔

10 اور جو اُس گائے کی راکھ کو بٹورے وہ بھی اپنے کپڑے دھوئے اور وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا اور یہ بنی اِسرائیل کے اور اُن پردیسِیوں کے لِئے جو اُن میں بُود و باش کرتے ہیں ایک دائِمی آئِین ہو گا۔

لاش کو چُھونا

11 جو کوئی کِسی آدمی کی لاش کو چُھوئے وہ سات دِن تک ناپاک رہے گا۔

12 اَیسا آدمی تِیسرے دِن اُس راکھ سے اپنے کو صاف کرے تو وہ ساتویں دِن پاک ٹھہرے گا پر اگر وہ تِیسرے دِن اپنے کو صاف نہ کرے تو وہ ساتویں دِن پاک نہیں ٹھہرے گا۔

13 جو کوئی آدمی کی لاش کو چُھو کر اپنے کو صاف نہ کرے وہ خُداوند کے مسکن کو ناپاک کرتا ہے ۔ وہ شخص اِسرا ئیل میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ ناپاکی دُور کرنے کا پانی اُس پر چِھڑکا نہیں گیا اِس لِئے وہ ناپاک ہے ۔ اُس کی ناپاکی اب تک اُس پر ہے۔

14 اگر کوئی آدمی کِسی ڈیرے میں مَر جائے تو اُس کے بارے میں شرع یہ ہے کہ جِتنے اُس ڈیرے میں آئیں اور جِتنے اُس ڈیرے میں رہتے ہوں وہ سات دِن تک ناپاک رہیں گے۔

15 اور ہر ایک کُھلا برتن جِس کا ڈھکنا اُس پر بندھا نہ ہو ناپاک ٹھہرے گا۔

16 اور جو کوئی مَیدان میں تلوار کے مقتُول کو یا مُردہ کو یا آدمی کی ہڈّی کو یا کِسی قبر کو چُھوئے وہ سات دِن تک ناپاک رہے گا۔

17 اور ناپاک آدمی کے لِئے اُس جلی ہُوئی خطا کی قُربانی کی راکھ کو کِسی برتن میں لے کر اُس پر بہتا پانی ڈالیں۔

18 پِھر کوئی پاک آدمی زُوفا لے کر اور اُسے پانی میں ڈبو ڈبو کر اُس ڈیرے پر اور جِتنے برتن اور آدمی وہاں ہوں اُن پر اور جِس شخص نے ہڈّی کو یا مقتُول کو یا مُردہ کو یا قبر کو چُھؤا ہے اُس پر چِھڑکے۔

19 وہ پاک آدمی تِیسرے دِن اور ساتویں دِن اُس ناپاک آدمی پر اِس پانی کو چِھڑکے اور ساتویں دِن اُسے صاف کرے ۔ پِھر وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے نہائے تو وہ شام کو پاک ہو گا۔

20 لیکن جو کوئی ناپاک ہو اور اپنی صفائی نہ کرے وہ شخص جماعت میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ اُس نے خُداوند کے مَقدِس کو ناپاک کِیا ۔ ناپاکی دُور کرنے کا پانی اُس پر چِھڑکا نہیں گیا اِس لِئے وہ ناپاک ہے۔

21 اور یہ اُن کے لِئے ایک دائِمی آئِین ہو ۔ جو ناپاکی دُور کرنے کے پانی کو لے کر چِھڑکے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور جو کوئی ناپاکی دُور کرنے کے پانی کو چھوئے وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا۔

22 اور جِس کِسی چِیز کو وہ ناپاک آدمی چُھوئے وہ چِیز ناپاک ٹھہرے گی اور جو کوئی اُس چِیز کو چُھو لے وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا۔

گِنتی 20

قادِس کے واقعات

1 اور پہلے مہِینے میں بنی اِسرائیل کی ساری جماعت دشتِ صِین میں آ گئی اور وہ لوگ قادِس میں رہنے لگے اور مریم نے وہاں وفات پائی اور وہیں دفن ہُوئی۔

2 اور جماعت کے لوگوں کے لِئے وہاں پانی نہ مِلا ۔ سو وہ مُوسیٰ اور ہارُون کے بر خِلاف اِکٹّھے ہُوئے۔

3 اور لوگ مُوسیٰ سے جھگڑنے اور یہ کہنے لگے ہائے کاش ہم بھی اُسی وقت مَر جاتے جب ہمارے بھائی خُداوند کے حضُور مَرے!۔

4 تُم خُداوند کی جماعت کو اِس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مَریں؟۔

5 اور تُم نے کیوں ہم کو مِصر سے نِکال کر اِس بُری جگہ پُہنچایا ہے؟ یہ تو بونے کی اور انجِیروں اور تاکوں اور اناروں کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہاں تو پِینے کے لِئے پانی تک مُیسّرنہیں۔

6 اور مُوسیٰ اور ہارُون جماعت کے پاس سے جا کر خَیمۂِ اِجتماع کے دروازہ پر اَوندھے مُنہ گِرے ۔ تب خُداوند کا جلال اُن پر ظاہِر ہُؤا۔

7 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ۔

8 اُس لاٹھی کو لے اور تُو اور تیرا بھائی ہارُون تُم دونوں جماعت کو اِکٹّھا کرو اور اُن کی آنکھوں کے سامنے اُس چٹان سے کہو کہ وہ اپنا پانی دے اور تُو اُن کے لِئے چٹان ہی سے پانی نِکالنا ۔ یُوں جماعت کو اور اُن کے چَوپایوں کو پِلانا۔

9 چُنانچہ مُوسیٰ نے خُداوند کے حضُور سے اُسی کے حُکم کے مُطابِق وہ لاٹھی لی۔

10 اور مُوسیٰ اور ہارُون نے جماعت کو اُس چٹان کے سامنے اِکٹّھا کِیا اور اُس نے اُن سے کہا سُنو اَے باغیو! کیا ہم تُمہارے لِئے اِسی چٹان سے پانی نِکالیں؟۔

11 تب مُوسیٰ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور اُس چٹان پر دو بار لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہہ نِکلا اور جماعت نے اور اُن کے چَوپایوں نے پِیا۔

12 پر مُوسیٰ اور ہارُون سے خُداوند نے کہا چُونکہ تُم نے میرا یقِین نہیں کِیا کہ بنی اِسرائیل کے سامنے میری تقدِیس کرتے اِس لِئے تُم اِس جماعت کو اُس مُلک میں جو مَیں نے اُن کو دِیا ہے نہیں پُہنچانے پاؤ گے۔

13 مریبہ کا چشمہ یِہی ہے کیونکہ بنی اِسرائیل نے خُداوند سے جھگڑا کِیا اور وہ اُن کے درمیان قُدُّوس ثابِت ہُؤا۔

ادُوم کے بادشاہ نے اِسرائیلیوں کو راستہ نہ دِیا

14 اور مُوسیٰ نے قادِ س سے ادُوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کِئے اور کہلا بھیجا کہ تیرا بھائی اِسرا ئیل یہ عرض کرتا ہے کہ تُو ہماری سب مُصیبِتوں سے جو ہم پر آئِیں واقِف ہے۔

15 کہ ہمارے باپ دادا مِصر میں گئے اور ہم بُہت مُدّت تک مِصر میں رہے اور مِصرِیوں نے ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے بُرا برتاؤ کِیا۔

16 اور جب ہم نے خُداوند سے فریاد کی تو اُس نے ہماری سُنی اور ایک فرِشتہ کو بھیج کر ہم کو مِصر سے نِکال لے آیا ہے اور اب ہم قادِس شہر میں ہیں جو تیری سرحدکے آخِر میں واقِع ہے۔

17 سو ہم کو اپنے مُلک میں سے ہو کر جانے کی اِجازت دے ۔ ہم کھیتوں اور تاکِستانوں میں سے ہو کر نہیں گُذریں گے اور نہ کُنوؤں کا پانی پِئیں گے ۔ ہم شاہراہ پر چل کر جائیں گے اور دہنے یا بائیں ہاتھ نہیں مُڑیں گے جب تک تیری سرحدسے باہر نِکل نہ جائیں۔

18 پر شاہِ ادُوم نے کہلا بھیجا کہ تُو میرے مُلک سے ہو کر جانے نہیں پائے گا ورنہ مَیں تلوار لے کر تیرا مُقابلہ کرُوں گا۔

19 بنی اِسرائیل نے اُسے پِھر کہلا بھیجا کہ ہم سڑک ہی سڑک جائیں گے اور اگر ہم یا ہمارے چَوپائے تیرا پانی بھی پِئیں تو اُس کا دام دیں گے ۔ ہم کو اَور کُچھ نہیں چاہئے سِوا اِس کے کہ ہم کو پاؤں پاؤں چل کر نِکل جانے دے۔

20 پر اُس نے کہا تُو ہرگِز نِکلنے نہیں پائے گا اور ادُو م اُس کے مُقابلہ کے لِئے بُہت سے آدمی اور ہتھیار لے کر نِکل آیا۔

21 یوں ادُو م نے اِسرا ئیل کو اپنی حدُود سے گُذرنے کا راستہ دینے سے اِنکار کِیا اِس لِئے اِسرا ئیل اُس کی طرف سے مُڑ گیا۔

ہارُون کی وفات

22 اور بنی اِسرائیل کی ساری جماعت قادِ س سے روانہ ہو کر کوہِ ہور پُہنچی۔

23 اور خُداوند نے کوہِ ہور پر جو ادُو م کی سرحد سے مِلا ہُؤا تھا مُوسیٰ اور ہارُو ن سے کہا۔

24 ہارُون اپنے لوگوں میں جا مِلے گا کیونکہ وہ اُس مُلک میں جو مَیں نے بنی اِسرائیل کو دِیا ہے جانے نہیں پائے گا اِس لِئے کہ مریبہ کے چشمہ پر تُم نے میرے کلام کے خِلاف عمل کِیا۔

25 سو تُو ہارُون اور اُس کے بیٹے الِیعزر کو اپنے ساتھ لے کر کوہِ ہور کے اُوپر آ جا۔

26 اور ہارُون کے لِباس کو اُتار کر اُس کے بیٹے الِیعزر کو پہنا دینا کیونکہ ہارُون وہیں وفات پا کر اپنے لوگوں میں جا مِلے گا۔

27 اور مُوسیٰ نے خُداوند کے حُکم کے مُطابِق عمل کِیا اور وہ ساری جماعت کی آنکھوں کے سامنے کوہِ ہور پر چڑھ گئے۔

28 اور مُوسیٰ نے ہارُون کے لِباس کو اُتار کر اُس کے بیٹے الِیعزر کو پہنا دِیا اور ہارُون نے وہیں پہاڑ کی چوٹی پر رِحلت کی ۔ تب مُوسیٰ اور الِیعزر پہاڑ پر سے اُتر آئے۔

29 جب جماعت نے دیکھا کہ ہارُون نے وفات پائی تو اِسرا ئیل کے سارے گھرانے کے لوگ ہارُون پر تِیس دِن تک ماتم کرتے رہے۔

گِنتی 21

کنعانیوں پر فتح

1 اور جب عَراد کے کنعانی بادشاہ نے جو جنُوب کی طرف رہتا تھا سُنا کہ اِسرائیلی اتھارِ م کی راہ سے آ رہے ہیں تو وہ اِسرائیلِیوں سے لڑا اور اُن میں سے کئی ایک کو اسِیرکر لیا۔

2 تب اِسرائیلِیوں نے خُداوند کے حضُور مَنّت مانی اور کہا کہ اگر تُو سچ مُچ اُن لوگوں کو ہمارے حوالہ کر دے تو ہم اُن کے شہروں کو نیست کر دیں گے۔

3 اور خُداوند نے اِسرا ئیل کی فریاد سُنی اور کنعانیوں کو اُن کے حوالہ کر دِیا اور اُنہوں نے اُن کو اور اُن کے شہروں کو نیست کر دِیا چُنانچہ اُس جگہ کا نام بھی حُرمہ پڑ گیا۔

پِیتل کا سانپ

4 پِھر اُنہوں نے کوہِ ہور سے روانہ ہو کر بحرِ قُلزم کا راستہ لِیا تاکہ مُلکِ ادُوم کے باہر باہر گُھوم کر جائیں لیکن اُن لوگوں کی جان اُس راستہ سے عاجِز آگئی۔

5 اور لوگ خُدا کی اور مُوسیٰ کی شِکایت کر کے کہنے لگے کہ تُم کیوں ہم کو مِصر سے بیابان میں مَرنے کے لِئے لے آئے؟ یہاں تو نہ روٹی ہے نہ پانی اور ہمارا جی اِس نِکمّی خُوراک سے کراہِیّت کرتا ہے۔

6 تب خُداوند نے اُن لوگوں میں جلانے والے سانپ بھیجے ۔ اُنہوں نے لوگوں کو کاٹا اور بُہت سے اِسرائیلی مَر گئے۔

7 تب وہ لوگ مُوسیٰ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ ہم نے گُناہ کِیا کیونکہ ہم نے خُداوند کی اور تیری شِکایت کی ۔ سو تُو خُداوند سے دُعا کر کہ وہ اِن سانپوں کو ہم سے دُور کرے ۔ چُنانچہ مُوسیٰ نے لوگوں کے لِئے دُعا کی۔

8 تب خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ ایک جلانے والا سانپ بنا لے اور اُسے ایک بَلّی پر لٹکا دے اور جو سانپ کا ڈسا ہُؤا اُس پر نظر کرے گا وہ جِیتا بچے گا۔

9 چُنانچہ مُوسیٰ نے پِیتل کا ایک سانپ بنوا کر اُسے بَلّی پر لٹکا دِیا اور اَیسا ہُؤا کہ جِس جِس سانپ کے ڈسے ہُوئے آدمی نے اُس پِیتل کے سانپ پر نِگاہ کی وہ جِیتا بچ گیا۔

کوہِ ہور سے موآبیوں کی وادی تک کا سفر

10 اور بنی اِسرائیل نے وہاں سے کُوچ کِیا اور اوبوت میں آکر ڈیرے ڈالے۔

11 پِھر اوبوت سے کُوچ کِیا اور عِیّے عَبارِیم میں جو مشرِق کی طرف موآب کے سامنے کے بیابان میں واقِع ہے ڈیرے ڈالے۔

12 اور وہاں سے کُوچ کر کے وادیِ زرد میں ڈیرے ڈالے۔

13 جب وہاں سے چلے تو اَرنون سے پار ہو کر جو امورِیوں کی سرحدسے نِکل کر بیابان میں بہتی ہے ڈیرے ڈالے کیونکہ موآب اور امورِیوں کے درمِیان اَرنون موآب کی سرحد ہے۔

14 اِسی سبب سے خُداوند کے جنگ نامہ میں یُوں لِکھا ہے واہیب جو سُوفہ میں ہے۔اور اَرنون کے نالے۔

15 اور اُن نالوں کا ڈھلان جو عار شہر تک جاتاہے اور موآب کی سرحد سے مُتّصِل ہے۔

16 پِھر اِس جگہ سے وہ بیر کو گئے ۔ یہ وُہی کُنواں ہے جِس کے بارے میں خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا تھا کہ اِن لوگوں کو ایک جگہ جمع کر اور مَیں اِن کو پانی دُوں گا۔

17 تب اِسرائیل نے یہ گِیت گایا :-

اَے کُنوئیں! تُو اُبل آ ۔

تُم اِس کُنوئیں کی تعریف گاؤ۔

18 یہ وُہی کُنواں ہے جِسے رئِیسوں نے بنایا

اور قَوم کے امِیروں نے

اپنے عصا اور لاٹِھیوں سے کھودا۔

تب وہ اُس دشت سے متّنہ کو گئے۔

19 اور متّنہ سے نحلی ایل کو اور نحلی ایل سے بامات کو۔

20 اور بامات سے اُس وادی میں پُہنچ کر جو موآب کے مَیدان میں ہے پِسگہ کی اُس چوٹی تک نِکل گئے جہاں سے یشِیمو ن نظر آتا ہے۔

بادشاہ سِیحون اور بادشاہ عوج پر فتح

21 اور اِسرائیلِیوں نے امورِیوں کے بادشاہ سِیحو ن کے پاس ایلچی روانہ کِئے اور یہ کہلا بھیجا کہ۔

22 ہم کو اپنے مُلک سے گُذر جانے دے ۔ ہم کھیتوں اور انگُور کے باغوں میں نہیں گُھسیں گے اور نہ کُنوؤں کا پانی پِئیں گے بلکہ شاہراہ سے سِیدھے چلے جائیں گے جب تک تیری حدّ کے باہر نہ ہو جائیں۔

23 پر سِیحو ن نے اِسرائیلِیوں کو اپنی حدّ میں سے گُذرنے نہ دِیا بلکہ سِیحو ن اپنے سب لوگوں کو اِکٹّھا کر کے اِسرائیلِیوں کے مُقابلہ کے لِئے بیابان میں پُہنچا اور اُس نے یَہض میں آ کر اِسرائیلِیوں سے جنگ کی۔

24 اور اِسرا ئیل نے اُسے تلوار کی دھار سے مارا اور اُس کے مُلک پراَرنو ن سے لے کر یَبّوق تک جہاں بنی عَمُّون کی سرحدہے قبضہ کر لِیا کیونکہ بنی عَمُّون کی سرحد مضبُوط تھی۔

25 سو بنی اِسرائیل نے یہاں کے سب شہروں کو لے لِیا اور امورِیوں کے سب شہروں میں یعنی حسبون اور اُس کے آس پاس کے قصبوں میں بنی اِسرائیل بس گئے۔

26 حسبون امورِیوں کے بادشاہ سِیحو ن کا شہر تھا ۔ اِس نے موآب کے اگلے بادشاہ سے لڑ کر اُس کے سارے مُلک کو اَرنو ن تک اُس سے چِھین لِیا تھا۔

27 اِسی سبب سے مثل کہنے والوں کی یہ کہاوت ہے کہ

حسبون میں آؤ

تاکہ سِیحو ن کا شہر بنایا اور مضبُوط کِیا جائے۔

28 کیونکہ حسبون سے آگ نِکلی۔

سِیحو ن کے شہر سے شُعلہ برآمد ہُؤا۔

اِس نے موآب کے عار شہرکو

اور اَرنون کے اُونچے مقامات کے سرداروں کو بھسم کر دِیا۔

29 اَے موآب ! تُجھ پر نَوحہ ہے۔

اَے کموس کے ماننے والو! تُم ہلاک ہُوئے۔

اُس نے اپنے بیٹوں کو جو بھاگے تھے

اور اپنی بیٹِیوں کو اسِیروں کی مانِند

امورِیوں کے بادشاہ سِیحو ن کے حوالہ کِیا۔

30 ہم نے اُن پر تِیر چلائے سو حسبو ن دِیبو ن تک

تباہ ہوگیا

بلکہ ہم نے نفَح تک سب کُچھ اُجاڑ دِیا۔

وہ نفَح جو مِید با سے مُتّصِل ہے۔

31 پس بنی اِسرائیل امورِیوں کے مُلک میں رہنے لگے۔

32 اور مُوسیٰ نے یَعزیر کی جاسُوسی کرائی ۔ پِھر اُنہوں نے اُس کے گاؤں لے لِئے اور امورِیوں کو جو وہاں تھے نِکال دِیا۔

33 اور وہ گُھوم کر بسن کے راستہ سے آگے کو بڑھے اور بسن کا بادشاہ عوج اپنے سارے لشکر کو لے کر نِکلا تاکہ ادر عی میں اُن سے جنگ کرے۔

34 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا اُس سے مت ڈر کیونکہ مَیں نے اُسے اور اُس کے سارے لشکرکو اور اُس کے مُلک کو تیرے حوالہ کر دِیا ہے ۔ سو جَیسا تُو نے امورِیوں کے بادشاہ سِیحو ن کے ساتھ جو حسبو ن میں رہتا تھا کِیا ہے وَیسا ہی اِس کے ساتھ بھی کرنا۔

35 چُنانچہ اُنہوں نے اُس کو اور اُس کے بیٹوں اور سب لوگوں کو یہاں تک مارا کہ اُس کا کوئی باقی نہ رہا اور اُس کے مُلک کو اپنے قبضہ میں کر لِیا۔

گِنتی 22

موآب کا بادشاہ بلعام کو بُلواتا ہے

1 پِھر بنی اِسرائیل نے کُوچ کِیا اور دریایِ یَرد ن کے پار موآب کے مَیدانوں میں یرِیحوُ کے مُقابِل خَیمے کھڑے کِئے۔

2 اور جو کُچھ بنی اِسرائیل نے امورِیوں کے ساتھ کِیا تھا وہ سب بلق بِن صفور نے دیکھا تھا۔

3 اِس لِئے موآبیوں کو اِن لوگوں سے بڑا خوف آیا کیونکہ یہ بُہت سے تھے ۔ غرض موآبی بنی اِسرائیل کے سبب سے پریشان ہُوئے۔

4 سو موآبیوں نے مِدیانی بزُرگوں سے کہا کہ جو کُچھ ہمارے آس پاس ہے اُسے یہ انبوہ اَیسا چٹ کر جائے گا جَیسے بَیل مَیدان کی گھاس کو چٹ کر جاتا ہے ۔ اُس وقت بلق بِن صفور موآبیوں کا بادشاہ تھا۔

5 سو اُس نے بعور کے بیٹے بلعا م کے پاس فتور کو جو بڑے دریا کے کنارے اُس کی قَوم کے لوگوں کا مُلک تھا قاصِد روانہ کِئے کہ اُسے بُلا لائیں اور یہ کہلا بھیجا ۔ دیکھ ایک قَوم مِصر سے نِکل کر آئی ہے ۔ اُن سے زمِین کی سطح چُھپ گئی ہے ۔ اب وہ میرے مُقابِل ہی آ کر جم گئے ہیں۔

6 سو اب تُو آ کر میری خاطِر اِن لوگوں پر لَعنت کر کیونکہ یہ مُجھ سے بُہت قوِ ی ہیں ۔ پِھر مُمکِن ہے کہ مَیں غالِب آؤُں اور ہم سب اِن کو مار کر اِس مُلک سے نِکال دیں کیونکہ یہ مَیں جانتا ہُوں کہ جِسے تُو برکت دیتا ہے اُسے برکت مِلتی ہے اور جِس پر تُو لَعنت کرتا ہے وہ ملعُون ہوتا ہے۔

7 سو موآ ب کے بزُرگ اور مِدیان کے بزُرگ فال کھولنے کا اِنعام ساتھ لے کر روانہ ہُوئے اور بلعام کے پاس پُہنچے اور بلق کا پَیغام اُسے دِیا۔

8 اُس نے اُن سے کہا کہ آج رات تُم یہِیں ٹھہرو اور جو کُچھ خُداوند مُجھ سے کہے گا اُس کے مُطابِق مَیں تُم کو جواب دُوں گا ۔ چُنانچہ موآب کے اُمرا بلعا م کے ساتھ ٹھہر گئے۔

9 اور خُدا نے بلعا م کے پاس آ کر کہا تیرے ہاں یہ کَون آدمی ہیں؟۔

10 بلعا م نے خُدا سے کہا کہ موآب کے بادشاہ بلق بِن صفور نے میرے پاس کہلا بھیجا ہے کہ۔

11 جو قَوم مِصر سے نِکل کر آئی ہے اُس سے زمِین کی سطح چُھپ گئی ہے سو تُو اب آ کر میری خاطِر اُن پر لَعنت کر پِھر مُمکِن ہے کہ مَیں اُن سے لڑ سکُوں اور اُن کو نِکال دُوں۔

12 خُدا نے بلعا م سے کہا تُو اِن کے ساتھ مت جانا ۔ تُو اُن لوگوں پر لَعنت نہ کرنا اِس لِئے کہ وہ مُبارک ہیں۔

13 بلعا م نے صُبح کو اُٹھ کر بلق کے اُمرا سے کہا تُم اپنے مُلک کو لَوٹ جاؤ کیونکہ خُداوند مُجھے تُمہارے ساتھ جانے کی اِجازت نہیں دیتا۔

14 اور موآب کے اُمرا چلے گئے اور جا کر بلق سے کہا کہ بلعا م ہمارے ساتھ آنے سے اِنکار کرتا ہے۔

15 تب دُوسری دفعہ بلق نے اَور اُمرا کو بھیجا جو پہلوں سے بڑھ کر مُعزّز اور شُمار میں بھی زِیادہ تھے۔

16 اُنہوں نے بلعا م کے پاس جا کر اُس سے کہا بلق بِن صفور نے یُوں کہا ہے کہ میرے پاس آنے میں تیرے لِئے کوئی رُکاوٹ نہ ہو۔

17 کیونکہ مَیں نِہایت عالی منصب پر تُجھے مُمتاز کرُوں گا اور جو کُچھ تُو مُجھ سے کہے مَیں وُہی کرُوں گا سو تُو آ جا اور میری خاطِر اِن لوگوں پر لَعنت کر۔

18 بلعا م نے بلق کے خادِموں کو جواب دِیا اگر بلق اپنا گھر بھی چاندی اور سونے سے بھر کر مُجھے دے تَو بھی مَیں خُداوند اپنے خُدا کے حُکم سے تجاوُز نہیں کر سکتا کہ اُسے گھٹا کر یا بڑھا کر مانوں۔

19 سو اب تُم بھی آج رات یہِیں ٹھہرو تاکہ مَیں دیکُھوں کہ خُداوند مُجھ سے اَور کیا کہتا ہے۔

20 اور خُدا نے رات کو بلعا م کے پاس آ کر اُس سے کہا اگر یہ آدمی تُجھے بُلانے کو آئے ہُوئے ہیں تو تُو اُٹھ کر اُن کے ساتھ جا مگر جو بات مَیں تُجھ سے کہُوں اُسی پر عمل کرنا۔

21 سو بلعا م صُبح کو اُٹھا اور اپنی گدھی پر زِین رکھ کرموآب کے اُمرا کے ہمراہ چلا۔

بلعام اور اُس کی گدھی

22 اور اُس کے جانے کے سبب سے خُدا کا غضب بھڑکا اور خُداوند کا فرِشتہ اُس سے مُزاحمت کرنے کے لِئے راستہ روک کر کھڑا ہو گیا ۔ وہ تو اپنی گدھی پر سوار تھا اور اُس کے ساتھ اُس کے دو ملازِم تھے۔

23 اور اُس گدھی نے خُداوند کے فرِشتہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لِئے ہُوئے راستہ روکے کھڑا ہے ۔ تب گدھی راستہ چھوڑ کر ایک طرف ہو گئی اور کھیت میں چلی گئی ۔ سو بلعا م نے گدھی کو مارا تاکہ اُسے راستہ پر لے آئے۔

24 تب خُداوند کا فرِشتہ ایک نِیچی راہ میں جا کھڑا ہُؤا جو تاکِستانوں کے بِیچ سے ہو کر نِکلتی تھی اور اُس کی دونوں طرف دِیواریں تِھیں۔

25 گدھی خُداوند کے فرِشتہ کو دیکھ کر دِیوار سے جا لگی اور بلعا م کا پاؤں دِیوار سے پِچا دِیا ۔ سو اُس نے پِھر اُسے مارا۔

26 تب خُداوند کا فرِشتہ آگے بڑھ کر ایک اَیسے تنگ مقام میں کھڑا ہو گیا جہاں دہنی یا بائِیں طرف مُڑنے کی جگہ نہ تھی۔

27 پِھر جو گدھی نے خُداوند کے فرِشتہ کو دیکھا تو بلعا م کو لِئے ہُوئے بَیٹھ گئی ۔ پِھرتُو بلعا م جھلاّ اُٹھا اور اُس نے گدھی کو اپنی لاٹھی سے مارا۔

28 تب خُداوند نے گدھی کی زُبان کھول دی اور اُس نے بلعا م سے کہا مَیں نے تیرے ساتھ کیا کِیا ہے کہ تُو نے مُجھے تِین بار مارا؟۔

29 بلعا م نے گدھی سے کہا اِس لِئے کہ تُو نے مُجھے چِڑایا ۔ کاش! میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو مَیں تُجھے ابھی مار ڈالتا۔

30 گدھی نے بلعا م سے کہا کیا مَیں تیری وُہی گدھی نہیں ہُوں جِس پر تُو اپنی ساری عُمر آج تک سوار ہوتا آیا ہے؟ کیا مَیں تیرے ساتھ پہلے کبھی اَیسا کرتی تھی؟

اُس نے کہا نہیں۔

31 تب خُداوند نے بلعا م کی آنکھیں کھولِیں اور اُس نے خُداوند کے فرِشتہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لِئے ہُوئے راستہ روکے کھڑا ہے ۔ سو اُس نے اپنا سر جُھکا لِیا اور اَوندھا ہو گیا۔

32 خُداوند کے فرِشتہ نے اُسے کہا کہ تُو نے اپنی گدھی کو تِین بار کیوں مارا؟ دیکھ مَیں تُجھ سے مُزاحمت کرنے کو آیا ہُوں اِس لِئے کہ تیری چال میری نظر میں ٹیڑھی ہے۔

33 اور گدھی نے مُجھ کو دیکھا اور وہ تِین بار میرے سامنے سے مُڑ گئی ۔ اگر وہ میرے سامنے سے نہ ہٹتی تو مَیں ضرُور تُجھ کو مار ہی ڈالتا اور اُس کو جِیتی چھوڑ دیتا۔

34 بلعا م نے خُداوند کے فرِشتہ سے کہا مُجھ سے خطا ہُوئی کیونکہ مُجھے معلُوم نہ تھا کہ تُو میرا راستہ روکے کھڑا ہے ۔ سو اگر اب تُجھے بُرا لگتا ہے تو مَیں لَوٹ جاتا ہُوں۔

35 خُداوند کے فرِشتہ نے بلعا م سے کہا تُو اِن آدمِیوں کے ساتھ چلا ہی جا لیکن فقط وُہی بات کہنا جو مَیں تُجھ سے کہُوں ۔ سو بلعا م بلق کے اُمرا کے ساتھ گیا۔

بلق بلعام کا اِستِقبال کرتا ہے

36 جب بلق نے سُنا کہ بلعا م آ رہا ہے تو وہ اُس کے اِستِقبال کے لِئے موآب کے اُس شہر تک گیا جو اَرنو ن کی سرحد پر اُس کی حدُود کے اِنتہائی حِصّہ میں واقِع تھا۔

37 تب بلق نے بلعا م سے کہا کیا مَیں نے بڑی اُمّید کے ساتھ تُجھے نہیں بلوا بھیجا تھا؟ پِھر تُو میرے پاس کیوں نہ چلا آیا؟ کیا مَیں اِس قابِل نہیں کہ تُجھے عالی منصب پر مُمتاز کرُوں؟۔

38 بلعا م نے بلق کو جواب دِیا دیکھ مَیں تیرے پاس آ تو گیا ہُوں پر کیا میری اِتنی مجال ہے کہ مَیں کُچھ بولُوں؟ جو بات خُدا میرے مُنہ میں ڈالے گا وُہی مَیں کہُوں گا۔

39 اور بلعا م بلق کے ساتھ ساتھ چلا اور وہ قریَت حُصات میں پُہنچے۔

40 بلق نے بَیل اوربھیڑوں کی قُربانی گُذرانی اور بلعا م اور اُن اُمرا کے پاس جو اُس کے ساتھ تھے قُربانی کا گوشت بھیجا۔

بلعام کی پہلی پیشینگوئی

41 دُوسرے دِن صُبح کو بلق بلعا م کو ساتھ لے کر اُسے بعل کے بُلند مقاموں پر لے گیا ۔ وہاں سے اُس نے دُور دُور کے اِسرائیلِیوں کو دیکھا۔

گِنتی 23

1 اور بلعا م نے بلق سے کہا کہ میرے لِئے یہاں سات مذبحے بنوا دے اور سات بچھڑے اور سات مینڈھے میرے لِئے یہاں تیّار کر رکھ۔

2 بلق نے بلعا م کے کہنے کے مُطابِق کِیا اور بلق اور بلعا م نے ہر مذبح پر ایک بچھڑا اور ایک مینڈھا چڑھایا۔

3 پِھر بلعا م نے بلق سے کہا تُو اپنی سوختنی قُربانی کے پاس کھڑا رہ اور مَیں جاتا ہُوں ۔ مُمکِن ہے کہ خُداوند مُجھ سے مُلاقات کرنے کو آئے ۔ سو جو کُچھ وہ مُجھ پر ظاہِر کرے گا مَیں تُجھے بتاؤُں گا اور وہ ایک برہنہ پہاڑی پر چلا گیا۔

4 اور خُدا بلعا م سے مِلا ۔ اُس نے اُس سے کہا مَیں نے سات مذبحے تیّار کِئے ہیں اور اُن پر ایک ایک بچھڑا اور ایک ایک مینڈھا چڑھایا ہے۔

5 تب خُداوند نے ایک بات بلعا م کے مُنہ میں ڈالی اور کہا کہ بلق کے پاس لَوٹ جا اور یُوں کہنا۔

6 سو وہ اُس کے پاس لَوٹ کر آیا اور کیا دیکھتا ہے کہ وہ اپنی سوختنی قُربانی کے پاس موآب کے سب اُمرا سمیت کھڑا ہے۔

7 تب اُس نے اپنی مثل شرُوع کی اور کہنے لگا :-

بلق نے مُجھے اَرام سے

یعنی شاہِ موآب نے مشرِق کے پہاڑوں سے بُلوایا

کہ آ جا اور میری خاطِر یعقُوب پر لَعنت کر۔

آ ۔ اِسرا ئیل کو پِھٹکار۔

8 مَیں اُس پر لَعنت کَیسے کرُوں جِس پر خُدا نے

لَعنت نہیں کی؟

مَیں اُسے کَیسے پِھٹکاروں جِسے خُداوند نے نہیں

پِھٹکارا ؟۔

9 چٹانوں کی چوٹی پر سے وہ مُجھے نظر آتے ہیں

اور پہاڑوں پر سے مَیں اُن کو دیکھتا ہُوں ۔

دیکھ! یہ وہ قَوم ہے جو اکیلی بسی رہے گی

ا ور دُوسری قَوموں کے ساتھ مِل کر اِس کا شُمار نہ ہو گا۔

10 یعقُوب کی گرد کے ذرّوں کو کَون گِن سکتا ہے

اور بنی اِسرائیل کی چَوتھائی کو کَون شُمار کر سکتا ہے ؟

کاش میں صادِقوں کی مَوت مَروں !

اور میری عاقبت بھی اُن ہی کی مانِند ہو!۔

11 تب بلق نے بلعا م سے کہا یہ تُو نے مُجھ سے کیا کِیا؟ مَیں نے تُجھے بُلوایا تاکہ تُو میرے دُشمنوں پر لَعنت کرے اور تُو نے اُن کو برکت ہی برکت دی۔

12 اُس نے جواب دِیا اور کہا کیا مَیں اُسی بات کا خیال نہ کرُوں جو خُداوند میرے مُنہ میں ڈالے؟۔

بلعام کی دُوسری پیشینگوئی

13 پِھربلق نے اُس سے کہا اب میرے ساتھ دُوسری جگہ چل جہاں سے تُو اُن کو دیکھ بھی سکے گا ۔ وہ سب کے سب تو تُجھے نہیں دِکھائی دیں گے پر جو دُور دُور پڑے ہیں اُن کودیکھ لے گا ۔ پِھر تُو وہاں سے میری خاطِر اُن پر لَعنت کرنا۔

14 سو وہ اُسے پِسگہ کی چوٹی پر جہاں ضوفِیم کا مَیدان ہے لے گیا ۔ وہیں اُس نے سات مذبحے بنائے اور ہر مذبح پر ایک بچھڑا اور ایک مینڈھا چڑھایا۔

15 تب اُس نے بلق سے کہا کہ تُو یہاں اپنی سوختنی قُربانی کے پاس ٹھہرا رہ جبکہ مَیں اُدھر جا کر خُداوند سے مِل کر آؤں۔

16 اور خُداوند بلعا م سے مِلا اور اُس نے اُس کے مُنہ میں ایک بات ڈالی اور کہا بلق کے پاس لَوٹ جا اور یُوں کہنا۔

17 اور جب وہ اُس کے پاس لَوٹا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ اپنی سوختنی قُربانی کے پاس موآب کے اُمرا سمیت کھڑا ہے ۔ تب بلق نے اُس سے پُوچھا خُداوند نے کیا کہا ہے؟۔

18 تب اُس نے اپنی مثل شرُوع کی اور کہنے لگا :-

اُٹھ اَے بلق ! اور سُن۔

اَے صفور کے بیٹے! میری باتوں پر کان لگا۔

19 خُدا اِنسان نہیں کہ جُھوٹ بولے

اور نہ وہ آدمزاد ہے کہ اپنا اِرادہ بدلے۔

کیا جو کُچھ اُس نے کہا اُسے نہ کرے؟

یا جو فرمایا ہے اُسے پُورا نہ کرے؟۔

20 دیکھ! مُجھے تو برکت دینے کا حُکم مِلا ہے

اُس نے برکت دی ہے اور مَیں اُسے پلٹ نہیں سکتا۔

21 وہ یعقُوب میں بدی نہیں پاتا

اور نہ اِسرا ئیل میں کوئی خرابی دیکھتا ہے۔

خُداوند اُس کا خُدا اُس کے ساتھ ہے

اور بادشاہ کی سی للکار اُن لوگوں کے بِیچ میں ہے۔

22 خُدا اُن کو مِصر سے نِکال کر لِئے آ رہا ہے۔

اُن میں جنگلی سانڈ کی سی طاقت ہے۔

23 یعقُوب پر کوئی افسُون نہیں چلتا

اور نہ اِسرائیل کے خِلاف فال کوئی چِیز ہے۔

بلکہ یعقُوب اور اِسرائیل کے حق میں اب یہ کہاجائے گا

کہ خُدا نے کَیسے کَیسے کام کِئے!۔

24 دیکھ یہ گُروہ شیرنی کی طرح اُٹھتی ہے

اور شیر کی مانِند تن کر کھڑی ہوتی ہے۔

وہ اب نہیں لیٹنے کی جب تک شِکار نہ کھا لے

اور مقتُولوں کا خُون نہ پی لے۔

25 تب بلق نے بلعا م سے کہا نہ تو تُو اُن پر لَعنت ہی کر اور نہ اُن کو برکت ہی دے۔

26 بلعا م نے جواب دِیا اور بلق سے کہا کیا مَیں نے تُجھ سے نہیں کہا کہ جو کُچھ خُداوند کہے وُہی مُجھے کرنا پڑے گا؟۔

بلعام کی تِیسری پیشینگوئی

27 تب بلق نے بلعا م سے کہا اچھّا آ مَیں تُجھ کو ایک اَور جگہ لے جاؤُں شاید خُدا کو پسند آئے کہ تُو میری خاطِر وہاں سے اُن پر لَعنت کرے۔

28 تب بلق بلعا م کو فغور کی چوٹی پر جہاں سے یشِیمو ن نظر آتا ہے لے گیا۔

29 اور بلعا م نے بلق سے کہا کہ میرے لِئے یہاں سات مذبحے بنوا اور سات بَیل اور سات ہی مینڈھے میرے لِئے تیّار کر رکھ۔

30 چُنانچہ بلق نے جَیسا بلعا م نے کہا وَیسا ہی کِیا اور ہر مذبح پر ایک بَیل اور ایک مینڈھا چڑھایا۔

گِنتی 24

1 جب بلعا م نے دیکھا کہ خُداوند کو یِہی منظُور ہے کہ اِسرا ئیل کو برکت دے تو وہ پہلے کی طرح شگُون دیکھنے کو اِدھر اُدھر نہ گیا بلکہ بیابان کی طرف اپنا مُنہ کر لِیا۔

2 اور بلعا م نے نِگاہ کی اور دیکھا کہ بنی اِسرائیل اپنے اپنے قبِیلہ کی ترتِیب سے مُقِیم ہیں اور خُدا کی رُوح اُس پر نازِل ہُوئی۔

3 اور اُس نے اپنی مثل شرُوع کی اور کہنے لگا :-

بعور کا بیٹا بلعا م کہتا ہے

یعنی وُہی شخص جِس کی آنکھیں بند تِھیں یہ کہتا ہے۔

4 بلکہ یہ اُسی کا کہنا ہے جو خُدا کی باتیں سُنتا ہے

اور سِجدہ میں پڑا ہُؤا کُھلی آنکھوں سے

قادِرِ مُطلق کی رویا دیکھتا ہے۔

5 اَے یعقُوب تیرے ڈیرے ۔

اَے اِسرا ئیل تیرے خَیمے کَیسے خُوشنما ہیں!۔

6 وہ اَیسے پَھیلے ہُوئے ہیں جَیسے وادیاں

اور دریا کے کنارے باغ

اور خُداوند کے لگائے ہُوئے عُود کے درخت

اور ندِیوں کے کنارے دیودار کے درخت۔

7 اُس کے چرسوں سے پانی بہے گا

اور سیراب کھیتوں میں اُس کا بِیج پڑے گا۔

اُس کا بادشاہ اَجاج سے بڑھ کر ہو گا

اور اُس کی سلطنت کو عرُوج حاصِل ہو گا۔

8 خُدا اُسے مِصر سے نِکال کر لِئے آ رہا ہے۔

اُس میں جنگلی سانڈ کی سی طاقت ہے۔

وہ اُن قَوموں کو جو اُس کی دُشمن ہیں چٹ کرجائے گا

اور اُن کی ہڈِّیوں کو توڑڈالے گا

اور اُن کو اپنے تِیروں سے چھید چھید کر مارے گا۔

9 وہ دبک کر بَیٹھا ہے ۔ وہ شیر کی طرح

بلکہ شیرنی کی مانِند لیٹ گیا ہے ۔ اب کَون اُسے

چھیڑے؟

جو تُجھے برکت دے وہ مُبارک

اور جو تُجھ پر لَعنت کرے وہ ملعُون ہو!۔

10 تب بلق کو بلعا م پر بڑا طَیش آیا اور وہ اپنے ہاتھ پِیٹنے لگا ۔ پِھر اُس نے بلعا م سے کہا مَیں نے تُجھے بُلایا کہ تُو میرے دُشمنوں پر لَعنت کرے لیکن تُو نے تِینوں بار اُن کو برکت ہی برکت دی۔

11 سو اب تُو اپنے مُلک کو بھاگ جا ۔ مَیں نے تو سوچا تھا کہ تُجھے عالی منصب پر مُمتاز کرُوں پر خُداوند نے تُجھے اَیسے اِعزاز سے محرُوم رکھّا۔

12 بلعا م نے بلق کو جواب دِیا کیا مَیں نے تیرے اُن ایلچِیوں سے بھی جِن کو تُو نے میرے پاس بھیجا تھا یہ نہیں کہہ دِیا تھا کہ۔

13 اگر بلق اپنا گھر چاندی اور سونے سے بھر کر مُجھے دے تَو بھی مَیں اپنی مرضی سے بھلا یا بُرا کرنے کی خاطِر خُداوند کے حُکم سے تجاوُز نہیں کر سکتا بلکہ جو کُچھ خُداوند کہے مَیں وُہی کہُوں گا؟۔

بلعام کی آخِری پیشینگوئیاں

14 اور اب مَیں اپنی قَوم کے پاس لَوٹ کر جاتا ہُوں سو تُو آ ۔ مَیں تُجھے آگاہ کر دُوں کہ یہ لوگ تیری قَوم کے ساتھ آخِری دِنوں میں کیا کیا کریں گے۔

15 چُنانچہ اُس نے اپنی مثل شرُوع کی اور کہنے لگا:- بعور کا بیٹا بلعا م کہتا ہے

یعنی وُہی شخص جِس کی آنکھیں بند تِھیں یہ کہتا ہے۔

16 بلکہ یہ اُسی کا کہنا ہے جو خُدا کی باتیں سُنتاہے

اور حق تعالےٰ کا عِرفان رکھتا ہے

اور سِجدہ میں پڑا ہُؤا کُھلی آنکھوں سے

قادِرِ مُطلق کی رویا دیکھتا ہے۔

17 مَیں اُسے دیکُھوں گا تو سہی پر ابھی نہیں۔

وہ مُجھے نظر بھی آئے گا پر نزدِیک سے نہیں۔

یعقُو ب میں سے ایک سِتارہ نِکلے گا

اور اِسرا ئیل میں سے ایک عصا اُٹھے گا

ا ور موآب کی نواحی کو مار مار کر صاف کردے گا

اور سب ہنگامہ کرنے والوں کو ہلاک کر ڈالے گا۔

18 اور اُس کے دُشمن ادُو م اورشعِیر

دونوں اُس کے قبضہ میں ہوں گے

اور اِسرا ئیل دِلاوری کرے گا۔

19 اور یعقُوب ہی کی نسل سے وہ فرمانروا اُٹھے گا جو شہر کے باقی ماندہ لوگوں کو نابُود کر ڈالے گا۔

20 پِھر اُس نے عَمالیق پر نظر کر کے اپنی یہ مثل شرُوع کی اور کہنے لگا:-

قَوموں میں پہلی قَوم عَمالیق کی تھی

پر اُس کا انجام ہلاکت ہے۔

21 اور قینِیوں کی طرف نِگاہ کر کے یہ مثل شرُوع کی اور کہنے لگا:-

تیرا مسکن مضبُوط ہے

اور تیرا آشیانہ بھی چٹان پر بنا ہُؤا ہے۔

22 تو بھی قِین خانہ خراب ہوگا

یہاں تک کہ اَسُور تُجھے اسِیر کر کے لے جائے گا۔

23 اور اُس نے یہ مثل بھی شرُوع کی اور کہنے لگا:-

ہائے افسوس! جب خُدا یہ کرے گا تو کَون جِیتا بچے

گا؟۔

24 پر کِتّیم کے ساحِل سے جہاز آئیں گے

اور وہ اَسُور اور عِبر دونوں کو دُکھ دیں گے۔

پِھر وہ بھی ہلاک ہو جائے گا۔

25 اِس کے بعد بلعا م اُٹھ کر روانہ ہُؤا اور اپنے مُلک کو لَوٹا اور بلق نے بھی اپنی راہ لی۔