اِفسِیوں 4

ایک ہی بدن ہے

1 پس مَیں جو خُداوند میں قَیدی ہُوں تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ جِس بُلاوے سے تُم بُلائے گئے تھے اُس کے لائِق چال چلو۔

2 یعنی کمال فروتنی اور حِلم کے ساتھ تحمُّل کر کے مُحبّت سے ایک دُوسرے کی برداشت کرو۔

3 اور اِسی کوشِش میں رہو کہ رُوح کی یگانگی صُلح کے بند سے بندھی رہے۔

4 ایک ہی بدن ہے اور ایک ہی رُوح ۔ چُنانچہ تُمہیں جو بُلائے گئے تھے اپنے بُلائے جانے سے اُمّید بھی ایک ہی ہے۔

5 ایک ہی خُداوند ہے ۔ ایک ہی اِیمان ۔ ایک ہی بپتِسمہ۔

6 اور سب کا خُدا اور باپ ایک ہی ہے ۔جو سب کے اُوپر اور سب کے درمِیان اور سب کے اندر ہے۔

7 اور ہم میں سے ہر ایک پر مسِیح کی بخشِش کے اندازہ کے مُوافِق فضل ہُؤا ہے۔

8 اِسی واسطے وہ فرماتا ہے کہ جب وہ عالَمِ بالا پر چڑھا

تو قَیدیوں کو ساتھ لے گیا

اور آدمِیوں کو اِنعام دِئے۔

9 (اُس کے چڑھنے سے اَور کیا پایا جاتا ہے سِوا اِس کے کہ وہ زمِین کے نِیچے کے عِلاقہ میں اُترا بھی تھا؟۔

10 اور یہ اُترنے والا وُہی ہے جو سب آسمانوں سے بھی اُوپر چڑھ گیا تاکہ سب چِیزوں کو معمُور کرے)۔

11 اور اُسی نے بعض کو رسُول اور بعض کو نبی اور بعض کو مُبشِّر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دِیا۔

12 تاکہ مُقدّس لوگ کامِل بنیں اور خِدمت گُذاری کا کام کِیا جائے اور مسِیح کا بدن ترقّی پائے۔

13 جب تک ہم سب کے سب خُدا کے بیٹے کے اِیمان اور اُس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامِل اِنسان نہ بنیں یعنی مسِیح کے پُورے قَد کے اندازہ تک نہ پُہنچ جائیں۔

14 تاکہ ہم آگے کو بچّے نہ رہیں اور آدمِیوں کی بازِی گری اور مَکّاری کے سبب سے اُن کے گُمراہ کرنے والے منصُوبوں کی طرف ہر ایک تعلِیم کے جھوکے سے مَوجوں کی طرح اُچھلتے بہتے نہ پِھریں۔

15 بلکہ مُحبّت کے ساتھ سچّائی پر قائِم رہ کر اور اُس کے ساتھ جو سر ہے یعنی مسِیح کے ساتھ پَیوستہ ہو کر ہر طرح سے بڑھتے جائیں۔

16 جِس سے سارا بدن ہر ایک جوڑ کی مدد سے پَیوستہ ہو کر اور گٹھ کراُس تاثِیر کے مُوافِق جو بقدرہر حِصّہ ہوتی ہے اپنے آپ کو بڑھاتا ہے تاکہ مُحبّت میں اپنی ترقّی کرتا جائے۔

مسِیح کے وسِیلہ سے نئی زِندگی

17 اِس لِئے مَیں یہ کہتا ہُوں اور خُداوند میں جتائے دیتا ہُوں کہ جِس طرح غَیر قَومیں اپنے بیہُودہ خیالات کے مُوافِق چلتی ہیں تُم آیندہ کو اُس طرح نہ چلنا۔

18 کیونکہ اُن کی عقل تارِیک ہو گئی ہے اور وہ اُس نادانی کے سبب سے جو اُن میں ہے اور اپنے دِلوں کی سختی کے باعِث خُدا کی زِندگی سے خارِج ہیں۔

19 اُنہوں نے سُن ہو کر شہوت پرستی کو اِختیار کِیا تاکہ ہر طرح کے گندے کام حِرص سے کریں۔

20 مگر تُم نے مسِیح کی اَیسی تعلِیم نہیں پائی۔

21 بلکہ تُم نے اُس سچّائی کے مُطابِق جو یِسُو ع میں ہے اُسی کی سُنی اور اُس میں یہ تعلِیم پائی ہو گی۔

22 کہ تُم اپنے اگلے چال چلن کی اُس پُرانی اِنسانِیّت کو اُتار ڈالو جو فریب کی شہوَتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔

23 اور اپنی عقل کی رُوحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔

24 اور نئی اِنسانِیّت کو پہنو جو خُدا کے مُطابِق سچّائی کی راست بازی اور پاکِیزگی میں پَیدا کی گئی ہے۔

25 پس جُھوٹ بولنا چھوڑ کر ہر ایک شخص اپنے پڑوسی سے سچ بولے کیونکہ ہم آپس میں ایک دُوسرے کے عُضو ہیں۔

26 غُصّہ تو کرو مگر گُناہ نہ کرو ۔ سُورج کے ڈُوبنے تک تُمہاری خفگی نہ رہے۔

27 اور اِبلِیس کو مَوقع نہ دو۔

28 چوری کرنے والا پِھرچوری نہ کرے بلکہ اچھّا پیشہ اِختیار کر کے ہاتھوں سے مِحنت کرے تاکہ مُحتاج کو دینے کے لِئے اُس کے پاس کُچھ ہو۔

29 کوئی گندی بات تُمہارے مُنہ سے نہ نِکلے بلکہ وُہی جو ضرُورت کے مُوافِق ترقّی کے لِئے اچھّی ہو تا کہ اُس سے سُننے والوں پر فضل ہو۔

30 اور خُدا کے پاک رُوح کو رنجِیدہ نہ کرو جِس سے تُم پرمخلصی کے دِن کے لِئے مُہر ہُوئی۔

31 ہر طرح کی تلخ مِزاجی اور قہر اور غُصّہ اور شور و غُل اور بدگوئی ہر قِسم کی بدخواہی سمیت تُم سے دُور کی جائیں۔

32 اور ایک دُوسرے پر مِہربان اور نرم دِل ہو اور جِس طرح خُدا نے مسِیح میں تُمہارے قصُور مُعاف کِئے ہیں تُم بھی ایک دُوسرے کے قصُور مُعاف کرو۔

اِفسِیوں 5

نُور میں زِندگی گُزارنا

1 پس عزِیز فرزندوں کی طرح خُدا کی مانِند بنو۔

2 اور مُحبّت سے چلو ۔ جَیسے مسِیح نے تُم سے مُحبّت کی اور ہمارے واسطے اپنے آپ کو خُوشبُو کی مانِند خُدا کی نذر کر کے قُربان کِیا۔

3 اور جَیسا کہ مُقدّسوں کو مُناسِب ہے تُم میں حرام کاری اور کِسی طرح کی ناپاکی یا لالچ کا ذِکر تک نہ ہو۔

4 اور نہ بے شرمی اور بے ہُودہ گوئی اور ٹھٹّھا بازی کا کیونکہ یہ لائِق نہیں بلکہ برعکس اِس کے شُکر گُذاری ہو۔

5 کیونکہ تُم یہ خُوب جانتے ہو کہ کِسی حرام کار یاناپاک یا لالچی کی جو بُت پرست کے برابر ہے مسِیح اور خُدا کی بادشاہی میں کُچھ مِیراث نہیں۔

6 کوئی تُم کو بے فائِدہ باتوں سے دھوکا نہ دے کیونکہ اِن ہی گُناہوں کے سبب سے نافرمانی کے فرزندوں پر خُدا کا غضب نازِل ہوتا ہے۔

7 پس اُن کے کاموں میں شرِیک نہ ہو۔

8 کیونکہ تُم پہلے تارِیکی تھے مگر اب خُداوند میں نُور ہو ۔ پس نُور کے فرزندوں کی طرح چلو۔

9 (اِس لِئے کہ نُور کا پَھل ہر طرح کی نیکی اور راست بازی اور سچّائی ہے)۔

10 اور تجربہ سے معلُوم کرتے رہو کہ خُداوند کو کیا پسند ہے۔

11 اور تارِیکی کے بے پَھل کاموں میں شرِیک نہ ہو بلکہ اُن پر ملامت ہی کِیا کرو۔

12 کیونکہ اُن کے پوشِیدہ کاموں کا ذِکر بھی کرنا شرم کی بات ہے۔

13 اور جِن چِیزوں پر ملامت ہوتی ہے وہ سب نُور سے ظاہِر ہوتی ہیں کیونکہ جو کُچھ ظاہِرکِیا جاتا ہے وہ رَوشن ہو جاتا ہے۔

14 اِس لِئے وہ فرماتا ہے

اَے سونے والے جاگ

اور مُردوں میں سے جی اُٹھ

تو مسِیح کا نُور تُجھ پر چمکے گا۔

15 پس غَور سے دیکھو کہ کِس طرح چلتے ہو ۔ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانِند چلو۔

16 اور وقت کو غنِیمت جانو کیونکہ دِن بُرے ہیں۔

17 اِس سبب سے نادان نہ بنو بلکہ خُداوند کی مرضی کو سمجھو کہ کیا ہے۔

18 اور شراب میں متوالے نہ بنو کیونکہ اِس سے بدچلنی واقِع ہوتی ہے بلکہ رُوح سے معمُور ہوتے جاؤ۔

19 اور آپس میں مزامِیر اور گِیت اور رُوحانی غزلیں گایا کرو اور دِل سے خُداوند کے لِئے گاتے بجاتے رہا کرو۔

20 اور سب باتوں میں ہمارے خُداوند یِسُو ع مسِیح کے نام سے ہمیشہ خُدا باپ کا شُکر کرتے رہو۔

بِیویاں اور شَوہر

21 اور مسِیح کے خَوف سے ایک دُوسرے کے تابِع رہو۔

22 اَے بِیوِیو! اپنے شَوہروں کی اَیسی تابِع رہو جَیسے خُداوند کی۔

23 کیونکہ شَوہر بِیوی کا سر ہے جَیسے کہ مسِیح کلِیسیا کا سَر ہے اور وہ خُود بدن کا بچانے والا ہے۔

24 لیکن جَیسے کلِیسیا مسِیح کے تابِع ہے وَیسے ہی بِیوِیاں بھی ہر بات میں اپنے شَوہروں کے تابِع ہوں۔

25 اَے شَوہرو! اپنی بِیوِیوں سے مُحبّت رکھّو جَیسے مسِیح نے بھی کلِیسیا سے مُحبّت کر کے اپنے آپ کو اُس کے واسطے مَوت کے حوالہ کر دِیا۔

26 تاکہ اُس کو کلام کے ساتھ پانی سے غُسل دے کر اور صاف کر کے مُقدّس بنائے۔

27 اور ایک اَیسی جلال والی کلِیسیا بنا کر اپنے پاس حاضِر کرے جِس کے بدن میں داغ یا جُھرّی یا کوئی اَور اَیسی چِیز نہ ہو بلکہ پاک اور بے عَیب ہو۔

28 اِسی طرح شَوہروں کو لازِم ہے کہ اپنی بِیوِیوں سے اپنے بدن کی مانِند مُحبّت رکھّیں ۔ جو اپنی بِیوی سے مُحبّت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے مُحبّت رکھتا ہے۔

29 کیونکہ کبھی کِسی نے اپنے جِسم سے دُشمنی نہیں کی بلکہ اُس کو پالتا اور پروَرِش کرتا ہے جَیسے کہ مسِیح کلِیسیا کو۔

30 اِس لِئے کہ ہم اُس کے بدن کے عُضو ہیں۔

31 اِسی سبب سے آدمی باپ سے اور ماں سے جُدا ہو کر اپنی بِیوی کے ساتھ رہے گا اور وہ دونوں ایک جِسم ہوں گے۔

32 یہ بھید تو بڑا ہے لیکن مَیں مسِیح اور کلِیسیا کی بابت کہتا ہُوں۔

33 بہر حال تُم میں سے بھی ہر ایک اپنی بِیوی سے اپنی مانِند مُحبّت رکھّے اور بِیوی اِس بات کا خیال رکھّے کہ اپنے شَوہر سے ڈرتی رہے۔

اِفسِیوں 6

اولاد اور والدین

1 اَے فرزندو! خُداوند میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو کیونکہ یہ واجِب ہے۔

2 اپنے باپ کی اور ماں کی عِزّت کر (یہ پہلا حُکم ہے جِس کے ساتھ وعدہ بھی ہے)۔

3 تاکہ تیرا بھلا ہو اور تیری عُمر زمِین پر دراز ہو۔

4 اور اَے اَولاد والو! تُم اپنے فرزندوں کو غُصّہ نہ دِلاؤ بلکہ خُداوندکی طرف سے تربِیّت اور نصِیحت دے دے کر اُن کی پروَرِش کرو۔

غُلام اور مالِک

5 اَے نَوکرو! جو جِسم کے رُو سے تُمہارے مالِک ہیں اپنی صاف دِلی سے ڈرتے اور کانپتے ہُوئے اُن کے اَیسے فرمانبردار رہو جَیسے مسِیح کے۔

6 اور آدمِیوں کو خُوش کرنے والوں کی طرح دِکھاوے کے لِئے خِدمت نہ کرو بلکہ مسِیح کے بندوں کی طرح دِل سے خُدا کی مرضی پُوری کرو۔

7 اور اُس خِدمت کو آدمِیوں کی نہیں بلکہ خُداوند کی جان کر جی سے کرو۔

8 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ جو کوئی جَیسا اچھّا کام کرے گا خواہ غُلام ہو خواہ آزاد خُداوند سے وَیسا ہی پائے گا۔

9 اور اَے مالِکو! تُم بھی دھمکِیاں چھوڑ کر اُن کے ساتھ اَیسا ہی سلُوک کرو کیونکہ تُم جانتے ہو کہ اُن کا اور تُمہارا دونوں کا مالِک آسمان پر ہے اور وہ کِسی کا طرف دار نہیں۔

خُداکے سب ہتھیار

10 غرض خُداوند میں اور اُس کی قُدرت کے زور میں مضبُوط بنو۔

11 خُدا کے سب ہتھیار باندھ لوتاکہ تُم اِبلِیس کے منصُوبوں کے مُقابلہ میں قائِم رہ سکو۔

12 کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت سے کُشتی نہیں کرنا ہے بلکہ حُکومت والوں اور اِختیار والوں اور اِس دُنیا کی تارِیکی کے حاکِموں اور شرارت کی اُن رُوحانی فَوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔

13 اِس واسطے تُم خُدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ بُرے دِن میں مُقابلہ کر سکو اور سب کاموں کو انجام دے کر قائِم رہ سکو۔

14 پس سچّائی سے اپنی کمر کس کر اور راست بازی کا بکتر لگا کر۔

15 اور پاؤں میں صُلح کی خُوشخبری کی تیّاری کے جُوتے پہن کر۔

16 اور اُن سب کے ساتھ اِیمان کی سِپر لگا کر قائِم رہو ۔ جِس سے تُم اُس شرِیر کے سب جلتے ہُوئے تِیروں کو بُجھا سکو۔

17 اور نجات کا خَود اور رُوح کی تلوار جو خُدا کا کلام ہے لے لو۔

18 اور ہر وقت اور ہر طرح سے رُوح میں دُعا اور مِنّت کرتے رہو اور اِسی غرض سے جاگتے رہو کہ سب مُقدّسوں کے واسطے بِلاناغہ دُعا کِیا کرو۔

19 اور میرے لِئے بھی تاکہ بولنے کے وقت مُجھے کلام کرنے کی تَوفیِق ہو جِس سے مَیں خُوشخبری کے بھید کو دِلیری سے ظاہِر کرُوں۔

20 جِس کے لِئے زنجِیر سے جکڑا ہُؤا ایلچی ہُوں اور اُس کو اَیسی دِلیری سے بیان کرُوں جَیسا بیان کرنا مُجھ پر فرض ہے۔

اِختتامیہ سلام

21 اور تُخِکس جو پِیارا بھائی اور خُداوند میں دِیانت دار خادِم ہے تُمہیں سب باتیں بتا دے گا تاکہ تُم بھی میرے حال سے واقِف ہو جاؤ کہ مَیں کِس طرح رہتا ہُوں۔

22 اُس کو مَیں نے تُمہارے پاس اِسی واسطے بھیجا ہے کہ تُم ہماری حالت سے واقِف ہو جاؤ اور وہ تُمہارے دِلوں کو تسلّی دے۔

23 خُدا باپ اور خُداوند یِسُو ع مسِیح کی طرف سے بھائِیوں کو اِطمِینان حاصِل ہو اور اُن میں اِیمان کے ساتھ مُحبّت ہو۔

24 جو ہمارے خُداوند یِسُو ع مسِیح سے لازوال مُحبّت رکھتے ہیں اُن سب پر فضل ہوتا رہے۔

گلتِیوں 1

تمہید

1 پَولُس کی طرف سے جو نہ اِنسانوں کی جانِب سے نہ اِنسان کے سبب سے بلکہ یِسُو ع مسِیح اور خُدا باپ کے سبب سے جِس نے اُس کو مُردوں میں سے جِلایا رسُول ہے۔

2 اور سب بھائِیوں کی طرف سے جو میرے ساتھ ہیں گلِتیہ کی کلِیسیاؤں کو۔

3 خُدا باپ اور ہمارے خُداوند یِسُو ع مسِیح کی طرف سے تُمہیں فضل اور اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے۔

4 اُسی نے ہمارے گُناہوں کے لِئے اپنے آپ کو دے دِیا تاکہ ہمارے خُدا اور باپ کی مرضی کے مُوافِق ہمیں اِس مَوجُودہ خراب جہان سے خلاصی بخشے۔

5 اُس کی تمجِید ابدُالآباد ہوتی رہے ۔ آمِین۔

ایک ہی خُوشخبری

6 مَیں تعجُّب کرتا ہُوں کہ جِس نے تُمہیں مسِیح کے فضل سے بُلایا اُس سے تُم اِس قدر جلد پِھر کر کِسی اَور طرح کی خُوشخبری کی طرف مائِل ہونے لگے۔

7 مگر وہ دُوسری نہیں البتّہ بعض اَیسے ہیں جو تُمہیں گھبرا دیتے اور مسِیح کی خُوشخبری کو بِگاڑنا چاہتے ہیں۔

8 لیکن اگر ہم یا آسمان کا کوئی فرِشتہ بھی اُس خُوشخبری کے سِوا جو ہم نے تُمہیں سُنائی کوئی اَور خُوشخبری تُمہیں سُنائے تو ملعُون ہو۔

9 جَیسا ہم پیشتر کہہ چُکے ہیں وَیسا ہی اب مَیں پِھر کہتا ہُوں کہ اُس خُوشخبری کے سِوا جو تُم نے قبُول کی تھی اگر کوئی تُمہیں اَور خُوشخبری سُناتا ہے تو ملعُون ہو۔

10 اب مَیں آدمِیوں کو دوست بناتا ہُوں یا خُدا کو؟ کیا آدمِیوں کو خُوش کرنا چاہتا ہُوں؟ اگر اب تک آدمِیوں کو خُوش کرتا رہتا تو مسِیح کا بندہ نہ ہوتا۔

پَولُس کَیسے رسُول بنا

11 اَے بھائِیو! مَیں تُمہیں جتائے دیتا ہُوں کہ جو خُوشخبری مَیں نے سُنائی وہ اِنسان کی سی نہیں۔

12 کیونکہ وہ مُجھے اِنسان کی طرف سے نہیں پُہنچی اور نہ مُجھے سِکھائی گئی بلکہ یِسُو ع مسِیح کی طرف سے مُجھے اُس کا مُکاشفہ ہُؤا۔

13 چُنانچہ یہُودی طرِیق میں جو پہلے میرا چال چلن تھا تُم سُن چُکے ہو کہ مَیں خُدا کی کلِیسیا کو ازحد ستاتا اور تباہ کرتا تھا۔

14 اور مَیں یہُودی طرِیق میں اپنی قَوم کے اکثر ہم عُمروں سے بڑھتا جاتا تھا اور اپنے بزُرگوں کی روایتوں میں نِہایت سرگرم تھا۔ قوم

15 لیکن جِس خُدا نے مُجھے میری ماں کے پیٹ ہی سے مخصُوص کر لِیا اور اپنے فضل سے بُلا لِیا جب اُس کی یہ مرضی ہُوئی۔

16 کہ اپنے بیٹے کو مُجھ میں ظاہِر کرے تاکہ مَیں غَیر قَوموں میں اُس کی خُوشخبری دُوں تو نہ مَیں نے گوشت اور خُون سے صلاح لی۔

17 ا ور نہ یروشلِیم میں اُن کے پاس گیا جو مُجھ سے پہلے رسُول تھے بلکہ فوراً عرب کو چلا گیا ۔ پِھر وہاں سے دمِشق کو واپس آیا۔

18 پِھر تِین برس کے بعد مَیں کیفا سے مُلاقات کرنے کو یروشلِیم گیا اور پندرہ دِن اُس کے پاس رہا۔

19 مگر اَور رسُولوں میں سے خُداوند کے بھائی یعقُو ب کے سِوا کِسی سے نہ مِلا۔

20 جو باتیں مَیں تُم کو لِکھتا ہُوں خُدا کو حاضِر جان کر کہتا ہُوں کہ وہ جُھوٹی نہیں۔

21 اِس کے بعد مَیں سُور یہ اور کِلِکیہ کے عِلاقوں میں آیا۔

22 اور یہُودیہ کی کلِیسیائیں جو مسِیح میں تھِیں میری صُورت سے تو واقِف نہ تھِیں۔

23 مگر صِرف یہ سُنا کرتی تھِیں کہ جو ہم کو پہلے ستاتا تھا وہ اب اُسی دِین کی خُوشخبری دیتا ہے جِسے پہلے تباہ کرتا تھا۔

24 اور وہ میرے باعِث خُدا کی تمجِید کرتی تھِیں۔

گلتِیوں 2

پَولُس اور دُوسرے رسُول

1 آخِر چَودہ برس کے بعد مَیں برنبا س کے ساتھ پِھر یروشلِیم کو گیا اور طِطُس کو بھی ساتھ لے گیا۔

2 اور میرا جانا مُکاشفہ کے مُطابِق ہُؤا اور جِس خُوشخبری کی غَیر قَوموں میں مُنادی کرتا ہُوں وہ اُن سے بیان کی مگر تنہائی میں اُن ہی لوگوں سے جو کُچھ سمجھے جاتے تھے تا اَیسا نہ ہو کہ میری اِس وقت کی یا اگلی دَوڑ دُھوپ بے فائِدہ جائے۔

3 لیکن طِطُس بھی جو میرے ساتھ تھا اور یُونانی ہے خَتنہ کرانے پر مجبُور نہ کِیا گیا۔

4 اور یہ اُن جُھوٹے بھائِیوں کے سبب سے ہُؤا جو چُھپ کر داخِل ہو گئے تھے اور چوری سے گُھس آئے تھے تاکہ اُس آزادی کو جو ہمیں مسِیح یِسُو ع میں حاصِل ہے جاسُوسوں کے طَور پر دریافت کر کے ہمیں غُلامی میں لائیں۔

5 اُن کے تابِع رہنا ہم نے گھڑی بھر بھی منظُور نہ کِیاتاکہ خُوشخبری کی سچّائی تُم میں قائِم رہے۔

6 اور جو لوگ کُچھ سمجھے جاتے تھے (خواہ وہ کَیسے ہی تھے مُجھے اِس سے کُچھ واسطہ نہیں ۔ خُدا کِسی آدمی کا طرف دار نہیں) اُن سے جو کُچھ سمجھے جاتے تھے مُجھے کُچھ حاصِل نہ ہُؤا۔

7 لیکن برعکس اِس کے جب اُنہوں نے یہ دیکھا کہ جِس طرح مختُونوں کو خُوشخبری دینے کا کام پطرس کے سپُرد ہُؤا اُسی طرح نامختُونوں کو سُنانا اِس کے سپُرد ہُؤا۔

8 (کیونکہ جِس نے مختُونوں کی رِسالت کے لِئے پطر س میں اثر پَیدا کِیا اُسی نے غَیر قَوموں کے لِئے مُجھ میں بھی اثر پَیدا کِیا)۔

9 اور جب اُنہوں نے اُس تَوفِیق کو معلُوم کِیا جو مُجھے مِلی تھی تو یعقُو ب اور کیفا اور یُوحنّا نے جو کلِیسیا کے رُکن سمجھے جاتے تھے مُجھے اور برنبا س کو دہنا ہاتھ دے کر شرِیک کر لِیا تاکہ ہم غَیر قَوموں کے پاس جائیں اور وہ مختُونوں کے پاس۔

10 اور صِرف یہ کہا کہ غرِیبوں کو یاد رکھنا مگر مَیں خُود ہی اِسی کام کی کوشِش میں تھا۔

انطاکِیہ میں پَولُس پطرس کو جِھڑکتاہے

11 لیکن جب کیفا انطا کِیہ میں آیا تو مَیں نے رُوبرُو ہو کر اُس کی مُخالِفت کی کیونکہ وہ ملامت کے لائِق تھا۔

12 اِس لِئے کہ یعقُو ب کی طرف سے چند شخصوں کے آنے سے پہلے تو وہ غَیر قَوم والوں کے ساتھ کھایا کرتا تھا مگر جب وہ آ گئے تو مختُونوں سے ڈر کر باز رہا اور کنارہ کِیا۔

13 اور باقی یہُودیوں نے بھی اُس کے ساتھ ہو کر رِیاکاری کی ۔ یہاں تک کہ برنبا س بھی اُن کے ساتھ رِیاکاری میں پڑ گیا۔

14 جب مَیں نے دیکھا کہ وہ خُوشخبری کی سچّائی کے مُوافِق سِیدھی چال نہیں چلتے تو مَیں نے سب کے سامنے کیفا سے کہا کہ جب تُو باوُجُود یہُودی ہونے کے غَیر قَوموں کی طرح زِندگی گُذارتا ہے نہ کہ یہُودیوں کی طرح تو غَیر قَوموں کو یہُودیوں کی طرح چلنے پر کیوں مجبُور کرتا ہے؟۔

یہُودی اور غَیر قوم والے اِیمان سے نجات پاتے ہیں

15 گو ہم پَیدایش سے یہُودی ہیں اور گُنہگار غَیر قَوموں میں سے نہیں۔

16 تَو بھی یہ جان کر کہ آدمی شرِیعت کے اَعمال سے نہیں بلکہ صِرف یِسُو ع مسِیح پر اِیمان لانے سے راست باز ٹھہرتا ہے خُود بھی مسِیح یِسُو ع پر اِیمان لائے تاکہ ہم مسِیح پر اِیمان لانے سے راست باز ٹھہریں نہ کہ شرِیعت کے اَعمال سے ۔ کیونکہ شرِیعت کے اَعمال سے کوئی بشر راست باز نہ ٹھہرے گا۔

17 اور ہم جو مسِیح میں راست باز ٹھہرنا چاہتے ہیں اگر خُود ہی گُنہگار نِکلیں تو کیا مسِیح گُناہ کا باعِث ہے؟ ہرگِز نہیں!۔

18 کیونکہ جو کُچھ مَیں نے ڈھا دِیا اگر اُسے پِھر بناؤں تو اپنے آپ کو قُصُوروار ٹھہراتا ہُوں۔

19 چُنانچہ مَیں شرِیعت ہی کے وسِیلہ سے شرِیعت کے اِعتبار سے مَر گیا تاکہ خُدا کے اِعتبار سے زِندہ ہو جاؤں۔

20 مَیں مسِیح کے ساتھ مصلُوب ہُؤا ہُوں اور اب مَیں زِندہ نہ رہا بلکہ مسِیح مُجھ میں زِندہ ہے اور مَیں جو اَب جِسم میں زِندگی گُذارتا ہُوں تو خُدا کے بیٹے پر اِیمان لانے سے گُذارتا ہُوں جِس نے مُجھ سے مُحبّت رکھّی اور اپنے آپ کو میرے لِئے مَوت کے حوالہ کر دِیا۔

21 مَیں خُدا کے فضل کو بیکار نہیں کرتا کیونکہ راست بازی اگر شرِیعت کے وسِیلہ سے مِلتی تو مسِیح کا مَرنا عَبث ہوتا۔

گلتِیوں 3

شرِیعت بمقابلہ اِیمان

1 اَے نادان گلِتیو!کِس نے تُم پر افسُوں کر لِیا؟ تُمہاری تو گویا آنکھوں کے سامنے یِسُو ع مسِیح صلِیب پر دِکھایا گیا۔

2 مَیں تُم سے صِرف یہ دریافت کرنا چاہتا ہُوں کہ تُم نے شرِیعت کے اَعمال سے رُوح کو پایا یا اِیمان کے پَیغام سے؟۔

3 کیا تُم اَیسے نادان ہو کہ رُوح کے طَور پر شرُوع کر کے اب جِسم کے طَور پر کام پُورا کرنا چاہتے ہو؟۔

4 کیا تُم نے اِتنی تکلِیفیں بے فائِدہ اُٹھائِیں؟ مگر شاید بے فائِدہ نہیں۔

5 پس جو تُمہیں رُوح بخشتا اور تُم میں مُعجزے ظاہِر کرتا ہے کیا وہ شرِیعت کے اَعمال سے اَیسا کرتا ہے یا اِیمان کے پَیغام سے؟۔

6 چُنانچہ ابرہا م خُدا پر اِیمان لایا اور یہ اُس کے لِئے راست بازی گِنا گیا۔

7 پس جان لو کہ جو اِیمان والے ہیں وُہی ابرہا م کے فرزند ہیں۔

8 اور کِتابِ مُقدّس نے پیشتر سے یہ جان کر کہ خُدا غَیر قَوموں کو اِیمان سے راست باز ٹھہرائے گا پہلے ہی سے ابرہا م کو یہ خُوشخبری سُنادی کہ تیرے باعِث سب قَومیں برکت پائیں گی۔

9 پس جو اِیمان والے ہیں وہ اِیمان دار ابرہا م کے ساتھ برکت پاتے ہیں۔

10 کیونکہ جِتنے شرِیعت کے اَعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لَعنت کے ماتحت ہیں ۔ چُنانچہ لِکھا ہے کہ جو کوئی اُن سب باتوں کے کرنے پر قائِم نہیں رہتا جو شرِیعت کی کِتاب میں لِکھّی ہیں وہ لَعنتی ہے۔

11 اور یہ بات ظاہِر ہے کہ شرِیعت کے وسِیلہ سے کوئی شخص خُدا کے نزدِیک راست باز نہیں ٹھہرتا کیونکہ لِکھا ہے کہ راست باز اِیمان سے جِیتا رہے گا۔

12 اور شرِیعت کو اِیمان سے کُچھ واسطہ نہیں بلکہ لِکھا ہے کہ جِس نے اِن پر عمل کِیا وہ اِن کے سبب سے جِیتا رہے گا۔

13 مسِیح جو ہمارے لِئے لَعنتی بنا اُس نے ہمیں مول لے کر شرِیعت کی لَعنت سے چُھڑایا کیونکہ لِکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لَعنتی ہے۔

14 تاکہ مسِیح یِسُو ع میں ابرہا م کی برکت غَیر قَوموں تک بھی پُہنچے اور ہم اِیمان کے وسِیلہ سے اُس رُوح کو حاصِل کریں جِس کا وعدہ ہُؤا ہے۔

شرِیعت اور وعدہ

15 اَے بھائِیو! مَیں اِنسان کے طَور پر کہتا ہُوں کہ اگرچہ آدمی ہی کا عہد ہو جب اُس کی تصدِیق ہو گئی تو کوئی اُس کو باطِل نہیں کرتا اور نہ اُس پر کُچھ بڑھاتا ہے۔

16 پس ابرہا م اور اُس کی نسل سے وعدے کِئے گئے ۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ نسلوں سے ۔ جَیسا بُہتوں کے واسطے کہا جاتا ہے بلکہ جَیسا ایک کے واسطے کہ تیری نسل کو اور وہ مسِیح ہے۔

17 میرا یہ مطلَب ہے کہ جِس عہد کی خُدا نے پہلے سے تصدِیق کی تھی اُس کو شرِیعت چار سَو تِیس برس کے بعد آ کر باطِل نہیں کر سکتی کہ وہ وعدہ لاحاصِل ہو۔

18 کیونکہ اگر مِیراث شرِیعت کے سبب سے مِلی ہے تو وعدہ کے سبب سے نہ ہُوئی مگر ابرہا م کو خُدا نے وعدہ ہی کی راہ سے بخشی۔

19 پس شرِیعت کیا رہی؟ وہ نافرمانِیوں کے سبب سے بعد میں دی گئی کہ اُس نسل کے آنے تک رہے جِس سے وعدہ کِیا گیا تھا اور وہ فرِشتوں کے وسِیلہ سے ایک درمِیانی کی معرفت مُقرّر کی گئی۔

20 اب درمِیانی ایک کا نہیں ہوتا مگر خُدا ایک ہی ہے۔

شرِیعت کا مقصد

21 پس کیا شرِیعت خُدا کے وعدوں کے خِلاف ہے؟ ہرگِز نہیں! کیونکہ اگر کوئی اَیسی شرِیعت دی جاتی جو زِندگی بخش سکتی تو البتّہ راست بازی شرِیعت کے سبب سے ہوتی۔

22 مگر کِتابِ مُقدّس نے سب کو گُناہ کا ماتحت کر دِیا تاکہ وہ وعدہ جو یِسُو ع مسِیح پر اِیمان لانے پر مَوقُوف ہے اِیمان داروں کے حق میں پُورا کِیا جائے۔

23 اِیمان کے آنے سے پیشتر شرِیعت کی ماتحتی میں ہماری نِگہبانی ہوتی تھی اور اُس اِیمان کے آنے تک جو ظاہِر ہونے والا تھا ہم اُسی کے پابند رہے۔

24 پس شرِیعت مسِیح تک پُہنچانے کو ہمارا اُستاد بنی تاکہ ہم اِیمان کے سبب سے راست باز ٹھہریں۔

25 مگر جب اِیمان آ چُکا تو ہم اُستاد کے ماتحت نہ رہے۔

26 کیونکہ تُم سب اُس اِیمان کے وسِیلہ سے جو مسِیح یِسُو ع میں ہے خُدا کے فرزند ہو۔

27 اور تُم سب جِتنوں نے مسِیح میں شامِل ہونے کا بپتِسمہ لِیا مسِیح کو پہن لِیا۔

28 نہ کوئی یہُودی رہا نہ یُونانی۔ نہ کوئی غُلام نہ آزاد ۔ نہ کوئی مَرد نہ عَورت کیونکہ تُم سب مسِیح یِسُو ع میں ایک ہو۔

29 اور اگر تُم مسِیح کے ہو تو ابرہا م کی نسل اور وعدہ کے مُطابِق وارِث ہو۔

گلتِیوں 4

1 لیکن مَیں یہ کہتا ہُوں کہ وارِث جب تک بچّہ ہے اگرچہ وہ سب کا مالِک ہے اُس میں اور غُلام میں کُچھ فرق نہیں۔

2 بلکہ جو مِیعاد باپ نے مُقرّر کی اُس وقت تک سرپرستوں اور مُختاروں کے اِختیار میں رہتا ہے۔

3 اِسی طرح ہم بھی جب بچّے تھے تو دُنیوی اِبتدائی باتوں کے پابند ہو کر غُلامی کی حالت میں رہے۔

4 لیکن جب وقت پُورا ہو گیا تو خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عَورت سے پَیدا ہُؤا اور شرِیعت کے ماتحت پَیدا ہُؤا۔

5 تاکہ شرِیعت کے ماتحتوں کو مول لے کر چُھڑا لے اور ہم کو لے پالک ہونے کا درجہ مِلے۔

6 اور چُونکہ تُم بیٹے ہو اِس لِئے خُدا نے اپنے بیٹے کا رُوح ہمارے دِلوں میں بھیجا جو ابّا یعنی اَے باپ! کہہ کر پُکارتا ہے۔

7 پس اب تُو غُلام نہیں بلکہ بیٹا ہے اور جب بیٹا ہُؤا تو خُدا کے وسِیلہ سے وارِث بھی ہُؤا۔

گلِتیوں کے لِئے پَولُس کی فِکر مندی

8 لیکن اُس وقت خُدا سے ناواقِف ہو کر تُم اُن معبُودوں کی غُلامی میں تھے جو اپنی ذات سے خُدا نہیں۔

9 مگر اب جو تُم نے خُدا کو پہچانا بلکہ خُدا نے تُم کو پہچانا تو اُن ضعِیف اور نِکمّی اِبتدائی باتوں کی طرف کِس طرح پِھر رجُوع ہوتے ہو جِن کی دوبارہ غُلامی کرنا چاہتے ہو؟۔

10 تُم دِنوں اور مہِینوں اور مُقرّرہ وقتوں اور برسوں کو مانتے ہو۔

11 مُجھے تُمہاری بابت ڈر ہے ۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ جو مِحنت مَیں نے تُم پر کی ہے بے فائِدہ جائے۔

12 اَے بھائِیو! مَیں تُمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ میری مانِند ہو جاؤ کیونکہ مَیں بھی تُمہاری مانِند ہُوں ۔ تُم نے میرا کُچھ بِگاڑا نہیں۔

13 بلکہ تُم جانتے ہو کہ مَیں نے پہلی دفعہ جِسم کی کمزوری کے سبب سے تُم کو خُوشخبری سُنائی تھی۔

14 اور تُم نے میری اُس جِسمانی حالت کو جو تُمہاری آزمایش کا باعِث تھی نہ حقِیر جانا نہ اُس سے نفرت کی اور خُدا کے فرِشتہ بلکہ مسِیح یِسُو ع کی مانِند مُجھے مان لِیا۔

15 پس تُمہارا وہ خُوشی منانا کہاں گیا؟ مَیں تُمہارا گواہ ہُوں کہ اگر ہو سکتا تو تُم اپنی آنکھیں بھی نِکال کر مُجھے دے دیتے۔

16 تو کیا تُم سے سچ بولنے کے سبب سے مَیں تُمہارا دُشمن بن گیا؟۔

17 وہ تُمہیں دوست بنانے کی کوشِش تو کرتے ہیں مگر نیک نِیّتی سے نہیں بلکہ وہ تُمہیں خارِج کرانا چاہتے ہیں تاکہ تُم اُن ہی کو دوست بنانے کی کوشِش کرو۔

18 لیکن یہ اچّھی بات ہے کہ نیک اَمر میں دوست بنانے کی ہر وقت کوشِش کی جائے ۔ نہ صِرف اُسی وقت جب مَیں تُمہارے پاس مَوجُود ہُوں۔

19 اَے میرے بچّو! تُمہاری طرف سے مُجھے پِھر جننے کے سے دَرد لگے ہیں ۔ جب تک کہ مسِیح تُم میں صُورت نہ پکڑ لے۔

20 جی چاہتا ہے کہ اب تُمہارے پاس مَوجُود ہو کر اَور طرح سے بولُوں کیونکہ مُجھے تُمہاری طرف سے شُبہ ہے۔

ہاجرہ اور سارہ کی مثال

21 مُجھ سے کہو تو ۔ تُم جو شرِیعت کے ماتحت ہونا چاہتے ہو کیا شرِیعت کی بات کو نہیں سُنتے؟۔

22 یہ لِکھا ہے کہ ابرہا م کے دو بیٹے تھے ۔ ایک لَونڈی سے ۔ دُوسرا آزاد سے۔

23 مگر لَونڈی کا بیٹا جِسمانی طَور پر اور آزاد کا بیٹا وعدہ کے سبب سے پَیدا ہُؤا۔

24 اِن باتوں میں تمثِیل پائی جاتی ہے اِس لِئے کہ یہ عَورتیں گویا دو عہد ہیں ۔ ایک کوہِ سِینا پر کا جِس سے غُلام ہی پَیدا ہوتے ہیں اور وہ ہاجر ہ ہے۔

25 اور ہاجر ہ عرب کا کوہِ سِینا ہے اور مَوجُودہ یروشلِیم اُس کا جواب ہے کیونکہ وہ اپنے لڑکوں سمیت غُلامی میں ہے۔

26 مگر عالَمِ بالا کی یروشلِیم آزاد ہے اور وُہی ہماری ماں ہے۔

27 کیونکہ لِکھا ہے کہ

اَے بانجھ! تُو جِس کے اَولاد نہیں ہوتی خُوشی منا ۔

تُو جو دردِ زِہ سے ناواقِف ہے آواز بُلند کر کے چِلّا

کیونکہ بیکس چھوڑی ہُوئی کی اَولاد شَوہر والی

کی اَولاد سے زِیادہ ہو گی۔

28 پس اَے بھائِیو! ہم اِضحا ق کی طرح وعدہ کے فرزند ہیں۔

29 اور جَیسے اُس وقت جِسمانی پَیدایش والا رُوحانی پَیدایش والے کو ستاتا تھا وَیسے ہی اب بھی ہوتا ہے۔

30 مگر کِتابِ مُقدّس کیا کہتی ہے؟ یہ کہ لَونڈی اور اُس کے بیٹے کو نِکال دے کیونکہ لَونڈی کا بیٹا آزاد کے بیٹے کے ساتھ ہرگِز وارِث نہ ہو گا۔

31 پس اَے بھائِیو! ہم لَونڈی کے فرزند نہیں بلکہ آزاد کے ہیں۔

گلتِیوں 5

اپنی آزادی کو محفُوظ رکھو

1 مسِیح نے ہمیں آزاد رہنے کے لِئے آزاد کِیا ہے پس قائِم رہو اور دوبارہ غُلامی کے جُوئے میں نہ جُتو۔

2 دیکھو مَیں پَولُس تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُم خَتنہ کراؤ گے تو مسِیح سے تُم کو کُچھ فائِدہ نہ ہو گا۔

3 بلکہ مَیں ہر ایک خَتنہ کرانے والے شخص پر پِھر گواہی دیتا ہُوں کہ اُسے تمام شرِیعت پر عمل کرنا فرض ہے۔

4 تُم جو شرِیعت کے وسِیلہ سے راست باز ٹھہرنا چاہتے ہو مسِیح سے الگ ہو گئے اور فضل سے محرُوم۔

5 کیونکہ ہم رُوح کے باعِث اِیمان سے راست بازی کی اُمّید بر آنے کے مُنتظِر ہیں۔

6 اور مسِیح یِسُو ع میں نہ تو خَتنہ کُچھ کام کا ہے نہ نا مختُونی مگر اِیمان جو مُحبّت کی راہ سے اثر کرتا ہے۔

7 تُم تو اچّھی طرح دَوڑ رہے تھے ۔ کِس نے تُمہیں حق کے ماننے سے روک دِیا؟۔

8 یہ ترغِیب تُمہارے بُلانے والے کی طرف سے نہیں ہے۔

9 تھوڑا سا خمِیر سارے گُندھے ہُوئے آٹے کو خمِیر کر دیتا ہے۔

10 مُجھے خُداوند میں تُم پر یہ بھروسا ہے کہ تُم اَور طرح کا خیال نہ کرو گے لیکن جو تُمہیں گھبرا دیتا ہے وہ خواہ کوئی ہو سزا پائے گا۔

11 اور اَے بھائِیو! مَیں اگر اب تک خَتنہ کی مُنادی کرتا ہُوں تو اب تک ستایا کیوں جاتا ہُوں؟ اِس صُورت میں صلِیب کی ٹھوکر تو جاتی رہی۔

12 کاش کہ تُمہارے بے قرار کرنے والے اپنا تعلُّق قطع کر لیتے۔

13 اَے بھائِیو! تُم آزادی کے لِئے بُلائے تو گئے ہو مگر اَیسا نہ ہو کہ وہ آزادی جِسمانی باتوں کا مَوقع بنے بلکہ مُحبّت کی راہ سے ایک دُوسرے کی خِدمت کرو۔

14 کیونکہ ساری شرِیعت پر ایک ہی بات سے پُورا عمل ہو جاتا ہے یعنی اِس سے کہ تُو اپنے پڑوسی سے اپنی مانِند مُحبّت رکھ۔

15 لیکن اگر تُم ایک دُوسرے کو کاٹتے اور پھاڑے کھاتے ہو تو خبردار رہنا کہ ایک دُوسرے کا ستیاناس نہ کر دو۔

خُدا کا رُوح اور اِنسانی سرِشت

16 مگر مَیں یہ کہتا ہُوں کہ رُوح کے مُوافِق چلو تو جِسم کی خواہِش کو ہرگِز پُورا نہ کرو گے۔

17 کیونکہ جِسم رُوح کے خِلاف خواہِش کرتا ہے اور رُوح جِسم کے خِلاف اور یہ ایک دُوسرے کے مُخالِف ہیں تاکہ جو تُم چاہتے ہو وہ نہ کرو۔

18 اور اگر تُم رُوح کی ہدایت سے چلتے ہو تو شرِیعت کے ماتحت نہیں رہے۔

19 اب جِسم کے کام تو ظاہِر ہیں یعنی حرام کاری۔ ناپاکی ۔ شہوَت پرستی۔

20 بُت پرستی ۔ جادُوگری ۔ عداوتیں ۔ جھگڑا ۔ حسد ۔ غُصّہ ۔ تفرِقے ۔ جُدائیاں ۔ بِدعتیں۔

21 بُغض ۔ نشہ بازی ۔ ناچ رنگ اور اَور اِن کی مانِند ۔ اِن کی بابت تُمہیں پہلے سے کہے دیتا ہُوں جَیسا کہ پیشتر جتا چُکا ہُوں کہ اَیسے کام کرنے والے خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہ ہوں گے۔

22 مگر رُوح کا پھل مُحبّت ۔ خُوشی ۔ اِطمِینان ۔ تحمُّل ۔ مِہربانی ۔ نیکی ۔ اِیمان داری۔

23 حِلم ۔ پرہیزگاری ہے ۔ اَیسے کاموں کی کوئی شرِیعت مُخالِف نہیں۔

24 اور جو مسِیح یِسُؔوع کے ہیں اُنہوں نے جِسم کو اُس کی رَغبتوں اور خواہِشوں سمیت صلِیب پر کھینچ دِیا ہے۔

25 اگر ہم رُوح کے سبب سے زِندہ ہیں تو رُوح کے مُوافِق چلنا بھی چاہیے۔

26 ہم بے جا فخر کر کے نہ ایک دُوسرے کو چِڑائیں نہ ایک دُوسرے سے جَلیں۔

گلتِیوں 6

ایک دُوسرے کا بوجھ اُٹھاؤ

1 اَے بھائِیو! اگر کوئی آدمی کِسی قصُور میں پکڑا بھی جائے تو تُم جو رُوحانی ہو اُس کو حِلم مِزاجی سے بحال کرو اور اپنا بھی خیال رکھ ۔ کہِیں تُو بھی آزمایش میں نہ پڑ جائے۔

2 تُم ایک دُوسرے کا بار اُٹھاؤ اور یُوں مسِیح کی شرِیعت کو پُورا کرو۔

3 کیونکہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کُچھ سمجھے اور کُچھ بھی نہ ہو تو اپنے آپ کو دھوکادیتا ہے۔

4 پس ہر شخص اپنے ہی کام کو آزما لے ۔ اِس صُورت میں اُسے اپنی ہی بابت فخر کرنے کا مَوقع ہو گا نہ کہ دُوسرے کی بابت۔

5 کیونکہ ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائے گا۔

6 کلام کی تعلِیم پانے والا تعلِیم دینے والے کو سب اچّھی چِیزوں میں شرِیک کرے۔

7 فریب نہ کھاؤ ۔ خُدا ٹھٹّھوں میں نہیں اُڑایا جاتا کیونکہ آدمی جو کُچھ بوتا ہے وُہی کاٹے گا۔

8 جو کوئی اپنے جِسم کے لِئے بوتا ہے وہ جِسم سے ہلاکت کی فصل کاٹے گا اور جو رُوح کے لِئے بوتا ہے وہ رُوح سے ہمیشہ کی زِندگی کی فصل کاٹے گا۔

9 ہم نیک کام کرنے میں ہِمّت نہ ہاریں کیونکہ اگر بے دِل نہ ہوں گے تو عَین وقت پر کاٹیں گے۔

10 پس جہاں تک مَوقع مِلے سب کے ساتھ نیکی کریں خاص کر اہلِ اِیمان کے ساتھ۔ اِختتامی اِنتباہ اور سلام

11 دیکھو ۔ مَیں نے کَیسے بڑے بڑے حَرفوں میں تُم کو اپنے ہاتھ سے لِکھا ہے۔

12 جِتنے لوگ جِسمانی نمُود چاہتے ہیں وہ تُمہیں خَتنہ کرانے پر مجبُور کرتے ہیں ۔ صِرف اِس لِئے کہ مسِیح کی صلِیب کے سبب سے ستائے نہ جائیں۔

13 کیونکہ خَتنہ کرانے والے خُود بھی شرِیعت پر عمل نہیں کرتے مگر تُمہارا خَتنہ اِس لِئے کرانا چاہتے ہیں کہ تُمہاری جِسمانی حالت پر فخر کریں۔

14 لیکن خُدا نہ کرے کہ مَیں کِسی چِیز پر فخر کرُوں سِوا اپنے خُداوند یِسُو ع مسِیح کی صلِیب کے جِس سے دُنیا میرے اِعتبار سے مصلُوب ہُوئی اور مَیں دُنیا کے اِعتبار سے۔

15 کیونکہ نہ خَتنہ کُچھ چِیز ہے نہ نامختُونی بلکہ نئے سِرے سے مخلُوق ہونا۔

16 اور جِتنے اِس قاعِدہ پر چلیں اُنہیں اور خُدا کے اِسرا ئیل کو اِطمِینان اور رَحم حاصِل ہوتا رہے۔

17 آگے کو کوئی مُجھے تکلِیف نہ دے کیونکہ مَیں اپنے جِسم پر یِسُو ع کے داغ لِئے ہُوئے پِھرتا ہُوں۔

18 اَے بھائِیو! ہمارے خُداوند یِسُو ع مسِیح کا فضل تُمہاری رُوح کے ساتھ رہے ۔ آمِین۔

۲-کُرِنتھِیوں 1

تمہید

1 پَولُس کی طرف سے جو خُدا کی مرضی سے مسِیح یِسُوع کا رسُول ہے اور بھائی تِیمُتِھیُس کی طرف سے

خُدا کی اُس کلِیسیا کے نام جو کُرِنتھُس میں ہے اور تمام اَخیہ کے سب مُقدّ سوں کے نام۔

2 ہمارے باپ خُدا اور خُداوند یِسُو ع مسِیح کی طرف سے تُمہیں فضل اور اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے۔

پَولُس خُدا کا شُکر ادا کرتا ہے

3 ہمارے خُداوند یِسُو ع مسِیح کے خُدا اور باپ کی حمد ہو جو رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلّی کا خُدا ہے۔

4 وہ ہماری سب مُصِیبتوں میں ہم کو تسلّی دیتا ہے تاکہ ہم اُس تسلّی کے سبب سے جو خُدا ہمیں بخشتا ہے اُن کو بھی تسلّی دے سکیں جو کِسی طرح کی مُصِیبت میں ہیں۔

5 کیونکہ جِس طرح مسِیح کے دُکھ ہم کو زیادہ پُہنچتے ہیں اُسی طرح ہماری تسلّی بھی مسِیح کے وسِیلہ سے زِیادہ ہوتی ہے۔

6 اگر ہم مُصِیبت اُٹھاتے ہیں تو تُمہاری تسلّی اور نجات کے واسطے اور اگر تسلّی پاتے ہیں تو تُمہاری تسلّی کے واسطے جِس کی تاثِیر سے تُم صبر کے ساتھ اُن دُکھوں کی برداشت کر لیتے ہو جو ہم بھی سہتے ہیں۔

7 اور ہماری اُمّید تُمہارے بارے میں مضبُوط ہے کیو نکہ ہم جانتے ہیں کہ جِس طرح تُم دُکھوں میں شرِیک ہو اُسی طرح تسلّی میں بھی ہو۔

8 اَے بھائِیو! ہم نہیں چاہتے کہ تُم اُس مُصِیبت سے ناواقِف رہو جو آسیہ میں ہم پر پڑی کہ ہم حد سے زیادہ اور طاقت سے باہر پست ہو گئے ۔ یہاں تک کہ ہم نے زِندگی سے بھی ہاتھ دھو لِئے۔

9 بلکہ اپنے اُوپر مَوت کے حُکم کا یقِین کر چُکے تھے تاکہ اپنا بھروسا نہ رکھّیں بلکہ خُدا کا جو مُردوں کو جِلاتا ہے۔

10 چُنانچہ اُسی نے ہم کو اَیسی بڑی ہلاکت سے چُھڑایا اور چُھڑائے گا اور ہم کو اُس سے یہ اُمّید ہے کہ آگے کو بھی چُھڑاتا رہے گا۔

11 اگر تُم بھی مِل کر دُعا سے ہماری مدد کرو گے تاکہ جو نِعمت ہم کو بُہت لوگوں کے وسِیلہ سے مِلی اُس کاشُکر بھی بُہت سے لوگ ہماری طرف سے کریں۔

پَولُس کے منصُوبہ میں تبدیلی

12 کیونکہ ہم کو اپنے دِل کی اِس گواہی پر فخر ہے کہ ہمارا چال چلن دُنیا میں اور خاص کر تُم میں جِسمانی حِکمت کے ساتھ نہیں بلکہ خُدا کے فضل کے ساتھ یعنی اَیسی پاکِیزگی اور صفائی کے ساتھ رہا جو خُدا کے لائِق ہے۔

13 ہم اَور باتیں تُمہیں نہیں لِکھتے سِوا اُن کے جِنہیں تُم پڑھتے یا مانتے ہو اور مُجھے اُمّید ہے کہ آخِر تک مانتے رہو گے۔

14 چُنانچہ تُم میں سے کِتنوں ہی نے مان بھی لِیا ہے کہ ہم تُمہارا فخر ہیں جِس طرح ہمارے خُداوند یِسُو ع کے دِن تُم بھی ہمارا فخر ہو گے۔

15 اور اِسی بھروسے پر مَیں نے یہ اِرادہ کِیا تھا کہ پہلے تُمہارے پاس آؤں تاکہ تُمہیں ایک اَور نِعمت مِلے۔

16 اور تُمہارے پاس ہوتا ہُؤا مَکِدُنیہ کو جاؤں اور مَکِدُنیہ سے پِھر تُمہارے پاس آؤں اور تُم مُجھے یہُودیہ کی طرف روانہ کر دو۔

17 پس مَیں نے جو یہ اِرادہ کِیا تھا تو کیا تَلُّون مِزاجی سے کِیا تھا؟ یا جِن باتوں کا قَصد کرتا ہُوں کیا جِسمانی طَور پر کرتا ہُوں کہ ہاں ہاں بھی کرُوں اور نہیں نہیں بھی کرُوں؟۔

18 خُدا کی سچّائی کی قَسم کہ ہمارے اُس کلام میں جو تُم سے کِیا جاتا ہے ہاں اور نہیں دونوں پائی نہیں جاتِیں۔

19 کیو نکہ خُدا کا بیٹا یِسُو ع مسِیح جِس کی مُنادی ہم نے یعنی مَیں نے اور سِلوانُس اور تِیمُتِھیُس نے تُم میں کی اُس میں ہاں اور نہیں دونوں نہ تِھیں بلکہ اُس میں ہاں ہی ہاں ہُوئی۔

20 کیونکہ خُدا کے جِتنے وعدے ہیں وہ سب اُس میں ہاں کے ساتھ ہیں ۔ اِسی لِئے اُس کے ذرِیعہ سے آمِین بھی ہُوئی تاکہ ہمارے وسِیلہ سے خُدا کا جلال ظاہِر ہو۔

21 اور جو ہم کو تُمہارے ساتھ مسِیح میں قائِم کرتا ہے اور جِس نے ہم کو مَسح کِیا وہ خُدا ہے۔

22 جِس نے ہم پر مُہر بھی کی اور بَیعانہ میں رُوح کو ہمارے دِلوں میں دِیا۔

23 مَیں خُدا کو گواہ کرتا ہُوں کہ مَیں اب تک کُرِنتھُس میں اِس واسطے نہیں آیا کہ مُجھے تُم پر رَحم آتا تھا۔

24 یہ نہیں کہ ہم اِیمان کے بارے میں تُم پر حُکومت جتاتے ہیں بلکہ خُوشی میں تُمہارے مددگار ہیں کیونکہ تُم اِیمان ہی سے قائِم رہتے ہو۔